بچوں کو دینے کا بیان

مسئلہ۔ ختنہ وغیرہ کسی تقریب میں چھوٹے بچوں کو جو کچھ دیا جاتا ہے اس سے خاص اس بچہ کو دینا مقصود نہیں ہونا بلکہ ماں باپ کو دینا مقصود ہوتا ہے اس لیے وہ سب نتوے بچہ کی ملک نہیں بلکہ ماں باپ اس کے مالک ہیں جو چاہیں اس کو دیں۔ البتہ اگر کوئی شخص خاص بچہ ہی کو کوئی چیز دے تو پھر وہی بچہ اس کا مالک ہے اگر بچہ سمجھ دار ہے تو خود اسی کا قبضہ کر لینا کافی ہے جب قبضہ کر لیا تو مالک ہو گیا۔ اگر بچہ قبضہ نہ کرے یا قبضہ کرنے کے لائق نہ ہو گو اگر باپ نہ ہو تو دادا کے قبضہ کر لینے سے بچہ مالک ہو جائے گا۔ اگر باپ دادا موجود نہ ہوں تو وہ بچہ جس کی پرورش میں ہے اس کو قبضہ کرنا چاہیے اور باپ دادا کے ہوتے ماں نانی دادی وغیرہ اور کسی کا قبضہ کرنا معتبر نہیں ہے۔

مسئلہ۔ اگر باپ یا اس کے نہ ہونے کے وقت دادا اپنے بیٹے پوتے کو کوئی چیز دینا چاہے تو بس اتنا کہہ دینے سے ہبہ صحیح ہو جائے گا کہ میں نے اس کو یہ چیز دے دی۔ اور باپ دادا نہ ہو اس وقت ماں بھائی وغیرہ بھی اگر اس کو کچھ دینا چاہیں اور وہ بچہ ان کی پرورش میں بھی ہو۔ ان کے اس کہہ دینے سے بھی وہ بچہ مالک ہو گیا کسی کے قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

مسئلہ۔ جو چیز ہو اپنی سب اولاد کو برابر برابر دینا چاہیے۔ لڑکا لڑکی سب کو برابر دے۔ اگر کبھی کسی کو کچھ زیادہ دے دیا تو بھی خیر کچھ حرج نہیں لیکن جسے کم دیا اس کو نقصان دینا مقصود نہ ہو نہیں تو کم دینا درست نہیں ہے۔

مسئلہ۔ جو چیز نابالغ کی ملک ہو اس کا حکم یہ ہے کہ اسی بچے ہی کے کام میں لگانا چاہیے کسی کو اپنے کام میں لانا جائز نہیں خود ماں باپ بھی اپنے کام میں نہ لائیں نہ کسی اور بچہ کے کام میں لگائیں۔

مسئلہ۔ اگر ظاہر میں بچہ کو دیا مگر یقیناً معلوم ہے کہ منظور تو ماں باپ ہی کو دینا ہے مگر اس چیز کو حقیر سمجھ کر بچے ہی کے نام سے دے دیا تو ماں باپ کی ملک ہے وہ جو چاہیں کریں پھر اس میں بھی دیکھ لیں اگر ماں کے علاقہ داروں نے دیا ہے تو ماں کا ہے اگر باپ کے علاقہ داروں نے دیا ہے تو باپ کا ہے۔

مسئلہ۔ اپنے نابالغ لڑکے کے لیے کپڑے بنوائے تو وہ لڑکا مالک ہو گیا۔ یا نابالغ لڑکی کے لیے زیور گہنا بنوایا تو وہ لڑکی اس کی مالک ہو گئی۔ اب ان کپڑوں کا یا اس زیور کا کسی اور لڑکا لڑکی کو دینا درست نہیں جس کے لیے بنوائے ہیں اسی کو دے۔ البتہ اگر بنانے کے وقت صاف کہہ دیا کہ یہ میری ہی چیز ہے مانگے کے طور پر دیتا ہوں تو بنوانے والے کی رہے گی۔ اکثر دستور ہے کہ بڑی بہنیں بعض وقت چھوٹی نابالغ بہنوں سے یا خود اپنی لڑکی سے دوپٹہ وغیرہ کچھ مانگ لیتی ہیں تو ان کی چیز کا ذرا دیر کے لیے مانگ لینا بھی درست نہیں۔

مسئلہ۔ جس طرح خود بچہ اپنی چیز کسی کو دے نہیں سکتا اسی طرح باپ کو نابالغ اولا کی چیز دینے کا اختیار نہیں۔ اگر ماں باپ اس کی چیز کسی کو بالکل دے دیں یا ذرا دیر یا کچھ دن کے لیے مانگی دیں تو اس کا لینا درست نہیں۔ البتہ اگر ماں باپ کو نہایت ضرورت ہو اور وہ چیز کہیں اور سے ان کو نہ مل سکے تو مجبوری اور لاچاری کے وقت اپنی اولاد کی چیز لے لینا درست ہے۔

مسئلہ۔ ماں باپ وغیرہ کو بچے کا مال کسی کو قرض دینا بھی صحیح نہیں بلکہ خود قرض لینا بھی صحیح نہیں خوب یاد رکھو۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔