کتابیات

  1. آلوک رائے (Hindi Nationalism) نئی دہلی: اورینٹ لانگ مین، 2000ء)۔
  2. امرت رائے A House Divided: The Origin and Development of Hindi -Urdu باز طبع (دہلی: آکسفرڈ یونیورسٹی پریس 1991ء)۔
  3. اونکار "راہی"، کھڑی بولی: سوروپ اور ساہتیک پرمپرا (دہلی: پی پرکاشن، 1975ء)۔
  4. ای۔ اناملائی (مرتب)، Language Movements in India (میسور: سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجز، 1979ء)۔
  5. برج رتن داس، کھڑی بولی ہندی کا اتہاس (بنارس: ہندی ساہتیہ کیٹر، 2009 سمبت)۔
  6. پال آر۔ براس (Paul R. Brass)، Language, Religion and Politics in North India (نئی دہلی: وکاس پبلشنگ ہاؤس، 1975ء)۔
  7. جیوترندر داس گپتا، Language Conflict and National Development: Group Politics and National Language Policy in India(برکلے: سنٹر فار ساؤتھ اینڈ ساؤتھ ایسٹ ایشیا اسٹڈیز، یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، 1970ء)۔
  8. چندر دھر شرما گلیری، پرانی ہندی ( کاشی: ناگری پرچارِنی سبھا، 2018 سمبت)۔
  9. حکم چند نیر، اردو کے مسائل: ہندوستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ کی روشنی میں (بنارس: شعبۂ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی، 1977ء)۔
  10. دھیریندر ورما، ہندی بھاشا کا اتہاس (الہٰ آباد: ہندستانی اکیڈمی، 1967ء)۔
  11. رام ولاس شرما، بھارت کی بھاشا سمسیا، دوسرا ایڈیشن (نئی دہلی: راج کمل پرکاشن، 1978ء)۔
  12. سنیتی کمار چٹرجی، Indo -Aryan and Hindi، دوسرا ایڈیشن (کلکتہ : فرما کے۔ ایل۔ مکھو پادھیا ۓ، 1960ء)۔
  13. سہیل بخاری، اردو کی زبان (کراچی: فضلی سنز لمٹیڈ، 1997ء)۔
  14. سید احتشام حسین (مترجم)، ہندستانی لسانیات کا خاکہ ازجان بیمز (لکھنؤ: دانش محل، 1971ء)۔
  15. سید محی الدین قادری زورؔ، ہندستانی لسانیات (لکھنؤ: نسیم بک ڈپو، 1960ء)۔
  16. شِتی کنٹھ مشر، کھڑی بولی کا آندولن (کاشی: ناگری پرچارِنی سبھا، 2013 سمبت)۔
  17. شمس الرحمٰن فاروقی، اردو کا ابتدائی زمانہ: ادبی تہذیب وتاریخ کے پہلو (کراچی: آج کی کتابیں، 1999ء)۔
  18. فرینک ای۔ کی (Frank E. Keay)، A History of Hindi Literature، باز طبع (کلکتہ: وائی۔ ایم۔ سی۔ اے پبلشنگ ہاؤس، 1960ء)۔
  19. کرسٹوفر آر۔ کنگ (Christopher R. King)،One Language Two Scripts: The Hindi Movement in Nineteenth Century North India (بمبئی: آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 1994ء)۔
  20. گیان چند جین، لسانی مطالعے ( نئی دہلی: ترقیِ اردو بورڈ، 1973ء)۔
  21. گیان چند جین، ایک بھاشا: دو لکھاوٹ، دو ادب (دہلی۔: ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، 2005ء)۔
  22. لچھمن ایم۔ خوب چندانی، Language in a Plural Society (شملہ: انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈی، 1988ء)۔
  23. مرزا خلیل احمد بیگ، لسانی تناظر (نئی دہلی: باہری پبلی کیشنز، 1997ء)۔
  24. مرزا خلیل احمد بیگ،اردو کی لسانی تشکیل، تیسرا ایڈیشن (علی گڑھ: ایجوکیشنل بک ہاؤس، 2000ء)۔
  25. مرزا خلیل احمد بیگ (مرتب)، اردو زبان کی تاریخ، دوسرا ایڈیشن (علی گڑھ: ایجوکیشنل بک ہاؤس، 2000ء)۔
  26. مسعود حسین خاں، مقدمۂ تاریخِ زبانِ اردو، ساتواں ایڈیشن (علی گڑھ: ایجوکیشنل بک ہاؤس، 1987ء)۔
  27. مسعود حسین خاں، اردو زبان: تاریخ، تشکیل، تقدیر، خطبۂ پروفیسر ایمے ریٹس (علی گڑھ: شعبۂ لسانیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، 1988ء)۔
مرزا خلیل احمد بیگ
اپریل ۲۰۱۹
اردو زبان نے آغاز میں گزرتے وقت کے ساتھ کون سے ارتقائی مراحل طے کیے ، اس پس منظر میں محقق نے اس امر پر روشنی ڈالی ہے کہ دیوناگری رسم الخط میں لکھی جانے والی ہندی در واقع اردو سے نکالی گئی ہے اس لحاظ سے اسے اردو کے اسلوب کی حیثیت حاصل ہے نہ کہ اس کے برعکس۔