ان باتوں کا بیان کہ ان کے بدون ایمان ادھورا رہتا ہے

حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کئی اوپر ستر باتیں ایمان کے متعلق ہیں سب میں بڑے بات تو کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے اور سب سے چھوٹی بات یہ ہے کہ راستہ میں کوئی کانٹا لکڑی پتھر پڑا ہو جس سے راستہ چلنے والوں کو تکلیف ہو اس کو ہٹا دے۔ اور شرم و حیا بھی ایمان کی ان ہی باتوں میں سے ایک بڑی چیز ہے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ جب اتنی باتیں ایمان سے علاقہ رکھتی ہیں تو پورا مسلمان وہی ہو گا جس میں سب باتیں ہوں اور جس میں کوئی بات ہو اور کوئی بات نہ ہو وہ ادھورا مسلمان ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ مسلمان پورا ہی ہونا ضروری ہے۔ اس لیے ہر ایک کو لازم ہوا کہ ان سب باتوں کو اپنے اندر پیدا کرے اور کوشش کرے کہ کسی بات کسر نہ رہ جائے اس لیے ہم ان باتوں کو لکھ کر بتلائے دیتے ہیں۔ وہ سب سات اوپر ستر ہیں۔ تیس تو دل سے متعلق ہیں۔ اللہ تعالی پر ایمان لانا یہ اعتقاد رکھنا کہ خدا کے سوا سب چیزیں پہلے ناپید تھیں پھر خدا کے پیدا کرنے سے پیدا ہوئیں یہ یقین کرنا کہ فرشتے ہیں یہ یقین کرنا کہ خدائے تعالی نے جتنی کتابیں پیغمبروں پر اتاری تھیں سب سچی ہیں۔ البتہ اب قرآن کے سوا اوروں کا حکم نہیں رہا۔

یہ یقین کرنا کہ سب پیغمبر سچے ہیں البتہ اب فقط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے کا حکم ہے یہ یقین کرنا کہ اللہ تعالی کو سب باتوں کی پہلے ہی سے خبر ہے اور جو ان کو منظور ہوتا ہے وہی ہوتا ہے یہ یقین کرنا کہ قیامت آنے والی ہے جنت کا ماننا دوزخ کا ماننا اللہ تعالی سے محبت رکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا اور کسی سے بھی اگر محبت یا دشمنی کرے تو اللہ ہی کے واسطے کرنا ہر کام میں نیت دین کی کرنا گناہوں پر پچھتانا خدائے تعالی سے ڈرنا خدائے تعالی کی رحمت کی امید رکھنا شرم کرنا نعمت کا شکر کرنا عہد پورا کرنا صبر کرنا اپنے کو اوروں سے کم سمجھنا مخلوق پر رحم کرنا جو کچھ خدا کی طرف سے ہو اس پر راضی رہنا خدا پر بھروسہ کرنا اپنی کسی خوبی پر نہ اترانا کسی سے کینہ کپٹ نہ رکھنا کسی پر حسد نہ کرنا غصہ نہ کرنا کسی کا برا نہ چاہنا دنیا سے محبت نہ رکھنا۔ اور سات باتیں زبان سے متعلق ہیں زبان سے کلمہ پڑھنا قرآن شریف کی تلاوت کرنا علم سیکھنا علم سکھلانا دعا کرنا لغو اور گناہ کی بات سے جیسے جھوٹ غیبت گالی کو سنا خلاف شرع گانا ان سب سے بچنا۔

اور چالیس باتیں سارے بدن سے متعلق ہیں وضو کرنا غسل کرنا کپڑے کا پاک رکھنا نماز کا پابند رہنا زکوٰۃ صدقہ فطر دینا روزہ رکھنا حج کرنا اعتکاف کرنا جہاں رہنے میں دین کی خرابی ہو وہاں سے چلے جانا منت خدا کی پوری کرنا جو قسم گناہ کی بات پر نہ ہو اس کو پورا کرنا ٹوٹی ہوئی قسم کا کفارہ دینا جتنا بدن ڈھانکنا فرض ہے اس کو ڈھانکنا قربانی کرنا مردے کا کفن دفن کرنا کسی کا قرض آتا ہو اس کو ادا کرنا لین دین میں خلاف شرع باتوں سے بچنا سچی گواہی کا نہ چھپانا اگر نفس تقاضا کرے نکاح کر لینا جو اپنی حکومت میں ہیں ان کا حق ادا کرنا ماں باپ کو آرام پہنچانا اولاد کو پرورش کرنا رشتہ داروں ناتہ داروں سے بد سلوکی نہ کرنا آقا کی تابعداری کرنا انصاف کرنا مسلمانوں کی جماعت سے الگ کوئی طریقہ نہ نکالنا حاکم کی تابعداری کرنا مگر خلاف شرع بات میں نہ کرے لڑنے والوں میں صلح کرا دینا نیک کام میں مدد دینا نیک راہ بتلانا بری بات سے روکنا اگر حکومت ہو تو شرع کے موافق سزا دینا اگر وقت آئے تو دین کے دشمنوں سے لڑنا امانت ادا کرنا ضرورت والے کو قرضہ دے دینا پڑوسی کی خاطر داری رکھنا آمدنی پاک لینا خرچ شرع کے موافق کرنا اسلام کا جواب دینا اگر کوئی چھینک لے کر الحمد للہ کہے تو اس کو یرحمک اللہ کہنا کسی کو ناحق تکلیف نہ دینا خلاف شرع کھیل تماشوں سے بچنا راستہ میں سے ڈھیلا۔ پتھر کانٹا لکڑی ہٹا دینا اگر الگ الگ سب باتوں کا ثواب معلوم کرنا ہو تو فروع الایمان ایک کتاب ہے اس میں دیکھ لو۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔