تاوان لینے کا بیان

مسئلہ۔ رنگریز۔ دھوبی۔ درزی وغیرہ کسی پیشہ ور سے کوئی کام کرایا تو وہ چیز جو اس کو دی ہے اس کے پاس امانت ہے اگر چوری ہو جائے یا اور کسی طرح بلا قصد مجبوری سے ضائع ہو جائے تو ان سے تاوان لینا درست نہیں۔ البتہ اگر اس نے اس طرح کندی کی کہ کپڑا پھٹ گیا یا عمدہ ریشمی کپڑا بھٹی پر چڑھا دیا وہ خراب ہو گیا تو اس کا تاوان لینا جائز ہے۔ اسی طرح جو کپڑا اس نے بدل دیا تو اس کا تاوان لینا بھی درست ہے۔ اور اگر کپڑا کھویا گیا اور وہ کہتا ہے معلوم نہیں کیونکہ گیا اور کیا ہوا۔ اس کا تاوان لینا بھی درست ہے۔ اور اگر وہ کہے کہ میرے یہاں چوری ہو گئی اس میں جاتا رہا تو تاوان لینا درست نہیں۔

مسئلہ۔ کسی مزدور کو گھی تیل وغیرہ گھر پہنچانے کو کہا۔ اس سے رستہ میں گر پڑا تو اس کا تاوان لینا جائز ہے۔

مسئلہ۔ اور جو پیشہ ور نہیں بلکہ خاص تمہارے ہی کام کے لیے ہے مثلاً نوکر چاکر یا وہ مزدور جس کو تم نے ایک دن یا دو چار دن کے لیے رکھا ہے اس کے ہاتھ سے جو کچھ جاتا رہے اس کا تاوان لینا جائز نہیں۔ البتہ اگر وہ خود قصداً نقصان کر دے تو تاوان لینا درست ہے۔

مسئلہ۔ لڑکا کھلانے پر جو نوکر ہے اس کی غفلت سے اگر بچے کا زیور یا اور کچھ جاتا رہے تو اس کاتاوان لینا درست نہیں۔


مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔