ساجھے کی چیز تقسیم کرنے کا بیان

مسئلہ۔ دو آدمیوں نے ملک کر بازار سے گیہوں منگوائے تو اب تقسیم کرتے وقت دونوں کا موجود ہونا ضروری نہیں ہے دوسرا حصہ دار موجود نہ ہو تب بھی ٹھیک ٹھیک تول کر اس کا حصہ الگ کر کے اپنا حصہ الگ کر لینا درست ہے۔ جب اپنا حصہ الگ کر لیا تو کھاؤ پیو کسی کو دے دو جو چاہو سو کرو سب جائز ہے۔ اسی طرح گھی تیل انڈے وغیرہ کا بھی حکم ہے۔ غرضیکہ جو چیز ایسی ہو کہ اس میں کچھ فرق نہ ہوتا ہو جیسے کہ انڈے انڈے سب برابر ہیں یا گیہوں کے دو حصے کیے تو جیسا یہ حصہ ویسا وہ حصہ دونوں برابر۔ ایسی سب چیزوں کا یہی حکم ہے کہ دوسرے کے نہ ہوتے وقت بھی حصہ بانٹ کر لینا درست ہے لیکن اگر دوسری نے ابھی اپنا حصہ نہیں لیا تھا کہ کسی طرح جاتا رہا تو وہ نقصان دونوں کا ہو گا جیسے شرکت میں بیان ہوا۔ اور جن چیزوں میں فرق ہوا کرتا ہے جیسے امرود نارنگی وغیرہ ان کا حکم یہ ہے کہ جب تک دونوں حصہ دار موجود نہ ہوں حصہ باٹ کر لینا درست نہیں ہے۔

مسئلہ۔ دو لڑکیوں نے مل کر امرود وغیرہ کچھ منگوایا اور ایک کہیں چلی گئی تو اب اس میں سے کھانا درست نہیں جب وہ آ جائے اس کے سامنے اپنا حصہ الگ کرو تب کھاؤ نہیں تو بہت گناہ ہو گا۔ مسئلہ۔ دو نے مل کر چنے بھنوائے تو فقط اندازے سے تقسیم کرنا درست نہیں بلکہ خوب ٹھیک ٹھیک تولا کرو آدھا آدھا کرنا چاہیے اگر کسی طرف کمی بیشی ہو جائے گی تو سود ہو جائے گا۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔