ہبہ یعنی کسی کو کچھ دے دینے کا بیان

مسئلہ۔ تم نے کسی کو کوئی چیز دی اور اس نے منظور کر لیا یا منہ سے کچھ نہیں کہا بلکہ تم نے اس کے ہاتھ پر رکھ دیا اور اس نے لے لیا تو اب وہ چیز اسی کی ہو گئی اب تمہاری نہیں رہی بلکہ وہی اس کا مالک ہے اس کو شرع میں ہبہ کہتے ہیں۔ لیکن اس کی کئی شرطیں ہیں۔ ایک تو اس کے حوالہ کر دینا اور اس کا قبضہ کر لینا ہے اگر تم نے کہا یہ چیز ہم نے تم کو دے دی اس نے کہا ہم نے لے لی۔ لیکن ابھی تم نے اس کے حوالے نہیں کیا تو یہ دینا صحیح نہیں ہوا ابھی وہ چیز تمہاری ہی ملک ہے البتہ اگر اس نے اس چیز پر قبضہ کر لیا تو اب قبضہ کر لینے کے بعد اس کی مالک بنی۔

مسئلہ۔ تم نے وہ دی ہوئی چیز اس کے سامنے اس طرح رکھ دی کہ اگر وہ اٹھانا چاہے تو لے سکے اور کہہ دیا کہ لو اس کو لے لو تو اس پاس رکھ دینے سے بھی وہ مالک بن گئی۔ ایسا سمجھیں گے کہ اس نے اٹھا لیا اور قبضہ کر لیا۔

مسئلہ۔ بند صندوق میں کچھ کپڑے دے دیئے لیکن اس کی کنجی نہیں دی تو یہ قبضہ نہیں ہوا جب کنجی دے گی تب قبضہ ہو گا۔ اس وقت اس کی مالک بنے گی۔

مسئلہ۔ کسی بوتل میں تیل رکھا ہے یا اور کچھ رکھا ہے تم نے وہ بوتل کسی کو دے دی لیکن تیل نہیں دیا تو یہ دینا صحیح نہیں۔ اگر وہ قبضہ کر لے تب بھی اس کی مالک نہ ہو گی جب اپنا تیل نکال کے دو گی تب وہ مالک ہو گی۔ اور اگر تیل کسی کو دے دیا مگر بوتل نہیں دی اور اس نے بوتل سمیت لے لیا کہ ہم خالی کر کے پھیر دیں گے تو یہ تیل کا دینا صحیح ہے۔ قبضہ کر لینے کے بعد مالک بن جائے گی۔ غرضیکہ جب برتن وغیرہ کوئی چیز دو تو خالی کر کے دینا شرط ہے بغیر خالی کیے دینا صحیح نہیں ہے۔ اسی طرح اگر اسی نے مکان دیا تو اپنا سارا مال اسباب نکال کے خود بھی اس گھر سے نکل کے دینا چاہیے۔

مسئلہ۔ اگر کسی کو آدھی یا تہائی یا چوتھائی چیز دو پوری چیز نہ دو تو اس کا حکم یہ ہے کہ دیکھو وہ کس قسم کی چیز ہے آدھی بانٹ دینے کے بعد بھی کام کی رہے گی یا نہ رہے گی۔ اگر بانٹ دینے کے بعد اس کام کی نہ رہے جیسے چکی کہ اگر بیچوں بیچ سے توڑ کے دے دو تو پسینے کے کام کی نہ رہے گی۔ اور جیسے چوکی پلنگ پتیل لوٹا کٹورہ پیالہ صندوق جانور وغیرہ ایسی چیزوں کو بغیر تقسیم کیے بھی آدھی تہائی جو کچھ دینا منظور ہو دینا جائز ہے اگر وہ قبضہ کر لے تو جتنا حصہ تم نے دیا ہے اس کی مالک بن گئی اور وہ چیز ساجھے میں ہو گئی۔ اور اگر وہ چیز ایسی ہے کہ تقسیم کرنے کے بعد بھی کام کی رہے جیسے زمین گھی کپڑے کا تھان جلانے کی لکڑ اناج غلہ دودھ دہی وغیرہ تو بغیر تقسیم کیے ان کا دینا صحیح نہیں ہے۔ اگر تم نے کسی سے کہا ہم نے اس برتن کا آدھا گھی تم کو دے دیا۔ وہ کہے ہم نے لے لیا تو یہ دینا صحیح نہیں ہوا بلکہ اگر وہ برتن پر قبضہ بھی کر لے تب بھی اس کی مالک نہیں ہوئی۔ ابھی سارا گھی تمہارا ہی ہے۔ ہاں اس کے بعد اگر اس میں آدھا گھی الگ کر کے اس کے حوالے کر دو تو اب البتہ اس کی مالک ہو جائے گی۔

مسئلہ۔ ایک تھان یا ایک مکان یا باغ وغیرہ دو آدمیوں نے مل کر آدھا آدھا خریدا تو جب تک تقسیم نہ کر لو تب تک اپنا آدھا حصہ کسی اور کو دے دینا صحیح نہیں۔

مسئلہ۔ آٹھ آنے یا بارہ آنے پیسے دو شخصوں کو دیئے کہ تم دونوں آدھے آدھے لے لو۔ یہ صحیح نہیں بلکہ آدھے آدھے تقسیم کر کے دینا چاہئیں۔ البتہ اگر وہ دونوں فقیر ہوں تو تقسیم کی ضرورت نہیں اور اگر ایک روپیہ یا ایک پیسہ دو آدمیوں کو دیا تو یہ دینا صحیح ہے۔

مسئلہ۔ بکری یا گائے وغیرہ کے پیٹ میں بچہ ہے تو پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کا دے دینا صحیح نہیں ہے بلکہ اگر پیدا ہونے کے بعد وہ قبضہ بھی کر لے تب بھی مالک نہیں ہوئی۔ اگر دینا ہو تو پیدا ہونے کے بعد پھر سے دے۔

مسئلہ۔ کسی نے بکری دی اور کہا کہ اسی کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کو ہم نہیں دیتے وہ ہمارا ہے تو بکری اور بچہ دونوں اسی کے ہو گئے۔ پیدا ہونے کے بعد بچہ لے لینے کا اختیار نہیں ہے۔

مسئلہ۔ تمہاری کوئی چیز کسی کے پاس امانت رکھی ہے تم نے اسی کو دے دی تو اس صورت میں فقط اتنا کہہ دینے سے کہ میں نے لے لی اس کی مالک ہو جائے گی اب جا کر دوبارہ اس پر قبضہ کرنا شرط نہیں کیونکہ وہ چیز تو اس کے پاس ہی ہے۔

مسئلہ۔ نابالغ لڑکا یا لڑکی اپنی چیز اسی کو دے دی تو اس کا دینا صحیح نہیں ہے اور اس کی چیز لینا بھی ناجائز ہے۔ اس مسئلہ کو خوب یاد رکھو بہت لوگ اس میں مبتلا ہیں۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔