پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج و عادت کا بیان

آپ دل کے بڑے سخی تھے کسی سوالی سے نہیں کبھی نہیں کی اگر ہوا دے دیا یا نہ ہوا تو نرمی سے سمجھا دیا دوسرے وقت دینے کا وعدہ کر لیا آپ بات کے بڑے سچے تھے آپ کی طبیعت بہت نرم تھی سب باتوں میں سہولت اور آسانی برتتے اپنے پاس اٹھنے بیٹھنے والوں کا بڑا خیال رکھتے کہ ان کو کسی طرح کی اپنے سے تکلیف نہ پہنچے۔ یہاں تک کہ اگر رات کو اٹھ کر باہر جانا ہوتا تو بہت ہی آہستہ جوتی پہنتے بہت ہلکے سے کواڑ کھولتے بہت آہستہ چلتے اور اگر گھر میں تسریف لاتے اور گھر والے سو رہتے تو بھی سب کام چپکے چپکے کرتے کبھی کسی سوتے کی نیند خراب نہ ہو جائے ہمیشہ نچی نگاہ زمین کی طرف رکھتے جو بہت سے آدمیوں کے ساتھ چلتے تو اوروں سے پیچھے رہتے جو سامنے آتا اس کو پہلے خود سلام کرتے جب بیٹھتے تو بہت عاجزی کی صورت بنا کر جب کھانا کھاتے تو بہت ہی غریبوں کی طرح بیٹھ کر پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا کبھی چپاتی نہیں کھائی۔ تکلف کی تشتریوں میں کبھی نہیں کھایا ہر وقت خدائے تعالی کے خوف سے غمگین سے رہتے ہر وقت اسی سوچ میں لگے رہتے اسی دھن میں کسی کروٹ چین نہ آتا زیادہ وقت خاموش رہتے بدون ضرورت کے کلام نہ فرماتے جب بولتے تو ایسا صاف کہ دوسرا آدمی خوب سمجھ لے۔ آپ کی بات نہ تو اتنی لمبی ہوتی کہ ضرورت سے زیادہ اور نہ اس قدر کم ہوتی کہ مطلب بھی سمجھ میں نہ آئے۔ بات میں ذرا سختی نہ تھی نہ برتاؤ میں کسی طرح کی سخت تھی اپنے پاس آنے والے کی بے قدری اور ذلت نہ کرتے تھے کسی کی بات نہ کاٹتے تھے البتہ اگر شرع کے خلاف کوئی بات کرتا تو یا تو منع فرما دیتے یا وہاں سے خود اٹھ جاتے خدا کی نعمت کیسی ہی چھوٹی کیوں نہ آپ اس کو بہت بڑا سمجھتے تھے کبھی اس میں عیب نہ نکالتے تھے کہ اس کا مزہ اچھا نہیں ہے۔ یا اس میں بدبو آتی ہے البتہ جس چیز کو دل نہ لیتا اس کو خود نہ کھاتے اور نہ اس کی تعریف کرتے نہ اس میں عیب نکالتے۔

دنیا کی کیسی ہی بات ہو اس کی وجہ سے آپ کو غصہ نہ آتا مثلاً کسی کے ہاتھ سے نقصان ہو گیا کسی نے کوئی کام بگاڑ دیا یہاں تک ک حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے دس برس تک آپ کی خدمت کی اس دس برس میں میں نے جو کچھ کر دیا اس کو یوں نہیں فرمایا کہ کیوں کیا اور جو نہیں کیا اس کو یوں نہیں پوچھا کہ کیوں نہیں کیا۔ البتہ اگر کوئی بات خلاف دین کے ہو جاتی تو اس وقت آپ کے غصہ کی کوئی تاب نہ لا سکتا تھا۔ اپنے ذاتی معاملہ میں آپ نے غصہ نہیں کیا۔ اگر کسی سے ناراض ہوتے تو صرف منہ پھیر لیتے۔ یعنی زبان سے کچھ سخت و سست نہ فرماتے اور جب خوش ہوتے تو نیچی نگاہ کر لیتے۔ شرم اس قدر تھی کہ کیا کنواری لڑکی کو ہو گی۔ بڑی ہنسی آتی تو یوں ہی ذرا مسکرا دیتے یعنی آواز سے نہ ہنستے سب میں ملے جلے رہتے یہ نہیں کہ اپنی شان بنا کر لوگوں سے کھنچنے لگیں بلکہ کبھی کبھی کسی کا دل خوش کرنے کو ہنسی مذاق بھی فرما لیتے اس میں بھی وہی بات فرماتے جو سچی ہوتی نفلیں اس قدر پڑھتے کہ کھڑے کھڑے دونوں پاؤں سوج جاتے جب قرآن شریف پڑھتے یا سنتے تو خدا کے خوف اور محبت سے روتے۔ عاجزی اس قدر مزاج میں تھے کہ اپنی امت کو حکم فرمایا کہ مجھ کو بہت مت بڑھا دینا۔ اور اگر کوئی غریب ماما اصیل آ کر کہتی کہ مجھ کو آپ سے الگ کچھ کہنا ہے آپ فرماتے اچھا کہیں سڑک پر بیٹھ کر کہہ لے وہ جہاں بیٹھ جاتی آپ بھی وہیں بیٹھ جاتے کوئی بیمار ہو امیر یا غریب اس کو پوچھتے کسی کا جنازہ ہوتا آپ اس پر تشریف لاتے کیسا ہی کوئی غلام ملام دعوت کر دیتا آپ قبول فرما لیتے اگر کوئی جو کی روٹی اور بدمزہ چربی کی دعوت کرتا آپ اس سے بھی عذر نہ فرماتے زبان سے کوئی بیکار بات نہ نکلتی۔

سب کی دلجوئی کرتے کوئی ایسا برتاؤ نہ فرماتے جس سے کوئی گھبرائے ظالم موذیوں کی شرارت سے خوش تدبیری کے ساتھ اپنا بچاؤ بھی کرتے مگر ان کے ساتھ اسی خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آتے آپ کے پاس حاضر ہونے والوں میں اگر کوئی نہ آتا اس کو پوچھتے ہر کام کو ایک قاعدہ سے کرتے یہ نہیں کہ کبھی کچھ کر دیا کبھی کسی طرح کر لیا جب اٹھتے خدا کی یاد کرتے جب بیٹھتے خدا کی یاد کرتے جب کسی محفل میں تشریف لے جاتے تو جہاں تک آدمی بیٹھے ہیں اس کے کنارے پر بیٹھ جاتے یہ نہیں کہ سب کو پھاند کر بڑی جگہ جا کر بیٹھیں۔ اگر بات کرنے کے وقت کئی آدمی ہوتے تو باری باری سب کی طرف منہ کر کے بات کرتے یہ نہیں کہ ایک طرف توجہ ہے دوسروں کو دیکھتے بھی نہیں سب کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتے کہ ہر شخص یوں سمجھتا کہ مجھے سب سے زیادہ چاہتے ہیں اگر کوئی پاس کر بیٹھتا یا بات شروع کرتا اس کی خاطر رکے بیٹھے رہتے جب پہلے وہی اٹھ جاتا تو آپ اٹھتے۔ آپ کے اخلاق سب کے ساتھ عام تھے۔ گھر میں جا کر آرام کے لیے مسند پر تکیہ لگا کر بیٹھتے تھے گھر کے بہت سے کام اپنے ہاتھ سے کر لیتے کہیں بکری کا دودھ نکال لیا کہیں اپنے کپڑے صاف کر لیے اپنا کام اکثر اپنے ہاتھ سے کر لیا کرتے کیسا ہی برے سے برا آدمی آپ کے پاس آتا اس سے بھی مہربانی کے ساتھ ملتے اس کی دلشکنی نہ فرماتے۔ غرض سارے آدمیوں سے زیادہ آپ ہی خوش اخلاق تھے۔

اگر کسی سے کوئی ناپسند بات ہو جاتی تو کبھی اس کے منہ در منہ نہ جتلاتے نہ طبیعت میں سختی تھی اور نہ کبھی سختی کی صورت بناتے جیسے بعضوں کی عادت ہوتی ہے کہ کسی کے ڈرانے دھمکانے کو جھوٹ موٹ غصہ کی صورت بنا کر ویسی ہی باتیں کرنے لگتے ہیں کہ آپ کی عادت چلانے کی تھی جو کوئی آپ کے ساتھ برائی کرتا آپ کبھی اس کے ساتھ برائی نہ کرتے بلکہ معاف اور درگزر فرما دیا کرتے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی غلام کو خدمت گار کو عورت کو بلکہ جانور تک کو بھی نہیں مارا اور شریعت کے حکم سے سزا دینا اور بات ہے اگر آپ پر کوئی زیادتی کرتا تو اس کا بدلہ نہ لیتے ہر وقت ہنس مکھ رہتے اور ناک بھوؤں کو نہ چڑھاتے اور یہ مطلب نہیں کہ بیغم رہتے کیونکہ اوپر آ چکا ہے کہ ہر وقت غم اور سوچ میں رہتے۔ مزاج بہت نرم تھا نہ بات میں سختی نہ برتاؤ میں سختی نہ بیباکی تھی کہ جو چاہا پھٹ سے کہہ دیا نہ کسی کا عیب بیان کرتے نہ کسی چیز کے دینے میں دریغ فرماتے ان خصلتوں کی ہوا بھی نہ لگی تھی جیسے اپنی بڑائی کرنا کسی سے بحثا بحثی لگانا جس بات میں کوئی فائدہ نہ ہو اس میں لگنا نہ کسی کی برائی کرتے نہ کسی کے عیب کی کھود کرید کرتے اور وہی بات منہ سے نکالتے جس میں ثواب ملا کرتا ہے کوئی باہر کا پردیسی آ جاتا اور بول چال میں پوچھنے پاچھنے میں بے تمیزی کرتا آپ اس کی سہار فرماتے کسی کو اپنی تعریف نہ کرنے دیتے۔ اور حدیثوں میں بڑی اچھی اچھی باتیں لکھی ہیں۔ جتنی ہم نے بتلا دی ہیں اگر عمل کرو یہ بھی بہت ہیں۔ اب نیک بیبیوں کے حال سنو۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔