کسی کو وکیل کر دینے کا بیان

مسئلہ۔ جس کام کو آدمی خود کر سکتا ہے اس میں یہ بھی اختیار ہے کہ کسی اور سے کہہ دے کہ تم ہمارا یہ کام کر دو۔ جیسے بیچنا مول لینا کرایہ پر لینا دینا نکاح کرنا وغیرہ۔ مثلاً ماما کو بازار سودا لینے بھیجا یا ماما کے ذریعہ سے کوئی چیز بکوائی یا یکہ بہلی کرایہ پر منگوایا۔ اور جس سے کام کرایا ہے شریعت میں اس کو وکیل کہتے ہیں ماما کو یا کسی نوکر کو سودا لینے بھیجا تو وہ تمہارا وکیل کہلائے گا۔

مسئلہ۔ تم نے ماما سے گوشت منگوایا وہ ادھار لے آئی تو گوشت والا تم سے دام کا تقاضا نہیں کر سکتا۔ اس ماما سے تقاضا کرے اور وہ ماما تم سے تقاضا کرے گی۔ اسی طرح اگر کوئی چیز تم نے ماما سے بکوائی تو اس لینے والے سے تم کو تقاضا کرنے اور دام کے وصول کرنے کا حق نہیں ہے اس نے جس سے چیز پائی ہے اس کو دام بھی دے گا اور اگر وہ خود تمہیں کو دام دے دے تب بھی جائز ہے مطلب یہ ہے کہ اگر وہ تم کو نہ دے تو تم زبردستی نہیں کر سکتیں۔

مسئلہ۔ تم نے نوکر سے کوئی چیز منگوائی وہ لے آیا تو اس کو اختیار ہے کہ جب تک تم سے دام نہ لے لیوے تب تک وہ چیز تم کو نہ دیوے چاہے اس نے اپنے پاس سے دام دے دیئے ہوں یا ابھی نہ دیئے ہوں دونوں کا ایک حکم ہے۔ البتہ اگر وہ دس پانچ دن کے وعدے پر ادھار لایا ہو تو جتنے دن کا وعدہ کر آیا ہے اس سے پہلے دام نہیں مانگ سکتا۔

مسئلہ۔ تم نے سیر بھر گوشت منگوایا تھا وہ ڈیڑھ سیر اٹھا لایا تو پورا ڈیڑھ سیر لینا واجب نہیں۔ اگر تم نہ لو تو آدھ سیر اس کو لینا پڑے گا۔

مسئلہ۔ تم نے کسی سے کہا کہ فلانی بکری جو فلانے کے یہاں ہے اس کو جا کر دو روپے میں لے آؤ تو اب وہ وکیل وہی بکری خود اپنے لیے نہیں خرید سکتا۔ غرضیکہ جو چیز خاص تم مقرر کر کے بتلا دو اس وقت اس کو اپنے لیے خریدنا درست نہیں۔ البتہ جو دام تم نے بتلائے ہیں اس سے زیادہ میں خرید لیا تو اپنے لیے خریدنا درست ہے اور اگر تم نے کچھ دام نہ بتلائے ہوں تو کسی طرح اپنے لیے نہیں خرید سکتا۔

مسئلہ۔ اگر تم نے کوئی خاص بکری نہیں  بتلائی بس اتنا کہا کہ ایک بکری کی ضرورت ہے ہم کو خرید دو تو وہ اپنے لیے بھی خرید سکتا ہے جو بکری چاہے اپنے لیے خریدے اور جو چاہے تمہارے لیے۔ اگر خود لینے کی نیت سے خریدے تو اس کی ہوئی۔ اور اگر تمہاری نیت سے خریدے تو تمہاری ہوئی اور اگر تمہارے دئیے داموں سے خریدی تو بھی تمہاری ہوئی چاہے جس نیت سے خریدے۔

مسئلہ۔ تمہارے لیے اس نے بکری خریدی پھر ابھی تم کو دینے نہ پایا تھا کہ بکری مر گئی یا چوری ہو گئی تو اس بکری کے دام تم کو دینا پڑیں گے اگر تم کہو کہ تو نے اپنے لیے خریدی تھی ہمارے لیے نہیں خریدی تو اگر تم پہلے اس کو دام دے چکی ہو تو تمہارے گئے۔ اور اگر تم نے ابھی دام نہیں دیئے اور وہ اب دام مانتا ہے تو تم اگر قسم کھا جاؤ کہ تو نے اپنے لیے خریدی تھی تو اس کی بکری گئی اور اگر قسم نہ کھا سکو تو اس کی بات کا اعتبار کرو۔

مسئلہ۔ اگر نوکر یا ماما کوئی چیز گراں خرید لائی تو اگر تھوڑا ہی فرق ہو تب تو تم کو لینا پڑے گا اور دام دینا پڑیں گے اور اگر بہت زیادہ گراں لے آئی کہ اتنے دام کوئی نہیں لگا سکتا تو اس کا لینا واجب نہیں اگر نہ لو تو اس کو لینا پڑے گا۔

مسئلہ۔ تم نے کسی کو کوئی چیز بیچنے کو دی تو اس کو یہ جائز نہیں کہ خود لے لے اور دام تم کو دیوے۔ اسی طرح اگر تم نے کچھ منگوایا کہ فلانی چیز خرید لاؤ تو وہ اپنی چیز تم کو نہیں دے سکتا۔ اگر اپنی چیز دینا یا خود لینا منظور ہو تو صاف صاف کہہ دے کہ یہ چیز میں لیتا ہوں مجھ کو دے دو یا یوں کہہ دے کہ یہ میری چیز تم لے لو۔ اور اتنے دام دے دو۔ بغیر بتلائے ہوئے ایسا کرنا جائز نہیں۔

مسئلہ۔ تم نے ماما سے بکری کا گوشت منگوایا وہ گائے کا لے آئی تو تم کو اختیار ہے چاہے لو چاہے نہ لو۔ اسی طرح تم نے آلو منگوائے وہ بھنڈی یا کچھ اور لے آئی تو اس کا لینا ضروری نہیں۔ اگر تم انکار کرو تو اس کو لینا پڑے گا۔

مسئلہ۔ تم نے ایک پیسہ کی چیز منگوائی وہ دو پیسہ کی لے آئی تو تم کو اختیار ہے کہ ایک ہی پیسہ کے موافق لو۔ اور ایک پیسہ کی جو زائد لائی وہ اسی کے سر ڈالو۔

مسئلہ۔ تم نے دو شخصوں کو بھیجا کہ جاؤ فلانی چیز خرید لاؤ تو خریدتے وقت دونوں کو موجود رہنا چاہیے۔ فقط ایک آدمی کو خریدنا جائز نہیں اگر ایک ہی آدمی خریدے تو وہ بیع موقوف ہے جب تم منظور کر لو گی تو صحیح ہو جائے گی۔

مسئلہ۔ تم نے کسی سے کہا کہ ہمیں ایک گائے یا بکری یا اور کچھ کہا کہ فلانی چیز خرید لا دو۔ اس نے خود نہیں خریدا بلکہ کسی اور سے کہہ دیا اس نے خریدا تو اس کا لینا تمہارے ذمہ واجب نہیں۔ چاہے لو چاہے نہ لو۔ دونوں اختیار ہیں البتہ اگر وہ خود تمہارے لیے خریدے تو تم کو لینا پڑے گا۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔