حدیثوں کا مضمون

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عورتو میں نے تم کو دوزخ میں بہت دیکھا ہے عورتوں نے پوچھا اس کی کیا وجہ آپ نے فرمایا تم مار پھٹکار سب چیزوں پر بہت ڈالا کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری بہت کرتی ہو اور اس کی دی ہوئی چیز کو بہت ناک مارتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک بی بی نے بخار کو برا کہا آپ نے فرمایا کہ بخار کو برا مت کہو اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بی بی نے بخار کو برا کہا آپ نے فرمایا کہ بخار کو برا مت کہو اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کر کے رونے والی عورت اگر توبہ نہ کرے گی تو قیامت کے روز اس حالت میں کھڑی کی جائے گی کہ اس کے بدن پر کرتے کی طرح ایک روغن لپیٹا جائے گا جس میں آگ بڑی جلدی لگتی ہے اور کرتے ہی کی طرح تمام بدن میں خارش بھی ہو گئی یعنی اس کو دو تکلیفیں ہوں گی خارش سے تمام بدن نوچ ڈالے گی اور دوزخ کی آگ لگے گی وہ الگ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے مسلمان عورتو کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر اور ہلکا نہ سمجھے چاہے بکری کی کھڑی کیوں نہ ہو۔ فائدہ بعضی عورتوں میں یہ عادت بہت ہوتی ہے کہ دوسرے کے گھر کی آئی ہوئی چیز کو ناک مارا کرتی ہیں طعنے دیا کرتی ہیں اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوا تھا اس نے اس کو پکڑ کر باندھ دیا تھا نہ تو کھانے کو دیا اور نہ اس کو چھوڑا یوں ہی تڑپ تڑپ کر مر گئی۔ فائدہ اسی طرح جانور پال کر اس کے کھانے پینے کی خبر نہ لینا عذاب کی بات ہے اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعضے مرد اور عورت ساٹھ برس تک خدا کی عبادت کرتے ہیں پھر موت کا وقت آتا ہے تو خلاف شرع وصیت کر کے دوزخ کے قابل ہو جاتے ہیں۔

فائدہ جیسے بعضوں کی عادت ہوتی ہے یوں کہہ مرتے ہیں دیکھو میری چیز میرے نواسہ کو دیجیو بھائی کو نہ دیجیو یا فلانی بیٹی کو فلانی چیز دوسری بیٹی سے زیادہ دیجیو یہ سب حرام ہے وصیت اور میراث کے مسئلے کسی عالم سے پوچھ کر اس کے موافق عمل کرے کبھی اس کے خلاف نہ کرے اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عورت دوسری عورت سے اس طرح نہ ملے کہ اپنے خاوند کے سامنے اس کا حال اس طرح کہنے لگے جیسے وہ اس کو دیکھ رہا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ آپ کی دو بیبیاں بیٹھی تھیں ایک نابینا صحابی آنے لگے آپ نے دونوں کو پردے میں ہو جانے کا حکم دیا دونوں نے تعجب سے عرض کیا کہ وہ تو اندھے ہیں آپ نے فرمایا تم تو اندھی نہیں ہو تم تو ان کو دیکھتی ہی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی عورت اپنے خاوند کو دنیا میں کچھ تکلیف دیتی ہے تو بہشت میں جو حور اس خاوند کو ملے گی وہ کہتی ہے کہ خدا تجھے غارت کرے وہ تو تیرے پاس مہمان ہے جلدی ہی تیرے پاس سے ہمارے پاس چلا آئے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایسی دوزخی عورتوں کو نہیں دیکھا یعنی میرے زمانہ سے پیچھے ایسی عورتیں پیدا ہوں گی کہ کپڑا پہنے ہوں گی اور ننگی ہوں گی یعنی نام کو بدن پر کپڑا ہو گا لیکن کپڑا باریک اس قدر ہو گا کہ تمام بدن نظر آئے گا اور اترا کر بدن کو مٹکا کر چلیں گی اور بالوں کے اندر موباف یا کپڑا دے کر بالوں کو لپیٹ کر اس طرح باندھیں گی جس میں بال بہت سے معلوم ہوں جیسے اونٹ کا کوہان ہوتا ہے ایسی عورتیں بہشت میں نہ جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نصیب نہ ہو گی۔

فائدہ یعنی جب پرہیزگار بیبیاں بہشت میں جانے لگیں گی ان کو ان کے ساتھ جانا نصیب نہ ہو گا پھر چاہے سزا کے بعد ایمان کی برکت سے چلی جائیں اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عورت سونے کا زیور دکھلاوے کو پہنے گی اسی سے اس کو عذاب دیا جائے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تشریف رکھتے تھے ایک آواز سنی جیسے کوئی کسی پر لعنت کر رہا ہو آپ نے پوچھا یہ کیا بات ہے لوگوں نے عرض کیا کہ یہ فلانی عورت ہے کہ اپنی سواری کو اونٹنی پر لعنت کر رہی ہے وہ اونٹنی چلنے میں کمی یا شوخی کرتی ہو گی ا س عورت نے جھلا کر کہہ دیا ہو گا تجھے خدا کی مار جیسا کہ عورتوں کا دستور ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ اس عورت کو اور اس کے اسباب کو اس اونٹنی پر سے اتار دو یہ اونٹنی تو اس عورت کے نزدیک لعنت کے قابل ہے پھر اس کو کام میں کیوں لاتی ہے۔ فائدہ خوب سزا دی تمام شد رسالہ کسوۃ النسوۃ۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔