اجارہ فاسد کا بیان

مسئلہ۔ اگر مکان کرایہ پر لیتے وقت کچھ مدت نہیں بیان کی کہ کتنے دن کے لیے کرایہ پر لیا ہے یا کرایہ نہیں مقرر کیا یوں ہی لے لیا۔ یا یہ شرط کر لی کہ جو کچھ اس میں گر پڑ جائے گا وہ بھی ہم اپنے پاس سے بنوا دیا کریں گے۔ یا کسی کو گھر اس وعدہ پر دیا کہ اس کی مرمت کرا دیا کرے اور اس کا یہی کرایہ ہے۔ یہ سب اجارہ فاسد ہے اور اگر یوں کہہ دے کہ تم اس گھر میں رہو اور مرمت کرا دیا کرو کرایہ کچھ نہیں تو یہ عاریت ہے اور جائز ہے۔

مسئلہ۔ کسی نے یہ کہہ کر مکان کرایہ پر لیا کہ دو روپے ماہوار کرایہ دیا کریں گے تو ایک ہی مہینے کے لیے اجارہ صحیح ہوا۔ مہینے کے بعد مالک کو اس میں سے اٹھا دینے کا اختیار ہے پھر جب دوسرے مہینے میں تم رہ پڑے تو ایک مہینے کا اجارہ اب اور صحیح ہو گیا۔ اسی طرح ہر مہینے میں نیا اجارہ ہوتا رہے گا۔ البتہ اگر یہ بھی کہہ دیا کہ چار مہینے یا چھ مہینے رہوں گا تو جتنی مدت بتلائی ہے اتنی مدت تک اجارہ صحیح ہوا۔ اس سے پہلے مالک تم کو نہیں اٹھا سکتا۔

مسئلہ۔ پیسے کے لیے کسی کو گیہوں دیئے اور کہا کہ اسی میں سے پاؤ بھر آٹا پسائی لے لینا۔ یا کھیت کٹوایا اور کہا کہ اسی میں سے اتنا غلہ مزدوری لے لینا یہ سب فاسد ہے۔

مسئلہ۔ اجارہ فاسد کا یہ حکم ہے کہ جو کچھ طے ہوا ہے وہ نہ دلایا جائے گا بلکہ اتنے کام کے لیے جتنی مزدوری کا دستور ہو یا ایسے گھر کے لیے جتنے کرایہ کا دستور ہو وہ دلایا جائے گا۔ لیکن اگر دستور زیادہ ہے اور طے کم ہوا تھا تو پھر دستور کے موافق نہ دیا جائے گا بلکہ وہی پائے گا جو طے ہوا ہے۔ غرضیکہ جو کم ہو اس کے پانے کا مستحق ہے۔

مسئلہ۔ گانے بجانے ناچنے بندر نچانے وغیرہ جتنی بیہودگیاں ہیں ان کا اجارہ صحیح نہیں بالکل باطل ہے اس لیے کچھ نہ دلایا جائے گا۔

مسئلہ۔ کسی حافظ کو نوکر رکھا کر اتنے دن تک فلانے کی قبر پر پڑھا کرو اور ثواب بخشا کرو۔ یہ صحیح نہیں باطل ہے نہ پڑھنے والے کو ثواب ملے گا نہ مردے کو اور یہ کچھ تنخواہ پانے کا مستحق نہیں۔ مسئلہ۔ پڑھنے کے لیے کوئی کتاب کرایہ پر لی تو یہ صحیح نہیں بلکہ باطل ہے۔

مسئلہ۔ یہ جو دستور ہے کہ بکری گائے بھینس کے گابھن کرنے میں جس کا بکرا بیل بھینسا ہوتا ہے وہ گابھن کرایہ لیتا ہے یہ بالکل حرام ہے۔

مسئلہ۔ بکری یا گائے بھینس کو دودھ پینے کے لیے کرایہ پر لینا درست نہیں۔

مسئلہ۔ جانور کو ادھیان پر دینا درست نہیں یعنی یوں کہنا کہ یہ مرغیاں یا بکریاں لے جاؤ اور پرورش سے اچھی طرح رکھو جو کچھ بچے ہوں وہ آدھے تمہارے آدھے ہمارے یہ درست نہیں ہے۔

مسئلہ۔ گھر سجانے کے لیے جھاڑ فانوس وغیرہ کرایہ پر لینا درست نہیں۔ اگر لایا بھی تو وہ دینے والا کرایہ پانے کا مستحق نہیں۔ البتہ اگر جھاڑ فانوس جلانے کے لیے لایا ہو تو درست ہے۔

مسئلہ۔ کوئی یکہ یا بہلی کرایہ پر کی تو معمولی سے زیادہ بہت آدمیوں کا لد جانا درست نہیں۔ اسی طرح ڈولی میں بلا کہاروں کی اجازت کے دو دو بیٹھ جانا درست نہیں۔

مسئلہ۔ کوئی چیز کھوئی گئی۔ اس نے کہا جو کوئی ہماری چیز بتلا دے کہ کہاں ہے اس کو ایک پیسہ دیں گے۔ تو اگر کوئی بتا دے تب بھی پیسہ پانے کی مستحق نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اجارہ صحیح نہیں ہوا۔ اور اگر کسی خاص آدمی سے کہا ہو کہ اگر تو بتلا دے تو پیسہ دیں گے تو اگر اس نے اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے یا کھڑے کھڑے بتلا دیا تو کچھ نہ پائے گی۔ اور اگر کچھ چل کے بتلایا ہو تو پیسہ دھیلا جو کچھ وعدہ تھا ملے گا۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔