بہشتی جوہر ضمیمہ بہشتی زیور حصہ پنجم

حلال مال طلب کرنے کا بیان

حدیث میں ہے کہ حلال مال کا طلب کرنا فرض ہے بعد اور فرض کا مطلب یہ ہے کہ حلال مال کا حاصل کرنا فرض ہے بعد اور فرضوں کے یعنی ان فرضوں کے بعد جو ارکان اسلام ہیں جیسے نماز روزہ وغیرہ یعنی مال حلال کی طلب فرض تو ہے مگر اس فرض کا رتبہ دوسرے فرضوں سے کم ہے جو کہ ارکان اسلام ہیں اور یہ فرض اس شخص کے ذمہ ہے جو مال کا ضروری خرچ کے لیے محتاج ہو۔ خواہ اپنی ضرورت رفع کرنے کو یا اپنے اہل و عیال کی ضرورت رفع کرنے کو۔ اور جس شخص کے پاس بقدر ضرورت موجود ہے مثلاً صاحب جائداد ہے یا اور کسی طرح سے اس کو مال مل گیا تو اس کے ذمہ یہ فرض نہیں رہتا۔ اس لیے کہ مال کو حق تعالی نے حاجتوں کے رفع کرنے کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ بندہ ضروری حاجتیں پوری کر کے اللہ پاک کی عبادت میں مشغول ہو کیونکہ بغیر کھائے پئے عبادت نہیں ہو سکتی پس مال مقصود لذاتہ نہیں بلکہ مطلوب لغیرہ ہے۔ سو جب بقدر ضرورت کے میسر ہو گیا تو خواہ مخواہ حرص کی وجہ سے اس کو طلب کرنا اور بڑھانا نہ چاہیے پس جس کے پاس قدر ضرورت موجود ہو اس پر بڑھانا فرض نہیں۔ بلکہ مال کی حرص خدائے تعالی سے غافل کرنے والی اور اس کی کثرت گناہوں میں مبتلا کرنے والی ہے خوب سمجھ لو اور اس بات کا لحاظ رہے کہ مال حلال میسر آئے۔ حرام کی طرف مسلمانوں کی بالکل توجہ نہ ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ وہ مال بے برکت ہوتا ہے اور ایسا شخص جو کہ حرام خور ہو دین و دنیا میں ذلت اور خدا تعالی کی پھٹکار میں مبتلا رہتا ہے اور بعض جاہلوں کا یہ خیال کہ آجکل حلال مال کمانا غیر ممکن ہے اور حلال مال ملنے سے مایوسی ہے سراسر غلط اور شیطان کا دھوکہ ہے خوب یاد رکھو کہ شریعت پر عمل کرنے والے کی غیب سے مدد ہوتی ہے۔ جس کی نیت حلال کھانے اور حرام سے بچنے کی ہوتی ہے حق تعالی اس کو ایسا ہی مال مرحمت فرماتے ہیں اور یہ امر مشاہدہ سے ثابت ہے اور قرآن و حدیث میں تو جا بجا یہ وعدہ آیا ہے۔


اس نازک زمانہ میں جن خدا کے بندوں نے حرام اور شبہ کے مال سے اپنے نفس کو روک لیا ہے ان کو حق تعالی عمدہ حلال مال مرحمت فرماتے ہیں اور وہ لوگ حرام خوروں سے زیادہ راحت و عزت سے رہتے ہیں جو شخص اپنے ساتھ اور دوسرے حضرات کے ساتھ اللہ تعالی کا یہ معاملہ دیکھتا ہے اور جا بجا قرآن و حدیث میں یہ مضمون پاتا ہے وہ ایسے جاہلوں کے کہنے کی کچھ پرواہ نہیں کر سکتا۔ اور اگر کسی معتبر کتاب میں ایسی باتیں نظر سے گزریں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے جو جاہلوں نے سمجھ رکھا ہے۔ پس جب وہ مضمون دیکھو تو کسی پکے دیندار عالم سے اس کا مطلب دریافت کرو انشاء اللہ تعالی تمہاری تسلی ہو جائے گی۔ اور ایسی بیہودہ باتوں کا وسوسہ دل سے نکل جائے گا خوب سمجھ لو۔


لوگ مال کے باب میں بہت کم احتیاط کرتے ہیں۔ ناجائز نوکریاں کرتے ہیں دوسروں کی حق تلفی کرتے ہیں یہ سب حرام ہے اور خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالی کے یہاں کسی بات کی کمی نہیں۔ جس قدر تقدیر میں لکھا ہے وہ ضرور مل کر رہے گا۔ پھر بدنیتی کرنا اور دوزخ میں جانے کی تیاری کرنا کون سی عقل کی بات ہے چونکہ لوگوں کو مال حلال کی طرف توجہ بہت کم ہے اس لیے بار بار تاکید سے یہ مضمون بیان کیا گیا دنیا میں اصل مقصود انسان اور جن کی پیدائش سے یہ ہے کہ انسان اور جن حق تعالی کی عبادت کریں۔ لہذا اس بات کا ہر معاملہ میں خیال رکھو اور کھانا پینا اس لیے ہے کہ قوت پیدا ہو جس سے خدا کا نام لے سکے یہ مطلب نہیں ہے کہ شب و روز لذتوں میں مشغول رہے اور اللہ میاں کو بھول جائے اور ان کی نافرمانی کرے۔ بعضے جاہلوں کا یہ خیال کہ دنیا میں فقط کھانے پہننے اور لذتیں اڑانے کے لیے آئے ہیں سخت بد دینی کی بات ہے اللہ تعالی جہالت کا ناس کرے کیسی بری بلا ہے۔


حدیث میں ہے فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی نے نہیں کھایا کوئی کھانا کبھی بہتر اس کھانے سے جو اپنے دونوں ہاتھوں کے عمل سے ہو اور بے شک خدا کے نبی حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ہاتھوں کے عمل سے کھاتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے ہاتھ کی کمائی بہت عمدہ چیز ہے مثلاً کوئی پیشہ کرنا یا تجارت کرنا وغیرہ خواہ مخواہ کسی پر بوجھ ڈالنا نہ چاہیے اور پیشہ کو حقیر نہ سمجھنا چاہیے جب اس قسم کے کام حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام نے کیے ہیں تو اور کون ایسا شخص ہے جس کی آبرو ان حضرات سے بڑھ کر ہے بلکہ کسی کی آبرو ان حضرات کے برابر بھی نہیں ان سے بڑھ کر تو کیا ہوتی ایک حدیث میں آیا ہے کوئی نبی ایسے نہیں ہوئے جنہوں نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ خوب سمجھ لو اور جہالت سے بچو اور بعضے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس مال حلال ہو مگر اپنے ہاتھ کا کمایا ہوا نہ ہو بلکہ میراث میں ملا ہو یا کسی اور حلال ذریعہ سے میسر آیا ہو تو خواہ مخواہ اپنے کمانے کی فکر کرتے ہیں اور اس کو عبادت میں مشغول ہونے سے بہتر سمجھتے ہیں یہ سخت غلطی ہے بلکہ ایسے شخص کے لیے عبادت میں مشغول ہونا بہتر ہے جب اللہ نے اطمینان دیا اور رزق کی فکر سے فارغ البال کیا تو پھر بڑی ناشکری ہے کہ اس کا نام اچھی طرح نہ لے اور مال ہی کو بڑھائے جائے بلکہ مال حلال تو جس طرح سے میسر آئے بشرطیکہ کوئی ذات نہ اٹھانی پڑے وہ سب عمدہ ہے اور اللہ کی بڑی نعمت ہے اس کی بڑی قدر کرنی چاہیے اور انتظام سے خرچ کرنا چاہیے فضول نہ اڑانا چاہیے۔


اور حدیث کا مطلب تو یہ ہے کہ لوگ اپنا بار کسی پر نہ ڈالیں اور لوگوں سے بھیک نہ مانگیں جب تک کوئی خاص ایسی مجبوری نہ ہو جس کو شریعت نے مجبوری قرار دیا ہو اور پیشہ کو حقیر نہ سمجھیں اور حلال مال طلب کریں کمائی کو عیب نہ سمجھیں سو اس وجہ سے یہ مضمون مبالغہ کے طور پر بیان فرمایا گیا تاکہ لوگ اپنے ہاتھ سے کمانے کو برا نہ سمجھیں اور کمائیں اور کھائیں اور کھلائیں اور خیرات کریں حدیث کی یہ غرض نہیں ہے کہ سوائے اپنے ہاتھ کی کمائی کے اور کسی طرح سے جو حلال مال ملا ہو وہ حلال نہیں آیا ہاتھ کی کمائی کے برابر نہیں بلکہ بعض مال اپنے ہاتھ کی کمائی سے بڑھ کر ہوتا ہے اور بعضے ناواقف سچے خاصان خدا پر جو متوکل ہیں طعن کرتے ہیں اور دلیل میں یہ حدیث پیش کرتے ہیں جو مذکور ہوئی کہ ان کو اپنے ہاتھ سے کمانا چاہیے۔ محض توکل پر بیٹھنا اور نذرانوں سے گزر کرنا اچھا نہیں۔ یہ ان کی سخت نادانی ہے اور یہ اعتراض جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔ ڈرنا چاہیے سخت اندیشہ ہے کہ ان بزرگوں کو بے ادبی اور ان پر لعن و طعن سے دارین میں بلانا نازل ہوا اور طعن کرنے والوں کو ہلا کر دے بلکہ اولیاء اللہ کی بے ادبی سے ایمان جاتے رہنے اور برا خاتمہ ہونے کا اندیشہ ہے اللہ تعالی اس شخص کو اس دن سے پہلے ناپید کر دے جس دن بزرگوں پر اعتراض کرے کہ اس کے حق میں یہی بہتر ہے۔ میں کہتا ہوں کہ قرآن و حدیث میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے بشرطیکہ انصاف سے اور طلب حق کے لیے تامل کیا جائے کہ جس شخص میں توکل کی شرطیں پائی جائیں تو اس کے لیے توکل کرنا کمانے سے بدرجہا افضل ہے اور یہ اعلی مقام ہے مقامات ولایت سے۔


جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود متوکل تھے اور جو آمدنی متوکل کو ہوتی ہے وہ ہاتھ کی کمائی سے بہت بہتر ہے اور اس میں خاص برکت اور خاص نور ہے جسے اللہ تعالی نے یہ مرتبہ مرحمت فرمایا ہے اور بصیرت اور فہم اور نور عطا فرمایا ہے وہ کھلی آنکھوں اس کی برکت دیکھتا ہے اور اس کا تفصیلی بیان کسی خاص موقع پر کیا جائے گا۔ چونکہ یہ مختصر رسالہ ہے اس لیے طوالت کی گنجائش نہیں اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ یہ قول سراسر غلط ہے جیسا کہ بیان ہوا۔ اور بڑی بے انصافی کی بات ہے کہ ایک تو خود نیک کام سے محروم رہو اور دوسرا کرے تو اس پر لعن وطعن کرو۔ کیا حق تعالی کو منہ دکھاؤ گے جبکہ اس کے دوستوں کے درپے ہوتے ہو۔ اور علاوہ فائدہ مذکورہ کے توکل اختیار کرنے میں بہت سے دینی فائدے ہیں اور وہ متوکلین جو مخلوق کی تعلیم کرتے ہیں ان کی خدمت کرنا تو بقدر ان کے ضروری خرچ پورا ہونے کے فرض ہے سو اپنا حق نذرانہ سے لینا کیوں برا سمجھا گیا جبکہ غیر متوکلین بھی اپنے حقوق خوب مار دھاڑ سے لڑائی لڑ کر وصول کرتے ہیں حالانکہ متوکلین تو بہت تہذیب اور لوگوں کی بڑی آرزو کرنے سے اپنا حق قبول کرتے ہیں اور نذرانہ قبول کرنے میں جب کہ ذلت نہ ہو اور استغنا اور بے پروائی سے لیا جائے۔ خصوصاً جبکہ اس کے واپس کرنے میں دینے والے کی سخت دلشکنی ہو تو ظاہر ہے کہ اس میں بھلائی ہی بھلائی ہے حقیقت یہ ہے کہ ایسے حضرات جو سچے متوکل ہیں ان کو بڑی عزت سے روزی میسر ہوتی ہے مگر ان کی نیت اور توجہ محض خدا کے بھروسہ پر ہوتی ہے مخلوق کی طرف نگاہ نہیں ہوتی اور جو طمع رکھے مخلوق سے اور نگاہ کرے ان کے مال پر وہ دغا باز ہے وہ ہمارے اس کلام سے خارج ہے۔ ہم نے تو سچے توکل والوں کی حالت بیان کی ہے کسی کو حقیر سمجھنا خصوصاً خاصان خدا کو بڑا سخت گناہ ہے اور ان حضرات کا اس میں کوئی ضرر نہیں بلکہ نفع ہے کہ برا کہنے والوں کی نیکیاں قیامت کے روز ان کو ملیں گی۔


تباہی تو ان کی ہے جو برا کہتے ہیں کہ دین و دنیا تباہ ہوتی ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ توکل کی اجازت ہر شخص کو شریعت نے نہیں دی ہے اس کی ہمت کرنا اور اس کی شرطوں کا پورا ہونا بہت دشوار ہے۔ اسی وجہ سے ایسے حضرات بہت کم پائے جاتے ہیں گویا کہ معدوم ہیں۔ اور بہت اچھی چیز ہمیشہ کم ہی ہوتی ہے۔ اللہ پاک کا بے حد شکر ہے کہ یہ مقام محض معمولی توجہ سے بہت عمدہ تحریر ہو گیا۔ اللہ تعالی ہم کو اور آپ کو عمل کی توفیق دیں آمین۔


حدیث میں ہے کہ تحقیق اللہ تعالی طیب ہے یعنی کمالات کے ساتھ موصوف اور تمام عیبوں سے پاک نہیں قبول کرتا ہے مگر طیب کو یعنی اللہ پاک طیب مال یعنی حلال مال قبول فرماتا ہے حرام مال وہاں مقبول نہیں بلکہ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ حرام مال خیرات کے ثواب کی امید رکھنا کفر ہے اور اللہ نے حکم کیا مومنوں کو اس چیز کا جس کا کہ حکم فرمایا مرسلین کو یعنی رسولوں کو پس فرمایا اے رسولو کھاؤ پاک چیزیں یعنی حلال اور عمل کرو اچھے اور فرمایا اللہ تعالی نے اے ایمان والو کھاؤ پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تم کو دی ہیں۔ پھر ذکر فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کا جو لمبا سفر کرتا ہے حج کرنے علم طلب کرنے وغیرہ کو اس حال میں کہ پراگندہ حال اور گرد آلود ہوتا ہے سفر کی مشقت سے اور ہاتھ بڑھاتا ہے آسمان کی طرف اور کہتا ہے اے میرے پروردگار اے میرے پروردگار یعنی اللہ پاک سے بار بار سوال کرتا ہے کہ رحم فرما کر مقصود عطا کر دے حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے اور اس کا پینا حرام ہے اور اس کا لباس حرام ہے یعنی خوردو نوش اور لباس مال حرام سے حاصل کرتا ہے اور پالا گیا مال حرام سے یعنی مال حرام سے گزر کرتا ہے اسی سے پرورش پاتا ہے ہاں جس کو والدین نے نابالغی کی حالت میں مال حرام سے پرورش کیا ہو اور بالغ ہو کر اس نے حلال مال حاصل کیا اور اس کو اپنی خورد و نوش و لباس میں صرف کیا تو وہ شخص اس حکم سے خارج ہے نابالغ ہونے کی حالت کا گناہ فقط والدین پر ہے پس کیونکر قبول کی جائے گی وہ دعا اس کے لیے رواہ مسلم یعنی باوجود اس قدر مشقتوں کے مال حرام کے استعمال کی وجہ سے ہرگز دعا مقبول نہ ہو گی۔


اور اگر کبھی مقصود حاصل بھی ہو گیا تو وہ دعا کے سبب سے نہیں بلکہ اس کا حاصل ہونا تقدیر الٰہی کی وجہ سے ہے جیسے رحمت کی وجہ سے اس کو اس کا مطلوب عطا فرمائیں اور اس طلب پر ثواب عنایت ہو سو یہ بات اسی کو میسر ہوتی ہے جو شریعت کا پابند اور اللہ پاک سے مقصود طلب کرے یہاں سے معلوم ہوا کہ حلال کھانے میں بڑے برکت ہے اور واقعی اس کی خاص تاثیر ہے اور ایسا مال کھانے سے نیکی کی قوت پیدا ہوتی ہے اعضاء عقل کی تابعداری کرتے ہیں۔ حضرت سیدنا و مولانا ابو حامد محمد غزالی نور اللہ مرقدہ ایک بہت بڑے درویش سے یعنی حضرت سہیل سے نقل فرماتے ہیں کہ جو حرام کھاتا ہے اعضاء اس کی عقل کی اطاعت چھوڑ دیتے ہیں یعنی عقل نیکی کا حکم کرتی ہے اور وہ اس کی اطاعت نہیں کرتے مگر یہ بات ان ہی حضرات کو معلوم ہوتی ہے جن کے دل کی آنکھیں روشن ہیں ورنہ جن کا دل سیاہ ہے وہ تو شب و روز اس میں مشغول رہتے ہیں اور خوب لذت اڑاتے ہیں اور ان کو کچھ بھی اثر نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی قلب کی حس اور دل کی بینائی اور بصیرت کو قائم رکھے آمین حضرت سیدنا عبداللہ بن مبارک جو بڑے عالم اور زاہد اور حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں فرماتے ہیں کہ مجھے ایک درہم مشتبہ مال کا لوٹا دینا جو مجھے ملے خواہ ہدیہ کے ذریعہ سے یا کسی اور طرح زیادہ محبوب ہے چھ لاکھ درہم خیرات کرنے سے۔ یہاں سے اندازہ کرنا چاہیے کہ مشتبہ مال کی کیا قدر ہے۔ افسوس کہ لوگ صریح حرام بھی نہیں چھوڑتے۔ روپیہ ملے کسی طرح ملے۔ اور بزرگان دین مشتبہ مال کو اس قدر برا سمجھتے تھے حرام مال سے بچنا سب کے ذمہ ضرور ہے اس سے بہت بڑی احتیاط لازم ہے۔ برا مال کھانے سے بے حد خرابیاں نفس میں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ انسان کا ہلاک کرنے والا ہے۔


حدیث میں ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہ کی چیزیں ہیں یعنی ان کے حلال اور حرام ہونے میں شبہ ہے بعضے اعتبار سے ان کا حلال ہونا معلوم ہوتا ہے اور بعضے اعتبار سے ان کا حرام ہونا معلوم ہوتا ہے جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ اور کم ہیں ایسے لوگ جو ان کو جانتے ہیں اور وہ بڑے بڑے عالم متقی ہیں جو اپنے علم پر اچھی طرح عمل کرتے ہیں پس جس شخص نے پرہیز کیا ہے شبہ کی چیزوں سے بچا لیا اس نے اپنے دین کو یعنی عذاب دوزخ سے پناہ مل گئی اور اپنی آبرو کو یعنی طعنہ دینے والوں سے اپنی آبرو بچا لی اس لیے کہ خلاف شرع شخص کو لوگ طعنہ دیتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ دین و دنیا کی بے عزتی سے بچنا ہر ذی عقل پر ضروری ہے اور جو شخص واقع ہوا شبہ کی چیزوں میں وہ واقع ہو گا حرام میں یعنی جو شخص شبہ کی باتوں سے پرہیز نہیں کرتا وہ رفتہ رفتہ صریح حرام باتوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جہاں نفس کو ذرا گنجائش دی گئی وہ رفتہ رفتہ اس قدر خرابی برپا کرتا ہے کہ خدا کی پناہ ہلاک ہی کر دیتا ہے۔ سو جو شخص مال کے بارے میں احتیاط نہ کرے جو ملے اس کو قبول کر لے کسی شبہ کی پرواہ ہی نہ کرے وہ عنقریب حرام کھانے لگے گا۔ نفس کو ہمیشہ شریعت کا قیدی بنا رکھنا چاہیے کبھی آزادی نہ دے۔ اور گو ایسے شبہ کا مال کھانا جس کا یہ حال معلوم نہ ہو کہ اس میں کتنا حلال ملا ہے اور کتنا حرام جائز ہے لیکن مکروہ ہے اور رفتہ رفتہ شبہ سے صریح حرام میں مبتلا ہونے کا سخت اندیشہ ہے۔ لہذا چاہیے کہ شبہ کی باتوں سے بھی بچے کہ اصل مقصود اور ہمت کی بات یہی ہے خوب سمجھ لو۔


مثل اس چرواہے کے جو چراتا ہے گرد اس چراگاہ کے جس کو بادشاہ نے اپنے جانور چرانے کے لیے خاص کر لیا ہے قریب ہے یہ کہ چراوے اس چراگاہ میں یعنی جو ایسی چراگاہ کے گرد چراتا ہے وہ عنقریب خاص چراگاہ ہی میں چرانے لگے گا یا تو اس طرح کہ جانوروں کا اس طریق پر چرانا کہ اس حد سے آگے نہ بڑھیں دشوار ہے یا اس طرح کہ خود چرواہے ہی کو عنقریب ایسی دلیری ہو جائے گی کہ وہ اس قدر احتیاط نہ کرے گا اسی طرح نفس کو احتیاط نہیں ہوتی اور کبھی تو ابتداء ہی سے جہاں شبہ کے درجہ پر پہنچا حرام میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اور کبھی کچھ دنوں کے بعد یہ حالت ہوتی ہے۔ اور یاد رکھنا چاہیے کہ خود روگھاس کے چراگاہ کو صرف اپنے لیے خاص کر لینا اور دوسروں کو اس میں چرانے سے روکنا زمینداروں کو جائز نہیں اور یہاں تو فقط مثال بیان کرنا مقصود ہے آگاہ رہو کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہے اور آگاہ رہو کہ اللہ کی چراگاہ جس کی حفاظت کی گئی ہے اس کے محارم ہیں یعنی جن چیزوں کو اس نے حرام فرما دیا ہے تو جو شخص ان حرام چیزوں میں واقع ہو گا وہ اللہ تعالی کی خیانت کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ بادشاہ کی خیانت کرنا بغاوت ہے اور حق تعالی چونکہ اعلی درجہ کے بادشاہ ہیں لہذا ان کی خیانت اعلی درجہ کی بغاوت ہے جس کی سزا بھی بہت بڑی ہے آگاہ رہو کہ انسان کے بدن میں ایک بوٹی ہے جبکہ وہ درست ہو گئی اور اس میں باطنی یا ظاہری خرابی نہ پیدا ہو گی کل بدن درست ہو گا اور جبکہ وہ فاسد اور خراب ہو گی تو خراب ہو گا تمام بدن آگاہ رہو وہ بوٹی دل ہے اخرجہ الشیخان یعنی دل سلطان البدن ہے۔ قلب کی درستی سے تمام اعضاء کی درستی رہتی ہے اور قلب کی درستی موقوف ہے اطاعت الٰہی پر۔ گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے حاصل یہ ہوا کہ نیکیوں کا وجود موقوف ہے قلب کی درستی اور صفائی پر اور قلب کی صفائی میں اکل حلال کو خاص دخل ہے۔ پس اس سے ترغیب ہو گئی اہتمام اکل حلال پر۔


حدیث میں ہے کہ فرمایا جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلاک کرے اللہ تعالی یہود کو حرام کی گئیں ان پر چربیاں یعنی گائے اور بکری کی چربی جیسا کہ قرآن مجید میں ہے پس انہوں نے اس چربی کو گلا پھر انہوں نے اس کو فروخت کیا متفق علیہ یعنی حیلہ کیا کہ خود چربی نہیں کھائی بلکہ اس کے دام کھائے اور اس کو یہ سمجھے کہ یہ چربی کھانا نہیں ہے۔ حالانکہ اس حکم کا حاصل یہ تھا کہ چربی سے بالکل منتفع مت ہو اس میں بیچ کر دام کھانا بھی داخل تھا۔ آجکل بعضے سود خواروں نے اسی قسم کے حیلے پیدا کر لیے ہیں تاکہ ظاہر میں سود سے بچ جائیں اور حقیقت میں سود کھائیں لیکن حق تعالی عالم الغب  ہے نیت کو خوب جانتا ہے ہرگز ہرگز ایسے حیلے نکالنا روا نہیں۔ حدیث میں ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں ہے یہ بات کہ کمائے بندہ مال حرام کو پس صدقہ دے اس میں سے سو اس سے قبول کیا جائے اور نہ یہ کہ رچ کرے اس میں سے پس برکت دی جائے اس کے لیے اس مال میں اور نہ یہ کہ چھوڑے اپنے پیچھے مگر ہو وہ چھوڑنا توشہ اس کے لیے۔ بلکہ ہو گا پہنچانے والا دوزخ کی طرف یعنی مال حرام کما کر اگر صدقہ کرے قبول نہ ہو گا اور خاک نہ ملے گا۔ بلکہ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ حرام مال خیرات کر کے ثواب کی امید رکھنا کفر ہے اور فقیر جس کو مال حرام دیا گیا ہے اس نیت سے کہ دینے والے کو ثواب ہو اگر جانتا ہے کہ یہ مال اس طرح کا مجھے دیا گیا ہے اور وہ باوجود جاننے کے خیرات دینے والے کو دعا دے تو وہ بھی ان علماء کے قول پر کافر ہو جائے گا اور اگر ایسا مال کسی اور خرچ میں لایا جائے تو بھی کچھ برکت نہ ہو گی اور اگر اپنے بعد ایسا مال چھوڑے گا تو اس کی وجہ سے جہنم میں داخل ہو گا۔ کھائیں گے وارث اور عذاب میں مبتلا ہو گا۔


غرض مال حرام میں بجز ضرر کے کوئی نفع نہیں بے شک اللہ تعالی نہیں دور کرتا ہے برائی کو برائی کے ذریعہ سے پس چونکہ حرام مال خیرات کرنا منع ہے اور گناہ ہے سو اس گناہ کے ذریعہ سے اور گناہ نہیں معاف ہو سکتے لیکن دور کرتا ہے برائی کو بھلائی سے پس حلال مال صدقہ کرنا گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے جبکہ باقاعدہ اور شریعت کے موافق خیرات کرے تحقیق خبیث یعنی مال حرام نہیں دور کرتا ہے خبیث کو رواہ احمد منہ یعنی گناہ کو حدیث میں ہے جنت میں وہ گوشت نہ داخل ہو گا جو پلا ہے اور بڑھا ہے مال حرام سے اور ہر ایسا گوشت جو پلا بڑھا ہے مال حرام سے جہنم ہی اس کے لائق ہے۔ رواہ احمد وغیرہ یعنی حرام خور جنت میں بغیر سزا بھگتے داخل نہ ہو گا۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ کفار کی طرح کبھی داخل جنت نہ ہو گا بلکہ اگر وہ اسلام پر مرا تھا حرام خور تو اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر جنت میں داخل ہو جائے گا۔ اور اگر حرام کھانے سے توبہ کرے مرنے سے پہلے اور جس کا حق اس کے ذمہ ہو وہ ادا کر دے تو البتہ حق تعالی اس کا یہ گناہ معاف فرمائیں گے اور اس حدیث میں جو عذاب مذکور ہے اس سے محفوظ رہے گا۔


حدیث میں ہے کہ بندہ نہیں ہوتا ہے پورے پرہیز گاروں میں سے یہاں تک کہ چھوڑ دے اس چیز کو جس میں کچھ ڈر نہیں بسبب اس چیز کے جس میں اندیشہ ہے۔ رواہ الترمذی و ابن ماجہ یعنی کوئی چیز بالکل حلال ہے اور کوئی کام مباح اور جائز ہے۔ مگر اس میں متوجہ ہونے سے اور ایسے مال کے کھانے سے کسی گناہ ہو جانے کا ڈر اور احتمال ہے تو اس حلال مال کو بھی نہ کھائے اور ایسے جائز کام کو بھی نہ کرے اس لیے کہ اگرچہ یہ کام کرنا اور یہ مال کھانا گناہ نہیں مگر اس کے ذریعہ سے گناہ ہو جانے کا ڈر ہے اور برے کام کا ذریعہ بھی برا ہوتا ہے مثلاً عمدہ کھانے اور لباس میں مشغول ہونا جائز اور حلال ہے مگر چونکہ حد سے زیادہ لذتوں میں مشغول ہونے سے گناہوں کے صادر ہونے کا اندیشہ ہے اس لیے کمال تقوی اور اعلی درجہ کی پرہیز گاری یہ ہے کہ ایسے کاموں سے بھی بچے یا شبہ کا مال کھانا مکروہ ہے مگر اس میں ہمت کھانے کی کرنے سے اندیشہ ہے کہ عنقریب نفس ایسا ہے بے قابو ہو جائے گا کہ حرام کھانے لگے گا تو ایسے مال سے بھی بچنا چاہیے۔ حضرت عائشہ۔


سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کا ایک غلام تھا جو ان کو خراج دیتا تھا یہاں خراج سے وہ محصول مراد ہے جو غلام پر مقرر کیا جاتا ہے اس کی ساری کمائی میں سے کچھ کمائی مالک لیتا ہے پس حضرت ابوبکر وہ محصول اس غلام کا کھاتے تھے سو لایا وہ ایک دن کچھ کھانے کی چیز اور حضرت ابوبکر نے اس میں سے کچھ کھا لیا تو غلام نے کہا تمہیں معلوم ہے کیا تھی یہ چیز جسے تم نے کھایا اور کہاں سے آئی پس فرمایا حضرت ابوبکر نے کون سی چیز تھی وہ جسے میں نے کھا لیا اس نے کہا میں نے جاہلیت کے زمانہ میں یعنی اسلام سے پہلے ایک آدمی کو کاہنوں کے قاعدہ سے کوئی خبر دی تھی اور میں اس کام کو اچھی طرح نہیں جانتا تھا یعنی کاہن لوگ جس طرح کچھ باتیں بتلاتے ہیں اور وہ کبھی جھوٹ اور غلط اور کبھی سچ اور صحیح ہو جاتی ہیں اور اس کا سچ ماننا بھی منع ہے اور جو اس فن کے انہوں نے قاعدے مقرر کیے ہیں میں ان سے اچھی طرح واقف نہ تھا مگر بے شک میں نے اس آدمی کو دھوکہ دیا پھر وہ مجھے ملا سو اس نے مجھے وہ چیز جو آپ نے کھائی دی بذریعہ اس کے یعنی جو بات میں نے اس کو بتلا دی تھی اس کے عوض تو وہ یہ چیز ہے جس میں سے آپ نے کھایا۔ پس داخل فرمایا حضرت ابوبکر نے اپنا ہاتھ حلق میں پھر قے فرمایا یعنی نکال دیا تمام اس چیز کو جو ان کے پیٹ میں تھا یعنی احتیاط اور کمال تقوی کی وجہ سے تمام کھانا پیٹ کے اندر کا نکال دیا کیونکہ خالص اس کھانے کا نکالنا تو غیر ممکن تھا سو تمام پیٹ خالی کر دیا حالانکہ اگر آپ قے نہ فرماتے جب بھی گناہ نہ ہوتا۔

حدیث میں ہے کہ جس نے کوئی کپڑا دس درہم کو خریدا اور اس میں ایک درہم حرام کا تھا نہ قبول فرمائے گا حق تعالی اس کی نماز جب تک کہ وہ کپڑا اس کے بدن پر رہے گا یعنی گو فرض ادا ہو جائے گا مگر نماز کا پورا ثواب نہ ملے گا اور اسی طرح اور اعمال کو بھی قیاس کر لو۔ خدا سے ڈرنا چاہیے کہ اول تو لوگوں سے عبادت ہی کیا ہوتی ہے اور جو ہوتی ہے وہ اس طرح ضائع ہو پھر کیا جواب دیا جائے گا قیامت کے روز اور کیسے عذاب دردناک کی برداشت ہو گی


حدیث میں ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شک میں ایسی چیز نہیں جانتا ہوں جو تمہیں جنت سے قریب کر دے اور دوزخ سے دور کر دے مگر یہ بات ہے کہ میں نے تم کو اس کا حکم کر دیا ہے یعنی جنت میں داخل کرنے والے اور دوزخ سے ہٹانے والے سب اعمال میں نے تم کو بتلا دیئے ہیں اور میں ایسی کوئی چیز نہیں جانتا جو تمہیں جنت سے دور کر دے اور دوزخ سے تم کو قریب کر دے مگر یہ بات ہے کہ میں نے تم کو اس سے منع کر دیا ہے یعنی دوزخ میں داخل کرنے والے اور جنت سے ہٹا دینے والے کاموں سے تم کو روک چکا ہوں کہ ایسے کام مت کرو اور بے شک روح الامین یعنی جبرائیل نے میرے دل میں ڈال دیا ہے کہ بے شک کوئی نفس ہرگز نہ مرے گا یہاں تک کہ پورا لے لے اپنا رزق یعنی تقدیر میں جو رزق ہر مخلوق کی لکھا جا چکا ہے بغرل اس قدر مل جانے کے پہلے کوئی نہیں مر سکتا اگرچہ وہ رزق دیر میں ملے یعنی اس پر بھروسہ کرو اور اس کے وعدے کا یقین کرو پس حرام کمانے سے بچو اور اختصار اختیار کرو طلب رزق میں یعنی بے حد دنیا کے کمانے میں مشغول نہ ہو حرص نہ کرو شرع کے خلاف کمائی سے بچو اور ہرگز نہ آمادہ کرے تم کو دیر لگنا رزق ملنے میں اس بات پر کہ تم طلب کرنے لگو اس کو خدا تعالی کی معصیت سے یعنی روزی ملنے میں اگر دیر ہو تو گناہ اور حرام ذریعوں سے رزق حاصل نہ کرو اس لیے کہ وقت سے پہلے ہرگز نہ ملے گا خواہ مخواہ گناہ بے لذت میں مبتلا ہو گئے اس لیے کہ بے شک اللہ تعالی کی یہ شان ہے کہ نہیں حاصل کی جا سکتی وہ چیز جو اس کے پاس ہے۔

رزق اور اس کے سوا جو چیز ہے اس کی معصیت کے ذریعہ سے رواہ ابن ابی الدنیا فی القناعۃ والبیہقی فی المدخل وقال انہ منقطع وانص الحدیث قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انی لااعلم شیئا یقربکم من الجنۃ ویبعد کم من النار الا امرتکم بہ ولا اعلم شیئا یبعدکم من الجنۃ ویقربکم من النار والانہیتکم عنہ وان الروح الامین نفثہ فی روعی ان نفسا لن تموت حتی تستوفی رزقہا وان ابطا عنہا فاتقوا اللہ واجملوا فی الطلب ولا یحملنکم استبطاء شئی من الرزق ان تطلبوہ بمعصیۃ اللہ تعالی لا ینال ما عندہ من الرزق وغیرہ بمعصیۃ۔ حدیث میں ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس حصوں میں سے نو حصے رزق تجارت میں ہے یعنی تجارت بہت بڑی مدنی کا ذریعہ ہے اس کو اختیار کرو


حدیث میں ہے کہ حق تعالی دوست رکھتا ہے اس مومن کو جو محنتی ہو اور پیشہ ور ہو۔ نہیں پرواہ کرتا ہے کہ کیا پہنتا ہے یعنی محنت و مشقت میں معمولی میلے کپڑے پہنتا ہے اتنی فرصت نہیں اور ایسا موقع نہیں جو کپڑے زیادہ صاف رکھ سکے لیکن جو شخص مجبور نہ ہو اس کو سادگی کے ساتھ صاف رہنا چاہیے


حدیث میں ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری طرف یہ وحی نہیں کی گئی کہ میں مال جمع کروں اور میں تجارت کرنے والوں میں سے ہوں اور لیکن یہ وحی کی گئی ہے مجھ کو کہ اللہ کی تسبیح پاکی بیان کرنا یعنی سبحان اللہ کہا کرو اس کی حمد کے ساتھ یعنی اس کی تعریف بیان کرو یعنی سبحان اللہ و بحمدہ پڑھو اور ہو جاؤ سجدہ کرنے والوں میں سے یعنی نماز پر ہمیشگی کرو اور ان لوگوں میں سے ہو جاؤ جو ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو یہاں تک کہ تم کو موت آ جائے یعنی حاجت سے زیادہ دنیا میں مشغول نہ ہو کیونکہ بقدر ضرورت معاش کا بندوبست کرنا سب پر واجب ہے۔ ہاں جس میں توکل کی قوت ہو اور سب شرطیں اس میں توکل کی جمع ہوں ایسا شخص البتہ سب کام چھوڑ کر محض عبادت علمیہ و عملیہ میں مشغول ہو وے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں فرمایا جناب سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحم کرے اللہ تعالی آدمی نرمی کرنے والے پر جس وقت کوئی چیز فروخت کرے اور جس وقت کچھ خریدے اور جس وقت طلب کرے سبحان اللہ خرید و فروخت اور قرض طلب کرنے کی حالت میں نرمی اور رعایت کرنے کا کس قدر بڑا درجہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کے حق میں خاص طور پر دعا فرماتے ہیں اور آپ کی دعا یقیناً مقبول ہے۔ اگر اس نرمی کے برتاؤ کی فقط یہی فضیلت ہوتی اور اس کے سوا کچھ ثواب نہ ملتا تو یہی بہت بڑی نعمت تھی۔ حالانکہ اس رعایت اور نرمی کا ثواب بھی ملے گا۔ لہذا تاجروں کو مناسب ہے کہ اس صحیح حدیث پر عمل کر کے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے محل کرم ہوں۔ نیز دنیا کا اس برتاؤ میں یہ نفع ہے کہ ایسے شخص کے معاملہ سے لوگ خوش ہوتے ہیں اور تجارت خوب چلتی ہے۔ لوگوں کا رجوع ایسے معاملے کرنے والے کی طرف بہت ہوتا ہے اور بعض اوقات خوش ہو کر دعا بھی دیتے ہیں۔


واقعی بات یہ ہے کہ شریعت پر عمل کرنے والا دین و دنیا میں گویا کہ بادشاہ ہو کر رہتا ہے اور بڑی راحت سے گزرتی ہے اس سے بڑھ کر خوش نصیب کون ہے کہ جس کو دارین کی برکتیں حاصل ہوں اور خدا کے نزدیک اور اکثر لوگوں کے نزدیک بھی محبوب اور عزیز ہے۔ رواہ البخاری بلفظ عن جابر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحم اللہ رجلا سمحا اذاباع واذا استری واذا اقتضے۔ حدیث میں ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچو تم زیادہ قسم کھانے سے بیچنے میں یعنی اس خیال سے کہ ہمارا مال خوب بکے بہت قسمیں نہ کھاؤ کیونکہ زیادہ قسم کھانے میں کوئی نہ کوئی قسم ضرور جھوٹی نکلے گی اور پھر اس سے بے برکتی ہوتی ہے اور اللہ کے نام کی بے ادبی ہوتی ہے ہاں کبھی اگر ایسا کرو تو مضائقہ نہیں اس لیے کہ تحقیق وہ کثرت سے قسم کھانا رواج دیتا ہے مال کو اور لوگوں کو قسم کی وجہ سے مال کے متعلق جو امور ہوتے ہیں ان کا اعتبار جاتا ہے پھر بے برکت کر دیتا ہے جس سے دین و دنیا کی منفعت سے محرومی ہوتی ہے۔


حدیث میں ہے کہ فرمایا جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کرنے والا بہت سچا گفتگو میں اور برتاؤ میں بڑا امانت دار قیامت میں انبیاء اور صدیقین یعنی جو بڑے بڑے خدا کے ولی ہیں اور جنہوں نے ہر قول اور ہر فعل میں اعلی درجہ کی سچائی اختیار کی ہے اور اللہ میاں کی نہایت اعلی درجہ کی اطاعت کی ہے اور شہیدوں کے ساتھ ہو گا یعنی ایسے تاجر کو جس کی یہ صفتیں ہوں جو بیان کی گئیں قیامت کے روز حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور حضرات صدیقین رضی اللہ عنہم اور حضرات شہداء رحمہم اللہ تعالی کی ہمراہی اور دوزخ سے نجات میسر ہو گی۔ اور ساتھ ہونے سے یہ مراد نہیں کہ ان حضرات کے برابر رتبہ مل جائے گا بلکہ ایک خاص قسم کی بزرگی مراد ہے جو بڑوں کے ساتھ رہنے سے حاصل ہوتی ہے جیسے کہ کوئی شخص کسی بزرگ کی دنیا میں دعوت کرے اور ان کے ہمراہ ان کے خادموں کی بھی ضیافت کرے تو ظاہر ہے کہ ان بزرگ کے کھانا کھانے کی جگہ اور ان خدام کے کھانا کھانے کی جگہ نیز کھانا ایک ہی ہو گا لیکن جو درجہ ان لوگوں کے نزدیک ان بزرگ کا ہو گا وہ خادموں کا نہیں مگر ہمراہی کا شرف و عزت نیز کھانے اور مکان میں شرکت کا میسر آنا ایک بہت بڑا کمال ہے جو خادموں کو حاصل ہوا ہے خصوصاً جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمراہی بہت بڑی دولت ہے۔ اگر فرض کرو کہ کھانا بھی میسر نہ ہو ہمراہی سے کچھ عزت بھی میسر نہ ہو فقط ہمراہی ہی میسر ہو تو آپ سے محبت کرنے والے مسلمان کے لیے فقط آپ کا دیدار اور آپ کی ہمراہی ہی بڑی دولت ہے بلکہ دیدار تو بڑی چیز ہے آپ کا پڑوس ہی بڑی نعمت ہے لہذا مسلمانوں کو جناب رسول کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی اس دعا متبرک کا مستحق ہونا ضرور مناسب ہے۔


حدیث میں ہے کہ تجارت کرنے والے قیامت کے روز فاجر اور گنہگار اٹھائے جائیں گے مگر جو شخص ڈرا اور سچ بولا اور خرید و فروخت میں کوئی گناہ نہ کیا تو وہ اس وبال سے بچ جائے گا۔


ضمیمہ اولے اصلی بہشتی زیور حصہ پنجم ختم ہوا

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔