گروی رکھنے کا بیان

مسئلہ۔ تم نے کسی سے دس روپے قرض لیے اور اعتبار کے لیے اپنی کوئی چیز اس کے پاس رکھ دی کہ تجھے اعتبار نہ ہو تو میری یہ چیز اپنے پاس رکھ لے۔ جب روپے ادا کر دوں تو اپنی چیز لے لوں گی یہ جائز ہے اسی کو گروی کہتے ہیں لیکن سود دینا کسی طرح درست نہیں جیسا کہ آج کل مہاجن سود لے کر گروی رکھتے ہیں یہ درست نہیں۔ سود لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔

مسئلہ۔ جب تم نے کوئی چیز گروی رکھ دی تو اب بغیر قرضہ ادا کیے اپنی چیز کے مانگنے اور لے لینے کا حق نہیں ہے۔

مسئلہ۔ جو چیز تمہارے پاس کسی نے گروی رکھی تو اب اس چیز کو کام میں لانا اس سے کسی طرح کا نفع اٹھانا ایسے باغ کا پھل کھانا ایسی زمین کا غلہ یا روپیہ لے کر کھانا ایسے گھر میں رہنا کچھ درست نہیں ہے۔

مسئلہ۔ اگر بکری گائے وغیرہ گروی ہو تو اس کا دودھ بچہ وغیرہ جو کچھ ہو وہ بھی مالک ہی کے ہیں۔ جس کے پاس گروی ہے اس کو لینا درست نہیں۔ دودھ کو بیچ کر دام کو بھی گروی میں شامل کر دے۔ جب وہ تمہارا قرضہ ادا کر دے تو گروی کی چیز اور یہ دام دودھ کے سب واپس کر دو اور کھلائی کے دام کاٹ لو۔

مسئلہ۔ اگر تم نے اپنا روپیہ کچھ ادا کر دیا تب بھی گروی کی چیز نہیں لے سکتیں جب سب روپیہ ادا کرو گی تب وہ چیز ملے گی۔

مسئلہ۔ اگر تم نے دس روپے قرض لیے اور دس ہی روپے کی چیز یا پندرہ بیس روپے کی چیز گروی کر دی اور وہ چیز اس کے پاس سے جاتی رہی تو اب نہ تو وہ تم سے اپنا کچھ قرض لے سکتا ہے اور نہ تم اس سے اپنی گروی کی چیز کے دام لے سکتی ہو۔ تمہاری چیز گئی اور اس کا روپیہ گیا۔ اور اگر پانچ ہی روپے کی چیز گروی رکھی اور وہ جاتی رہی تو پانچ روپے تم کو دینا پڑیں گے پانچ روپے مجرا ہو گئے۔


مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔