وصیت کا بیان

مسئلہ۔ یہ کہنا کہ میرے مرنے کے بعد میرا اتنا مال فلانے آدمی کو یا فلانے کام میں دے دینا۔ یہ وصیت ہے چاہے تندرستی میں کہے چاہے بیماری میں۔ پھر چاہے اس بیماری میں مر جائے یا تندرست ہو جائے اور جو خود اپنے ہاتھ سے کہیں دے دیں کسی کو قرضہ معاف کر دے تو اس کا حکم یہ ہے کہ تندرستی میں ہر طرح دوست ہے اور اسی طرح جس بیماری سے شفا ہو جائے اس میں بھی درست ہے اور جس بیماری میں مر جائے وہ وصیت ہے جس کا حکم گے تا ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی کے ذمے نمازیں یا روزے یا زکوٰۃ یا قسم درد زہ وغیرہ کا کفارہ باقی رہ گیاہو اور اتنا مال بھی موجود ہو تو مرتے وقت اس کے لیے وصیت کر جانا ضروری اور واجب ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا کچھ قرض ہو یا کوئی امانت اس کے پاس رکھی ہو اس کی وصیت کر دینا بھی واجب ہے نہ کرے گی تو گنہگار ہو گی۔ اور اگر کچھ رشتہ دار غریب ہوں جن کو شرع سے کچھ میراث نہ پہنچتی ہو اور اس کے پاس بہت مال و دولت ہے تو ان کو کچھ دلا دینا اور وصیت کر جانا مستحب ہے اور باقی اور لوگوں کے لیے وصیت کرنے نہ کرنے کا اختیار ہے۔

مسئلہ۔ مرنے کے بعد مردے کے مال میں سے پہلے تو اس کی گوروکفن کا سامان کریں پھر جو کچھ بچے اس سے قرضہ ادا کر دیں۔ اگر مردے کا سارا مال قرضہ ادا کرنے میں لگ جائے تو سارا مال قرضہ میں لگا دیں گے وارثوں کو کچھ نہ ملے گا۔ اس لیے قرضہ ادا کرنے کی وصیت پر بہرحال عمل کریں گے۔ اگر سب مال اس وصیت کی وجہ سے خرچ ہو جائے تب بھی کچھ پروا نہیں بلکہ اگر وصیت بھی نہ کر جائے تب بھی قرضہ اول ادا کر دیں گے اور قرض کے سوا اور چیزوں کی وصیت کا اختیار فقط تہائی مال میں ہوتا ہے۔ یعنی جتنا مال چھوڑا ہے اس کی تہائی میں سے اگر وصیت پوری ہو جائے مثلاً کفن دفن اور قرضے میں لگا کر تین سو روپے اور سو روپے میں سب وصیتیں پوری ہو جائیں تب تو وصیت کو پورا کریں گے اور تہائی مال سے زیادہ لگانا وارثوں کے ذمہ واجب نہیں۔ تہائی میں سے جتنی وصیتیں پوری ہو جائیں اس کو پورا کریں باقی چھوڑ دیں۔ البتہ اگر سب وارث بخوشی رضا مند ہو جائیں کہ ہم اپنا اپنا حصہ نہ لیں گے تم اس کی وصیت میں لگا دو تو البتہ تہائی سے زیادہ بھی وصیت میں لگانا جائز ہے لیکن نابالغوں کی اجازت کا بالکل اعتبار نہیں ہے وہ اگر اجازت بھی دیں تب بھی ان کا حصہ خرچ کرنا درست نہیں۔

مسئلہ۔ جس شخص کو میراث میں مال ملنے والا ہو جیسے ماں باپ شوہر بیٹا وغیرہ اس کے لیے وصیت کرنا صحیح نہیں۔ اور جس رشتہ دار کا اس کے مال میں کچھ حصہ نہ ہو یا رشتہ دار ہی نہ ہو کوئی غیر ہو اس کے لیے وصیت کرنا درست ہے لیکن تہائی مال سے زیادہ دلانے کا اختیار نہیں۔ اگر کسی نے اپنے وارث کو وصیت کر دی کہ میرے بعد اس کو فلانی چیز دے دینا۔ یا اتنا مال دے دینا تو اس وصیت سے پانے کا اس کو کچھ حق نہیں ہے البتہ اگر اور سب وارث راضی ہوں جائیں تو دے دینا جائز ہے۔ اسی طرح اگر کسی کو تہائی سے زیادہ وصیت کر جائے اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر سب وارث بخوشی راضی ہو جائیں تو تہائی سے زیادہ ملے گا ورنہ فقط تہائی مال ملے گا اور نابالغوں کی اجازت کا کسی صورت میں اعتبار نہیں ہے ہر جگہ اس کا خیال رکھو ہم کہاں تک لکھیں۔

مسئلہ۔ اگرچہ تہائی مال میں وصیت کر جانے کا اختیار ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ پوری تہائی کی وصیت نہ کرے کم کی وصیت کرے بلکہ اگر بہت زیادہ مالدار نہ ہو تو وصیت ہی نہ کرے وارثوں کے لیے چھوڑ دے کہ اچھی طرح فراغت سے بسر کریں کیونکہ اپنے وارثوں کو فراغت اور سائش میں چھوڑ جانے میں بھی ثواب ملتا ہے۔ ہاں البتہ اگر ضروری وصیت ہو جیسے نماز روزہ کا فدیہ تو اس کی وصیت بہرحال کر جائے اور نہ گنہگار ہو گی۔

مسئلہ۔ کسی نے کہا میرے بعد میرے مال میں سے سو روپے خیرات کر دینا تو دیکھو گور و کفن اور قرض ادا کرنے کے بعد کتنا مال بچا ہے کہ تین سو یا اس سے زیادہ ہو تو پورے سو روپے دینا چاہئیں۔ اور جو کم ہو تو صرف تہائی دینا واجب ہے۔ ہاں اگر سب وارث بلا کسی دباؤ و لحاظ کے منظور کر لیں تو اور بات ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی کے کوئی وارث نہ ہو تو اس کو پورے مال کی وصیت کر دینا بھی درست ہے اور اگر صرف بیوی ہو تو تین چوتھائی کی وصیت درست ہے۔ اسی طرح اگر کسی کے صرف میاں ہے تو آدھے مال کی وصیت درست ہے۔

مسئلہ۔ نابالغ کا وصیت کرنا درست نہیں۔

مسئلہ۔ یہ وصیت کی کہ میرے جنازہ کی نماز فلاں شخص پڑھائے فلاں شہر میں یا فلانے قبرستان یا فلاں کی قبر کے پاس مجھ کو دفنانا۔ فلانے کپڑے کا کفن دینا۔ میری قبر پکی بنا دینا۔ قبر پر قبہ بنا دینا۔ قبر پر کوئی حافظ بٹھلا دینا کہ پڑھ پڑھ کے بخشا کرے تو اس کا پورا کرنا ضروری نہیں۔ بلکہ تین وصیتیں اخیر کی بالکل جائز نہیں۔ پورا کرنے والا گنہگار ہو گا۔

مسئلہ۔ اگر کوئی وصیت کر کے اپنی وصیت سے لوٹ جائے یعنی کہہ دے کہ اب مجھے ایسا منظور نہیں اس وصیت کا اعتبار نہ کرنا تو وہ وصیت باطل ہو گئی۔

مسئلہ۔ جس طرح تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کر جانا درست نہیں اسی طرح بیماری کی حالت میں اپنے مال کو تہائی سے زیادہ بجز اپنے ضروری خرچ کھانے پینے دوا دارو وغیرہ کے خرچ کرنا بھی درست نہیں۔ اگر تہائی سے زیادہ دے دیا تو بدون اجازت وارثوں کے یہ دنیا صحیح نہیں ہوا۔ جتنا تہائی سے زیادہ ہے وارثوں کو اس کے لے لینے کا اختیار ہے اور نابالغ اگر اجازت دیں تب بھی معتبر نہیں۔ اور وارث کو تہائی کے اندر بھی بدون سب وارثوں کی اجازت کے دینا درست نہیں اور یہ حکم جب ہے کہ اپنی زندگی میں دے کر قبضہ بھی کرا دیا ہو اور اگر دے تو دیا لیکن قبضہ ابھی نہیں ہوا تو مرنے کے بعد وہ دنیا بالکل ہی باطل ہے اس کو کچھ نہ ملے گا وہ سب مال وارثوں کا حق ہے اور یہی حکم ہے بیماری کی حالت میں خدا کی راہ میں دینے اور نیک کام میں لگانے کا۔ غرضیکہ تہائی سے زیادہ کسی طرح صرف کرنا جائز نہیں۔

مسئلہ۔ بیمار کے پاس بیمار پرسی کی رسم سے کچھ لوگ گئے اور کچھ دن یہیں لگ گئے کہ یہیں رہتے اور اس کے مال میں کھاتے پیتے ہیں تو اگر مریض کی خدمت کے لیے ان کے رہنے کی ضرورت ہو تو خیر کچھ حرج نہیں اور اگر ضرورت نہ ہو تو ان کی دعوت مدارات کھانے پینے میں بھی تہائی سے زیادہ لگانا جائز نہیں۔ اور اگر ضرورت بھی نہ ہو اور وہ لوگ وارث ہوں تو تہائی سے کم بھی بالکل جائز نہیں یعنی ان کو اس کے مال میں کھانا جائز نہیں۔ ہاں اگر سب وارث بخوشی اجازت دیں تو جائز ہے۔

مسئلہ۔ ایسی بیماری کی حالت میں جس میں بیمار مر جائے اپنا فرض معاف کرنے کا بھی اختیار نہیں ہے۔ اگر کسی وارث پر قرض تھا اس کو معاف کیا تو معاف نہیں ہوا۔ اگر سب وارث یہ معانی منظور کریں اور بالغ ہوں تب معاف ہو گا۔ اور اگر غیر کو معاف کیا تو تہائی مال سے جتنا زیادہ ہو گا معاف نہ ہو گا۔ اکثر دستور ہے کہ بی بی مرتے وقت اپنا مہر معاف کر دیتی ہے یہ معاف کرنا صحیح نہیں۔

مسئلہ۔ حالت حمل میں درد شروع ہو جانے کے بعد اگر کسی کو کچھ دے یا مہر وغیرہ معاف کرے تو اس کا بھی وہی حکم ہے جو مرتے وقت دینے لینے کا ہے یعنی اگر خدا نہ کرے اس میں مر جائے تب تو یہ وصیت ہے کہ وارث کے لیے کچھ جائز نہیں اور غیر کے لیے تہائی سے زیادہ دینے اور معاف کرنے کا اختیار نہیں۔ البتہ اگر خیرو عافیت سے بچہ ہو گیا تو اب وہ دینا لینا اور معاف کرنا صحیح ہو گا۔ مسئلہ۔ مر جانے کے بعد اس کے مال میں گوروکفن کرو جو کچھ بچے تو سب سے پہلے اس کا قرض ادا کرنا چاہیے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو۔ قرض کا ادا کرنا بہرحال مقدم ہے۔ بی بی کا مہر بھی قرضہ میں داخل ہے۔ اگر قرضہ نہ ہو یا قرضہ سے کچھ بچ رہے تو دیکھنا چاہیے کچھ وصیت تو نہیں کی ہے۔ اگر کی ہے تو تہائی میں وہ جاری ہو گی۔ اور اگر نہیں کی یا وصیت سے جو بچا ہے وہ سب وارثوں کا حق ہے شرع میں جن جن کا حصہ ہو کسی عالم سے پوچھ کر دے دینا چاہیے۔ یہ جو دستور ہے کہ جو جس کے ہاتھ لگا لے بھاگا۔ بڑا گناہ ہے یہاں نہ دو گے تو قیامت میں دینا پڑے گا جہاں روپے کے عوض نیکیاں دینا پڑیں گے۔ اسی طرح لڑکیوں کا صلہ بھی ضرور دینا چاہیے شرع سے ان کا بھی حق ہے۔ مسئلہ۔ مردے کے مال میں سے لوگوں کی مہمانداری والوں کی خاطر مدارات کھانا پلانا۔ صدقہ خیرات وغیرہ کچھ کرنا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح مرنے کے بعد سے دفن کرنے تک جو کچھ اناج وغیرہ فقیروں کو دیا جاتا ہے مردہ کے مال میں سے اس کا دینا بھی حرام ہے۔ مردے کو ہرگز کچھ ثواب نہیں پہنچتا۔ بلکہ ثواب سمجھنا سخت گناہ ہے کیونکہ اب یہ سب مال تو وارثوں کا ہو گیا پرائی حق تلفی کر کے دینا ایسا ہے جیسے غیر کا مال چرا کے دے دینا۔

سب مال وارثوں کو بانٹ دینا چاہیے ان کو اختیار ہے اپنے اپنے حصہ میں سے چاہے شرع کے موافق کچھ کریں یہ نہ کریں بلکہ وارثوں سے اس خرچ کرنے اور خیرات کرنے کی اجازت بھی نہ لینا چاہیے کیونکہ اجازت لینے سے فقط ظاہر دل سے اجازت دیتے ہیں کہ اجازت نہ دینے میں بدنامی ہوئی۔ ایسی اجازت کا کچھ اعتبار نہیں۔

مسئلہ۔ اسی طرح یہ جو دستور ہے کہ اس کے استعمالی کپڑے خیرات کر دیئے جاتے ہیں یہ بھی بغیر اجازت وارثوں کے ہرگز جائز نہیں اور اگر وارثوں میں کوئی نابالغ ہو تب تو اجازت دینے پر بھی جائز نہیں پہلے مال تقسیم کر لو تب بالغ لوگ اپنے حصہ میں سے چاہیں دیں۔ بغیر تقسیم کیے ہرگز نہ دینا چاہیے۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔