امانت رکھنے اور رکھانے کا بیان

مسئلہ۔ کسی نے کوئی چیز تمہارے پاس امانت رکھائی اور تم نے لے لی۔ تو اب اس کی حفاظت کرنا تم پر واجب ہو گیا۔ اگر حفاظت میں کوتاہی کی اور وہ چیز ضائع ہو گئی تو اس کا تاوان یعنی ڈانڈ دینا پڑے گا۔ البتہ اگر حفاظت میں کوتاہی نہیں ہوئی پھر بھی کسی وجہ سے وہ چیز جاتی رہی مثلاً چوری ہو گئی یا گھر میں آگ لگ گئی اس میں جل گئی تو اس کا تاوان وہ نہیں لے سکتی بلکہ اگر امانت رکھتے وقت یہ اقرار کر لیا کہ اگر جاتی رہے تو میں ذمہ دار ہوں مجھ سے دام لے لینا تب بھی اس کو تاوان لینے کا اختیار نہیں یوں تم اپنی خوشی سے دے دو وہ اور بات ہے۔

مسئلہ۔ کسی نے کہا میں ذرا کام سے جاتی ہوں میری چیز رکھ لو۔ تو تم نے کہا اچھا رکھ دو تم کچھ نہیں بولیں وہ تمہارے پاس رکھ کر چلی گئی تو امانت ہو گئی۔ البتہ اگر تم نے صاف کہہ دیا کہ میں نہیں جانتی اور کسی کے پاس رکھا دو یا اور کچھ کہہ کے انکار کر دیا پھر بھی وہ رکھ کر چلی گئی تو اب وہ چیز تمہاری امانت میں نہیں ہے البتہ اگر اس کے چلے جانے کے بعد تم نے اٹھا کر رکھ لیا ہو تو اب امانت ہو جائے گی۔

مسئلہ۔ کئی عورتیں بیٹھی تھیں ان کے سپرد کر کے چلی گئی تو سب پر اس چیز کی حفاظت واجب ہے اگر وہ چھوڑ کر چلی گئیں اور وہ چیز جاتی رہی تو تاوان دینا پڑے گا۔ اور اگر سب ساتھ نہیں اٹھیں ایک ایک کر کے اٹھیں توجب سے خیر میں رہ گئی اسی کے ذمہ حفاظت ہو گئی۔ اب وہ اگر چلی گئی اور چیز جاتی رہی تو اسی سے تاوان لیا جائے گا۔

مسئلہ۔ جس کے پاس کوئی امانت ہو اس کو اختیار ہے کہ چاہے خود اپنے پاس حفاظت سے رکھے یا اپنی ماں بہن اپنے شوہر وغیرہ کسی ایسے رشتہ دار کے پاس رکھا دے کہ ایک ہی گھر میں اس کے ساتھ رہتے ہوں جن کے پاس اپنی چیز بھی ضرورت کے وقت رکھا دیتی ہو لیکن اگر کوئی دیانتدار نہ ہو تو اس کے پاس رکھنا درست نہیں۔ اگر جان بوجھ کے ایسے غیر معتبر کے پاس رکھ دیا تو ضائع ہو جانے پر تاوان دینا پڑے گا۔ اور ایسے رشتہ دار کے سوا کسی اور کے پاس بھی پرائی امانت رکھانا بدون مالک کی اجازت کے درست نہیں چاہے وہ بالکل غیر ہو یا کوئی رشتہ دار بھی لگتا ہو اگر اوروں کے پاس رکھا دیا تو بھی ضائع ہو جانے پر تاوان دینا پڑے گا البتہ وہ غیر اگر ایسا شخص ہے کہ یہ اپنی چیزیں بھی اس کے پاس رکھتی ہے تو درست ہے۔

مسئلہ۔ کسی نے کوئی چیز رکھائی اور تم بھول گئیں اسے وہیں چھوڑ کر چلی گئیں تو جاتے رہنے پر تاوان دینا پڑے گا یا کوٹھڑی صندوقچہ وغیرہ قفل کھول کر تم چلی گئیں اور وہاں ایرے غیرے سب جمع ہیں اور وہ چیز اییس ہے کہ عرفا بغیر قفل لگائے اس کی حفاظت نہیں ہو سکتی تب بھی ضائع ہو جانے سے تاوان دینا ہو گا۔

مسئلہ۔ گھر میں آگ لگ گئی تو ایسے وقت غیر کے پاس بھی پرائی امانت کا رکھا دینا جائز ہے لیکن جب وہ عذر جاتا رہا تو فورا لے لینا چاہیے۔ اگر اب واپس نہ لے گی تو تاوان دینا پڑے گا۔ اسی طرح مرتے وقت اگر کوئی اپنے گھر کا آدمی موجود نہ ہو تو پڑوسی کے سپرد کر دینا درست ہے۔ مسئلہ۔ اگر کسی نے کچھ روپے پیسے امانت رکھوائے تو بعینہ ان ہی روپے پیسوں کا حفاظت سے رکھنا واجب ہے نہ تو اپنے روپوں میں ان کا ملانا جائز ہے اور نہ ان کا خرچ کرنا جائز ہے۔ یہ نہ سمجھو کہ روپیہ روپیہ سب برابر۔ لاؤ اس کو خرچ کر ڈالیں جب مانگے گی تو اپنا روپیہ دے دیں گے۔ البتہ اگر اس نے اجازت دے دی ہو تو ایسے وقت خرچ کرنا درست ہے لیکن اس کا یہ حکم ہے کہ اگر وہی روپیہ تم الگ رہنے دو تب تو امانت سمجھا جائے گا۔ اگر جاتا رہا تو تاوان نہ دینا پڑے گا۔ اور اگر تم نے اجازت لے کر اسے خرچ کر دیا تو اب وہ تمہارے ذمہ قرض ہو گیا امانت نہیں رہا۔ لہذا اب بہرحال تم کو دینا پڑے گا۔ اگر خرچ کرنے کے بعد تم نے اتنا ہی روپیہ اس کے نام سے الگ کر کے رکھ دیا تب بھی وہ امانت نہیں وہ تمہارا ہی روپیہ ہے اگر چوری گیا تو تمہارا گیا اس کو پھر دینا پڑے گا غرضیکہ خرچ کرنے کے بعد جب تک اس کو ادا نہ کرو گی تب تک تمہارے ذمہ رہے گا۔

مسئلہ۔ سو روپے کسی نے تمہارے پاس امانت رکھائے اس میں سے پچاس تم نے اجازت لے کر خرچ کر ڈالے تو پچاس روپے تمہارے ذمہ قرض ہو گئے اور پچاس امانت۔ اب جب تمہارے پاس روپے ہوں تو اپنے پاس کے پچاس روپے اس امانت کے پچاس روپے میں نہ ملاؤ اگر اس میں ملا دو گی تو وہ بھی امانت نہ رہیں گے یہ پورے سو روپے تمہارے ذمہ ہو جائیں گے اگر جاتے رہے تو پورے سو دینا پڑیں گے کیونکہ امانت کا روپیہ اپنے روپوں میں ملا دینے سے امانت نہیں رہتا بلکہ قرض ہو جاتا ہے اور ہر حال میں دینا پڑتا ہے۔

مسئلہ۔ تم نے اجازت لے کر اس کو سو روپے اپنے سو روپے میں ملا دئیے تو وہ سب روپیہ دونوں کی شرکت میں ہو گیا۔ اگر چوری ہو گیا تو دونوں کا گیا کچھ نہ دینا پڑے گا اور اگر اس میں سے کچھ چوری ہو گیا کچھ رہ گیا تب بھی آدھا اس کا گیا آدھا اس کا۔ اور اگر سو ایک کے ہوں دو سو ایک کے تو اس کے حصے کے موافق اس کا جائے گا اس کے حصے کے موافق اس کا۔ مثلاً اگر بارہ روپے جاتے رہے تو چار روپے ایک سو روپے والے کے گئے اور آٹھ روپے دو سو والے کے۔ یہ حکم اسی وقت ہے جب اجازت سے ملائے ہوں اور بغیر اجازت کے اپنے روپے میں ملا دیا ہو تو اس کا وہی حکم ہے جو بیان ہو چکا کہ امانت کا روپیہ بلا اجازت اپنے روپوں میں ملا لینے سے قرض ہو جاتا ہے اس لیے اب وہ روپیہ امانت نہیں رہا جو کچھ گیا تمہارا گیا اس کا روپیہ اس کو بہرحال دینا پڑے گا۔

مسئلہ۔ کسی نے بکری یا گائے وغیرہ امانت رکھائی تو اس کا دودھ پینا یا کسی اور طرح اس سے کام لینا درست نہیں۔ البتہ اجازت سے یہ سب جائز ہو جاتا ہے بلا اجازت جتنا دودھ لیا ہے اس کے دام دینے پڑیں گے۔ مسئلہ۔ کسی نے ایک کپڑا یا زیور یا چارپائی وغیرہ رکھائی اس کی بلا اجازت اس کا برتنا درست نہیں اگر اس نے بلا اجازت کپڑا یا زیور پہنا یا چارپائی پر لیتی بیٹھی اور اس کے برتنے کے زمانہ میں وہ کپڑا پھٹ گیا یا چو لے گیا یا زیور چار پائی وغیرہ ٹوٹ گئی یا چوری ہو گئی تو تاوان دینا پڑے گا۔ البتہ اگر توبہ کر کے پھر اسی طرح حفاظت سے رکھ دیا پھر کسی طرح ضائع ہوا تو تاوان نہ دینا پڑے گا۔

مسئلہ۔ صندوق میں سے امانت کا کپڑا نکالا کہ شام کو یہی پہن کر فلانی جگہ جاؤں گی۔ پھر پہننے سے پہلے ہی وہ جاتا رہا تو بھی تاوان دینا پڑے گا۔

مسئلہ۔ امانت کی گائے یا بکری وغیرہ بیمار پڑ گئی تم نے اس کی دوا کی۔ اس دوا سے وہ مر گئی تو تاوان دینا پڑے گا۔ اور اگر دوا نہ کی اور مر گئی تو تاوان نہ دینا ہو گا۔

مسئلہ۔ کسی نے رکھنے کو روپیہ دیا تم نے بٹوے میں ڈال لیا یا ازار بند میں باندھ لیا لیکن ڈالتے وقت وہ روپیہ ازار بند یا بٹوے میں نہیں پڑا بلکہ نیچے گر گیا مگر تم یہی سمجھیں کہ میں نے بٹوے میں رکھ لیا تو تاوان نہ دینا پڑے گا۔

مسئلہ۔ جب وہ اپنی امانت مانگے تو فورا اس کو دے دینا واجب ہے بلا عذر نہ دینا اور دیر کرنا جائز نہیں۔ اگر کسی نے اپنی امانت مانگی تم نے کہا بہن اس وقت ہاتھ خالی نہیں کل لے لینا۔ اس نے کہا اچھا کل ہی سہی تب تو خیر کچھ حرج نہیں اور اگر وہ کل کے لینے پر راضی نہ ہوئی اور نہ دینے سے خفا ہو کر چلی گئی تو اب وہ چیز امانت نہیں رہی۔ اب اگر جاتی رہے گی تو تم کو تاوان دینا پڑے گا۔

مسئلہ۔ کسی نے اپنا آدمی امانت مانگنے کے لیے بھیجا۔ تم کو اختیار ہے کہ اس آدمی کو نہ دو اور کہلا بھیجو کہ وہ خود ہی اپنی چیز لے جائیں ہم کسی اور کو نہ دیں گے اور اگر تم نے اس کو سچا سمجھ کر دے دیا اور پھر مالک نے کہا کہ میں نے اس کو نہ بھیجا تھا تم نے کیوں دے دیا۔ تو وہ تم سے لے سکتا ہے اور تم اس آدمی سے وہ شے لوٹا سکتی ہو۔ اور اگر اس کے پاس سے وہ شے جاتی رہی ہو تو تم اس سے دام نہیں لے سکتی ہو اور مالک تم سے دام لے گا۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔