ہندی، اردو اور ہندوستانی۔۔ مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زبان میں

قیصر شمیم

"ہندی اردو اور ہندوستانی" — مجھے اب خاصا پامال مضمون معلوم ہوتا ہے۔ ممکن ہے کوئی زبان کا ماہر، اس میں، ندرت بیان کا کوئی نمونہ پیش کرسکے۔ مگر مجھ جیسے کوتاہ بیان کو اس میں خاصی دقت کا سامنا ہے۔ یہ دقت ویسی ہی ہے جیسی ہندومسلم ایکتا پر بولنے میں ہوتی ہے، جس میں بقیہ مذہبی گروہوں کو چھوٹی امت سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ گویا ہندومسلمان شیر و شکر ہو جائیں تو بقیہ مختصر سی آبادی کی کیا پرواہ۔ پرانے زمانے کی بات اور تھی۔ اب یہ بات مجھے جمہوری مزاج کے منافی معلوم ہوتی ہے۔

اسی طرح ہندی اردو اور ہندوستانی پر گفتگو، اس لسانی بو قلمونی (Linguistic Diversity) سے ہماری توجہ ہٹاتی ہے جو حیاتیاتی بو قلمونی (Bio-diversity) کی طرح سرزمین ہندوستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کا ایک بڑا وصف ہے۔ سوائے پپوانیوگنی (Papua New Guinea) کے اتنی لسانی بو قلمونی کہیں اور دیکھنے میں نہیں آتی۔ اس کو لاحق خطرہ بھی حیاتیاتی بو قلمونی (Bio-diversity) کو لاحق خطرے کی طرح سنگین نتائج کا حامل ہے۔

حیاتیاتی بو قلمونی کو لاحق خطرات پر سائنسی برادری میں ہل چل ہے۔ حکومت بھی کسی حد تک متوجہ ہو رہی ہے۔ مگر زبان اور ثقافت کی دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر گفتگو بھی ذرا کم ہی ہو رہی ہے اور عملی اقدام نہ ہونے کے برابر ہے۔

ہم نے زبان اور ثقافت کے مسئلے کو اپنے طور پر دسترساز اسمبلی میں حل کر لیا اور قانع ہو گئے۔ لیکن زبان اور ثقافت کا مسئلہ محض قانون کے ذریعہ حل نہیں ہوتا۔ دیگر سماجی اور سیاسی محرکات بھی اپنا کام کرتی ہیں۔ آزاد اور جمہوری سماج نے، جو موقع ہمیں گزشتہ آدھی صدی میں فراہم کیا تھا، اس میں ہم نے ثقافتی پالیسی کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں کی ہے۔ لہٰذا اب کھلی معیشت، آزاد منڈی اور اطلاعات کے آزادانہ بہاؤ، سے ابھرنے والے خطرات کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں۔ ہندی جو کئی ریاستوں کے علاوہ مرکزی سرکار کے کام کاج کی زبان بنائی گئی اور جس کی ترقی کے لیے سرکاری خزانہ کا منہ کھول دیا گیا، اس کے بعض ہمنوا اب ہنگلش (Hinglish) کی بات کر رہے ہیں۔ 2008 میں ہندی دیوس کے موقع پر ایک سرکاری چینل نے اس موضوع پر ایک مباحثہ کرایا۔ اس میں شریک ایک مرکزی یونیورسٹی کے صدر شعبۂ ہندی نے ہنگلش کی حمایت کی اور اسے لسانی ارتقاء سے تعبیر کیا—شتر مرغ کے بارے میں سنا ہے کہ وہ خطرے کی آہٹ پر اپنا سر ریت میں چھپا لیتا ہے۔

ترکی کے ناول نگار، اور ہان پامک کے ناول اسنو (Snow) میں اس کا ایک کردار، رستم وسہراب کی کہانی سناتا ہے اور پھر کہتا ہے:

"میں نے یہ کہانی تمہیں اس لیے نہیں سنائی کہ میری زندگی میں اس کی کیا اہمیت ہے یا میری زندگی سے اس کا کیا تعلق ہے ؛ بلکہ یہ بتانے کے لیے سنائی کہ اب اسے بھلا دیا گیا ہے ....ہزار سال پرانی یہ کہانی فردوسی کے شاہنامہ کی ہے۔ ایک وقت تھا جب تبریز سے استنبول تک اور بوسنیا سے ترب زون تک لاکھوں لوگوں کو یہ کہانی یاد تھی۔ وہ جب بھی اسے دہراتے، اسے اپنی زندگی میں بامعنی پاتے۔ یہ کہانی ان کے لیے ویسی ہی اہم تھی جیسی پوری مغربی دنیا کے لیے اوڈپس کے ذریعہ باپ کا قتل یا میکبیتھ کو اقتدار اور موت کا خوف۔ مگر اب چونکہ ہم مغرب کے طلسم میں گرفتار ہیں، ہم اپنی ان کہانیوں کو بھول گئے ہیں۔ ہماری نصابی کتابوں سے ایسی تمام پرانی کہانیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ ان دنوں استنبول میں ایک بھی کتب فروش ایسا نہیں جس کے پاس شاہنامہ موجود ہو۔"

یہ وہ آئینہ ہے جس میں ہم اپنی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں۔

عہد وسطیٰ میں بلاد اسلامیہ کے نام سے یاد کیے جانے والے خطہ، یعنی ترکی سے مرکزی ایشیا تک اور جنوبی ایشیا سے افریقہ کے متصل علاقہ تک بولی جانے والی زبانوں میں ایک مشترکہ نظریۂ حیات کی پرورش ہوئی جس میں اسلامی عقائد، یونانی اور سنسکرت فلسفہ، دیگر مذاہب کی روایتیں اور رسوم و رواج مل کر شیر و شکر ہو گئے۔ اس کا ارتقاء فارسی میں عمر خیام، مولانا روم حافظ سعدی و نیز امیر خسرو سے بیدل تک ہوتا رہا۔ یہ نظریہ حیات اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ، ترکی، اردو اور مرکزی ایشیا کی زبانوں میں در آیا اور اس نے ثقافتی سطح پر ایک مشترکہ ایشیائی فکر کو جنم دیا۔ اس لیے رستم وسہراب کا المیہ، میکبتھ یا اوڈی پس کے المیہ سے اسی طرح الگ ہے جس طرح مشرقی اور مغربی شاعری کا مزاج الگ ہے۔

اس تہذیبی فرق اور ثقافتی کشمکش کو پامک نے اپنے نوبل انعام یافتہ ناول My Name is Red میں سولہویں صدی کے پس منظر میں بڑی خوبی سے اجاگر کیا ہے۔ یہ بھی المیہ ہے کہ اب ہم ترکی ادب کا مطالعہ انگریزی کی مدد سے کرنے پر مجبور ہیں اور مشترکہ ایشیائی فکر کی زبانیں ایک دوسرے کے لیے اجنبی بنتی جا رہی ہیں —جو نصابی کتابیں پڑھائی جا رہی ہیں، جو ادب دستیاب ہے، الکٹرانک میڈیا کے ذریعہ جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے، ان کی حیثیت ایک تہذیبی یلغار کی ہے —اور نتیجہ سامنے ہے۔

ہندوستان کی صورتحال یہ ہے کہ 1835 میں لارڈ ٹی۔ بی۔ میکالے نے رنگ ونسل کے اعتبار سے ہندوستانی مگر ذہن و مذاق کے اعتبار سے انگریز افراد پیدا کرنے کا جو خواب دیکھا تھا۔ اس کی تکمیل گلوبلائزیشن یعنی نئی جغرافیائی وسعت، اور انسانی زندگی کی نئی پنہائیوں پر محیط عالمی نظام، کثیر ملکی کمپنیوں کے ذریعہ اطلاعاتی ٹکنالوجی کے استعمال، عالمی سٹہ بازاری، بلا روک بین ملکی سرمایہ کاری ون یز قومی حکومتوں کے اقتدار میں کمی اور قومی زبانوں کی پسپائی کی شکل میں نمودار ہو رہی ہے —اور ان سب کے نتیجہ میں متبادل فکر اور ان زبانوں سے وابستہ متبادل نظریۂ حیات، سمٹ سکڑ رہا ہے جو بالآخر ثقافتی بوقلمونی کا خاتمہ کر کے یک رنگی دنیا کو جنم دے سکتا ہے — ایک بڑے معیار بند بازار کی تشکیل، جس کی زبان اور اقدار مشترک ہوں، کثیر قومی کمپنیوں کے لیے تجارتی آسانی پیدا کر دیتا ہے۔

حیاتیاتی بو قلمونی اور ثقافتی ولسانی بوقلمونی کو درپیش خطرات کی وجہیں بڑی حد تک مشترک ہیں۔ جنگلوں کا بے دریغ کٹنا، انواع واقسام کے نباتیاتی نمونوں کا فنا ہونا، جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں کی انمول انواع کا ختم ہونا و نیز زبانوں اور ثقافتوں پر نازل آفت کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور اپنی بقاء کے لیے ایک دوسرے پر منحصر بھی۔

ترقی یافتہ ممالک اعداد و شمار کو حاصل کرنے، ان کو محفوظ رکھنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی تکنالوجیکل برتری کی وجہ سے برق رفتاری سے ایسے فیصلے کرسکتی ہیں جو ان کے لیے زیادہ سے زیادہ منافع بخش ہو۔ انگریزی زبان اور اس کی جلو میں آنے والے اقدار و افکار کا پھیلنا اس کام میں ان کی معاونت کرتا ہے۔ اس سے جہاں کثیر قومی کمپنیوں کی ترقی ہو رہی ہے وہیں اس سے پسماندہ ممالک میں معیشت اور تمدن ہی نہیں خود سلامتی کے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ گزشتہ صدی میں جب ناوابستہ ممالک کی تحریک اپنے عروج پر تھی تو نامیڈیا (NAMEDIA) اس کے بطن سے پیدا ہوئی۔ اطلاعات اور ترسیل کی عالمی سطح پر تنظیم نو کی مانگ، اس جدوجہد کا حصہ تھی جو غیر ترقی یافتہ نو آزاد ممالک، ترقی یافتہ ممالک کی بالا دستی کے خلاف کر رہے تھے۔ مزید برآں یہ خوف کہ کمپیوٹر اور ترسیلی قوت سے مسلح، کثیر قومی کمپنیاں، دوسروں کو معاشی، سیاسی اور ثقافتی طور پر دبوچ لیں گی محض ان غیر ترقی یافتہ ممالک تک محدود نہیں تھا جنہوں نے نئے عالمی اطلاعاتی اور ترسیلی تنظیم (NWICO) کے لیے تحریک چلائی تھی۔ بلکہ اس زمانہ میں مغرب کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک بھی اس خوف میں مبتلا تھے کہ زیادہ بڑی مچھلی، نسبتاً چھوٹی مچھلی کو کھا جائے گی۔ کینیڈا بہت دنوں تک اطلاعاتی ٹکنالوجی کے پیش رفت سے پیدا ہونے والے معاشی اثرات کا شاکی رہا تھا۔ فرانس نے ثقافتی سامراجیت کی شکایت کی تھی۔ سویڈن نے بار بار اس قسم کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ اس طرح NWICO کو عالمی حمایت حاصل ہو سکی تھی۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد بالآخر 1976میں نیروبی میں ہونے والی یونیسکو کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں یونیسکو کو ہدایت دی گئی کہ وہ ترسیل کے مطالعہ کے لیے ایک کمیشن مقرر کرے۔ نتیجہ میں ایک سولہ رکنی کمیشن کو یہ کام سونپا گیا جس کے سربراہ آئرش وکیل، صحافی، سیاست داں، نوبل انعام یافتہ اور لینن انعام یافتہ سین میک برانڈ تھے۔ اس کمیشن نے 1979میں اپنی رپورٹ تیار کی جو اس قرارداد کی بنیاد بنی جسے 1980 میں بلغراد میں ہونے والے یونیسکو کے اکیسویں جنرل کانفرنس میں منظور کیا گیا اور جو نئے اطلاعاتی نظام کی جدوجہد کا ایک روشن باب ہے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا یک قطبی ہو گئی۔ اب خود اقوام متحدہ کا وجود خطرہ میں ہے۔ ناوابستہ ممالک کی تحریک بدلے ہوئے حالات میں اپنے استعمار مخالف کردار کو متعین کرنے میں ناکام ہے۔ NWICO پر گفتگو تقریباً ختم ہو چکی ہے اور تیسری دنیا کے ممالک کے لوگ معاشی اور تہذیبی یلغار کے سامنے اب بے بس نظر آرہے ہیں۔

قیاس لگایا جا رہا ہے کہ دنیا میں جو پانچ ہزار زبانیں اس وقت موجود ہیں ان میں سے پچاس فیصد، اس صدی کے اختتام تک گم ہو جائیں گی۔ زبانیں، انسانی تجربات کا گنجینہ ہیں —جب کوئی زبان معدوم ہوتی ہے تو اس کے ساتھ، انسانی تجربات کا ایک بڑا ورثہ بھی دفن ہو جاتا ہے۔ Andrews Dalby نے اپنی معروف کتاب Language in Danger (2002) میں اس کا بہت عمدہ تجزیہ پیش کیا ہے۔ لیکن اس کتاب میں اور ایسی دیگر مباحث میں زیادہ تر مغربی ممالک کا مطالعہ کیا گیا ہے ؛جبکہ ایشیا اور خصوصاً جنوبی ایشیا کی صورتحال بھی ایک تفصیلی مطالعہ کی متقاضی ہے ع

"صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے"

ماحولیات کے مشہور رسالہ Down to Earth نے 15فروری 2008 کے شمارے میں رپورٹ کیا تھا کہ نیپال میں ڈورا (Dura) نام کی ایک ایسی زبان بھی ہے جس کی بولنے والی صرف ایک 82سالہ سومادیوی بچی ہے۔ ڈورا، تبتی برمی خاندان کی زبان ہے اور سومادیوی کے مرنے کے بعد یہ زبان معدوم ہو جائے گی۔ اس لیے ایک نیپالی ماہر لسانیات کیدار ناگی لم (Kedar nagilum) نے اس زبان کے ڈیڑھ ہزار الفاظ اور دو سو پچاس جملوں کو محفوظ کر لیا ہے۔ ہندوستانی زبانوں کا مرکز اگر فنا پذیر ہندوستانی زبانوں کے لیے ایسا کوئی کام کرے تو کیا خوب ہو۔

Down to Earth نے اپنے اسی شمارے میں اطلاع دی تھی کہ کوسودا (Kusuda) یا کسنڈا (Kusunda) نامی زبان جسے گم شدہ سمجھ لیا گیا تھا، اس کے جاننے والے تین افراد اب بھی موجود ہیں۔ مغربی نیپال میں ایک ماں بیٹی اس زبان میں گفتگو کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور ضلع میں ایک 77سالہ عورت کا پتہ چلا ہے جو اس زبان کو جانتی ہے مگر 1940کے بعد اس کو اس کے استعمال کا موقع نہیں ملا۔ جب اسے، اس کا موقع فراہم کیا گیا تو اس نے اپنی گفتگو کی روانی سے لوگوں کو حیران کر دیا۔

ان دو چھوٹی چھوٹی خبروں کی تفصیل خاصی ہولناک ہے۔ کسنڈا اپنی انوکھی خصوصیات کی وجہ سے ان زبانوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں ماہر لسانیات یہ طے نہیں کر پائے ہیں کہ ان کو زبانوں کے کس گروہ (Phylum) یا خاندان (Family) میں شامل کیا جائے۔ ان کو وہ Language Isolates کا نام دیتے ہیں۔ جانوروں میں بھی ایک ایسی قسم ہے جس کو Connecting Linksیا Missing Links کہا جاتا ہے۔ وہ اگر ختم ہو جائیں تو ارتقاء کی تاریخ نامکمل رہ جائے گی۔ لہٰذا ایسی زبانوں کا ناپید ہونا ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ کسنڈا، نیپال کے قدیمی باشندے ہیں۔ ان کی بچی کھچی آبادی نے بیسویں صدی کے وسط میں اپنے لیے سنہا، سین، ساہی اور خان جیسے چار ہند۔ آریائی لقب اختیار کر لیے اور پھر دوسری زبان کے بولنے والوں میں مدغم ہوتے چلے گئے۔ 1960اور 1970 کی دہائی تک ان کے بولنے والے نظر آتے تھے مگر اب Down to Earth کی اطلاع کے مطابق کل تین افراد اس زبان کو جانتے ہیں۔

جنوبی ایشیا کی ایسی زبانیں جن کو Language Isolates کہا جاتا ہے ان میں نہالی (Nahali) بھی ہے جس کے بولنے والے، مدھیہ پردیش میں، تاپتی ندی کے جنوب میں گوالی گڑھ کی پہاڑیوں کے گرد بسے ہوئے ہیں۔ اب ان کے بولنے والوں کی تعداد دو ہزار بھی نہیں رہ گئی ہے۔

اسی قسم کی ایک اور زبان بورشکی (Burushki) ہے جس کے بولنے والے لوگ ہنزا اور نگر میں پچاس ہزار کی تعداد میں اور یٰسین میں اسی ہزار کی تعداد میں موجود ہیں۔ ان کی اچھی خاصی تعداد گلگٹ میں بھی آباد ہے۔ لیکن یہ زبان چاروں طرف سے ایرانی اور ہند آریائی زبانوں سے گھری ہوئی ہے اور باہری دنیا کا دباؤ اس پر بڑھتا جا رہا ہے۔ 1891 میں برطانیہ کے زیر نگیں آنے سے قبل یہ خطہ لگ بھگ خود مختار تھا۔ 1972میں بھٹو نے اس رجواڑے کی خود مختاری ختم کی اور 1974 میں رجواڑے کا ہی خاتمہ ہو گیا۔ 1968 میں بننے والی قراقرم شاہراہ کی وجہ سے باہری دنیا کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور اب چند دہائیوں میں اس زبان کے معدوم ہو جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

انڈومان جزائر میں، ایسی ہی انوکھی، تین درجن سے زائد زبانیں کھو چکی ہیں اور جو بچی ہیں ان میں سے جاروا (Jarwa) اور اونگ (Onge) کے بولنے والوں کی تعداد سو سے بھی کم ہے۔ اطلاع ملی ہے کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے شعبۂ لسانیات کے کوئی صاحب ایک پروجکٹ بنا کر وہاں کام کر رہے ہیں۔ مگر یہ کام ایک پروجکٹ سے کہیں بڑا ہے۔ 1

یہ آفت صرف ان زبانوں پر نہیں آئی ہے جن کو Language Isolates کہا جاتا ہے۔ George Van Driem نے جنوبی ایشیا کی فنا پذیر زبانوں کی جو تفصیل پیش کی ہے وہ خاصی ہولناک ہے۔

Down to Earth نے جس ڈورا زبان کے بارے میں اطلاع دی کہ اب اس کی بولنے والی صرف 82سالہ سو مادیوی بچی ہے، وہ زبان 1970 کی دہائی تک پوڑ ی (Paudi) اور می ڈِم (Midim) دریایوں کے درمیانی خطہ میں لم جن (Lumjun) میں بولی جاتی تھی۔ ڈورا جس تبتی۔ برمی خاندان سے تعلق رکھتی ہے اس خاندان کی اور بہت سی زبانیں فنا پذیر ہیں۔ مثلاً: اسی خاندان کی پیو (Pyu) جو موجودہ میان مار کے علاقہ میں بولی جاتی تھی اب تقریباً ناپید ہو چکی ہے۔ اسی خاندان کی ایک اور زبان رنگکاس (Rangkas) کے بولنے والے بیسویں صدی کی ابتداء تک موجود تھے مگر اب ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ اسی تبتی-برمی خاندان کی نیواریک زبانیں (Newarik Languages) جن میں تحریرکی روایت بارہویں - تیرہویں صدی میں موجود تھی، اپنے وطن کا ٹھمنڈو کی وادی میں معدوم ہو رہی ہیں اور ان کی جگہ نیپالی لے رہی ہے جو اس وادی کی بولی نہیں ہے۔

نیپال میں سو سے زائد زبانیں ہیں۔ مگر ان میں متعدد ایسی ہیں جن کے بولنے والوں کی تعداد سو سے زیادہ نہیں ہے۔ ان میں رائے (Rai) زبان ہے جس کے بولنے والوں کی تعداد 1991 میں پانچ لاکھ سے زائد تھی۔ 2001 کی ہندوستان مردم شماری میں ان کی تعداد 14ہزار بتائی گئی ہے۔ پھر لمبو (Limbu) گروپ کی زبانیں ہیں جن کے بولنے والے تقریباً تین لاکھ لوگ مشرقی نیپال سے سکم تک پھیلے ہوئے ہیں۔ 2001 میں اس کے بولنے والے 37,265 لوگ ہندوستان میں تھے۔ اس گروپ کی زبان Phedappe موجودہ نسل کی موت کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گی۔ لیکن اس سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اگر باقاعدہ کوشش نہیں کی گئی تو شاید اکیسویں صدی کے آخر تک پورے لمبو گروپ کا ہی خاتمہ ہو جائے گا۔ خود ہند آریائی خاندان کی تین زبانیں دنوور (Danuwar) ، درائی (Darai) اور ماجھی (Majhi) معدوم ہونے والی ہیں۔ اس لیے کہ اس کے بولنے والے نیپالی زبان کی طرف راغب ہو گئے ہیں۔ نیپال، اس کی ترائی اور منی پور میں بولی جانے والی متعدد ہند آریائی زبانیں تقریباً غائب ہو چکی ہیں ؛ ان میں کمہاروں کی بولی کہالی بھی ہے اور گنگائم بھی جو مشرقی بہار اور مشرقی نیپال میں مروّج تھی۔

اسٹروایشیاٹک خاندان، جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کا قدیم ترین لسانی خاندان ہے۔ اس خاندان کی چار زبانوں —یعنی Khmer، ویت نامی، کھاسی اور سنتھالی کو چھوڑ کر بقیہ دو سو سے زائد زبانیں خاتمہ کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ حتیّٰ کہ مون (Mon) زبان، جس میں تحریر کی روایت، ساتویں صدی میں موجود تھی، اس خطرہ کا شکار ہے۔ نکوبار جزائر میں اسی گروہ خاندان زبانیں پو (Pu) ، Powahat, Taihlong, Tatet, Ong, Lo'ong, Tehnu, Laful, Nancowryوغیرہ کے بولنے والوں کی مجموعی تعداد بیس ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ ان کے علاوہ وہاں ایک انوکھی زبان Shompenبھی ہے جس کے بولنے والے 1981میں 223افراد تھے۔

اسی لسانی گروہ کی تقریباً18 زبانیں — جن کے بولنے والے کئی لاکھ افراد جھارکھنڈ، مدھیہ پردیس، اڑیسہ، بہار، آسام اور مغربی بنگال میں پائے جاتے ہیں —ہر طرف سے ہند۔ آریائی زبانوں کا دباؤ جھیل رہی ہیں۔ ان میں سنتھالی کو چھوڑ کر بقیہ سب زوال پذیر ہیں۔ نہ صرف یہ کہ سنتھالی میں مزاحمت کی بڑی صلاحیت ہے بلکہ اسے سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہو گئی ہے۔ مگر بقیہ منڈا زبانوں کا کیا حشر ہو گا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

ہمیں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ یہ لسانی ڈرامہ صرف شمال تک محدود ہے اور جنوبی ہندوستان میں گویا سب ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ وہاں کنٹر، تامل، تلگو اور ملیالی کے علاوہ جو پچیس زبانیں مروج ہیں، ان کے سر پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ان میں Tulu جیسی خالص جنوبی دڑاوڑی زبان ہے جس کے بولنے والے دس لاکھ سے زائد لوگ منگلور اور کسرکوڈ میں پائے جاتے ہیں اور جس کا رسم خط "گرنتھ"، ملیالی جیسا ہے۔ اس میں 1842 سے نصابی کتابیں اور انجیل کے ترجمے چھپتے رہے ہیں۔ اسی طرح کی ایک اور زبان Kuvi ہے، جس کے بولنے والے پانچ لاکھ سے زائد لوگ اڑیسہ کے کالا ہانڈی سے آندھرا کے وشاکھا پٹم تک پھیلے ہوئے ہیں۔ عیسائی مبلغوں نے رومن اور اڑیہ دونوں رسم خط میں اس کی طباعت کی ہے۔ ان میں ایک دلچسپ دڑاوڑی زبان Brahui ہے جس کے پانچ لاکھ بولنے والے پاکستان کے حیدرآباد، کراچی اور خیرپور سے ہوتے ہوئے پاس کے افغانی اور ایرانی علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس میں تحریر کی روایت تین صدی پرانی ہے ؛ گرچہ اس کا ادبی سرمایہ زیادہ وقیع نہیں ہے۔ اس دڑاوڑی زبان کو فارسی کے ایک ترمیم شدہ رسم خط میں لکھا جاتا ہے —لسانیات کا جال، ساری حد بندیوں کو توڑ کر دلچسپ حقائق سے روبروکراتا ہے۔ مگرGeorge Van Driem کے سروے یا اس قبیل کی دیگر تحریروں میں بھی جنوبی ایشیا کی لسانی بو قلمونی کی مکمل تصویر نہیں ابھرتی ہے۔ مثال کے طور پر ہندی پٹی کی متعدد بولیوں کو قانونی طور پر ہندی کی بولیاں گردانا گیا ہے۔ اس لیے سروے میں بھوجپوری، مگہی، اودھی، برج وغیرہ کا الگ الگ ذکر مشکل سے ہوتا ہے۔ بہار کے 12اور مشرقی اترپردیس کے 16اضلاع پر مشتمل بھوجپور ی بولنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کی زبان بین الاقوامی حیثیت کی مالک ہے۔ دلیل یہ ہے کہ مارلیشس کی ستر فیصد آبادی در اصل بھوجپوری بولتی ہے۔ اسی طرح سوری نام، فجی اور بہت سے ممالک میں بھوجپوری بولنے والے آباد ہیں۔ بھوجپوری کا ادب بھی موجود ہے اور اس میں فلمیں بھی بن رہی ہیں۔ اب ایک ٹیلی ویژن چینل بھی کام کر رہا ہے۔ بھوجپوری میں ناول لکھنے والوں میں راہل سانکرتیاین جیسے قد اور لوگوں کا نام آتا ہے۔

بھوجپوری بولنے والوں کی نہ صرف تعداد بڑی ہے بلکہ اس میں مزاحمت کی بھی زبردست صلاحیت ہے۔ لیکن یہی بات مگہی، اودھی یا برج کے بارے میں نہیں کہی جاسکتی ہے۔ ان کا دائرہ دن بدن سمٹ رہا ہے۔ یہی حال ماڑواڑی، ہریانوی اور شمالی بہار کی زبان وجّیکاکا ہے۔ خود راجستھانی دباؤ کا شکار ہے۔ اس لیے مغربی ماہر لسانیات جو سروے پیش کر رہے ہیں مسئلہ اس سے کہیں بڑا ہے۔

دستور ساز اسمبلی میں 14 ستمبر 1949 کو ناگری رسم خط میں ہندی کو یونین کی زبان تسلیم کیا گیا اور اسے رابطہ کی زبان کی حیثیت سے ترقی دینے کی بات طے ہوئی تو اس کے پس پشت یہ تصور کار فرما تھا کہ یہ ہندوستان اور ملک کی دیگر زبانوں سے بڑے پیمانے پر جذب وقبول کا سلسلہ شروع کرے گی اور ان زبانوں کے تہذیبی عناصر کو سمیٹ کر ایک ایسے بڑے تہذیبی دھارے کی شکل اختیار کرے گی جس میں ہرلسانی خطے کے لوگ اپنا عکس دیکھیں گے۔ چنانچہ دستور کے دفعہ 351 میں مندرج ہے:

"دفعہ 351: ہندی زبان کو فروغ دینے کے لیے ہدایت

"یونین کا یہ فرض ہو گا کہ ہندی زبان کی اشاعت کو فروغ دے تاکہ وہ بھارت کی ملی جلی تہذیب کے تمام عناصر کے لیے اظہار خیال کے ذریعہ کے طور پر کام آئے اور، اس کے مزاج میں دخل انداز ہوئے بغیر، ہندوستانی اور آٹھویں فہرست بند میں مندرجہ، بھارت کی دوسری زبانوں میں استعمال ہونے والی تراکیب، اسلوب اور اصطلاحات کو جذب کر کے اور، جہاں بھی ضروری ہو یا مناسب ہو، اس کے ذخیرۂ الفاظ کے لیے اولاً سنسکرت اور ثانیاً دوسری زبانوں سے اخذ کر کے اس کو مالا مال کرے۔"

اس دفعہ کی منظور ی غیر متنازعہ نہیں تھی۔ 12 ستمبر 1949 کی سہ پہر میں این گوپالا سوامی آئنگر نے جو ترمیم پیش کی تھی اور جسے بالآخر 14ستمبر1949 کی شام تک منظور کر لیا گیا، اس کی بنیاد، ڈرافٹنگ کمیٹی میں اکثریت کی رائے پر تھی۔ ان تین دنوں میں جو بحث ہوئی وہ کوئی خوش گوار بحث نہیں تھی اور اب اسے انیسویں صدی کے لسانی تنازعہ کی طرح، محض ماضی سے سبق حاصل کرنے کے لیے پڑھاجاسکتا ہے۔ جواہر لال نہرونے 13 ستمبر 1949 کو اپنی تقریر میں اس پر بہت جامع تبصرہ کیا تھا۔ اپنی اس تقریر میں، این گوپالا سوامی آئنگر کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا:

"مجھے نہیں معلوم اس زبان کا مستقبل کیا ہو گا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر ہم ہندی کے معاملہ میں دانشمندی سے کام لیں گے۔ اسے اخراجی (Exclusive) کے بجائے جاذب (Inclusive) زبان بنا کر، اور اس میں ہندوستان کی زبان کے تمام عناصر کو سموکر جو اردو یا ملی جلی ہندوستانی کی شکل میں جلوہ گر ہوئی ہے —قانون کے ذریعہ نہیں، یاد رکھیے، اگر میں پھر یہ کہوں کہ اُس طرح نہیں کہ اسے جو لوگ ناپسند کرتے ہیں، ان پر ٹھونس کر—تو مجھے کوئی شک نہیں کہ یہ ترقی کرے گی اور ایک عظیم زبان بن جائے گی۔"

یہ وہ پس منظر تھا جس میں گوپالاسوامی آئنگرکی ترمیم 301I منظور ہوئی تھی، جو 981 ناگری کی شمولیت کے ساتھ، دفعہ 351 کی شکل میں دستور ہند میں شامل ہے۔ اس نے یونین کی زبان ہندی کی ترقی کے خطوط متعین کر دیے کہ یہ زبان ہندوستانی اور دیگر زبانوں کے ملے جلے تہذیبی عناصر کو سمیٹ لے گی اور اپنی لفظیات کے لیے، بنیادی طور پر سنسکرت مگر ثانوی طور پر دیگر ہندوستانی زبانوں کے ساتھ اخذ و قبول کا سلسلہ شروع کرے گی۔

سنسکرت کی بات یوں ضروری تھی کہ ہر ترقی پذیر زبان، اپنے الفاظ و اصطلاحات کے لیے اپنے قریب ترین کلاسیکی زبان پر انحصار کرتی ہے۔ مگر ہندوستانی اور دیگر قومی زبانوں سے اخذ و قبول کی بات بڑی دانشمندی سے کہی گئی تھی۔ لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔ ان الفاظ و اصطلاحات کو بھی خارج کر دیا گیا جو سرکاری کام کاج اور عدالت میں عام استعمال میں تھے۔ یعنی ہندی کو ایک بڑے تہذیبی دھارے میں بدلنے کے بجائے ایک چھوٹی ندی کی شکل میں ترقی دی گئی۔ تعصب کے اس کھیل نے ہندی کو ایک بڑے ورثہ سے محروم کر دیا۔ چنانچہ انگریزی کی یلغار اسے اس مقام پر لے آئی ہے جہاں ہندی زبان کا ایک پروفیسر اور ایک مرکزی یونیورسٹی کا صدر شعبہ، ہنگلس کی حمایت برسر عام کر رہا ہے اور اس پر کسی کو غصہ نہیں آ رہا ہے۔ گویا ہندی جیسی اہم زبان جس کے پس پشت، اس کی ماں جائی اردو کی عظیم الشان روایت موجود ہے، اس کی حیثیت ایک بیل کی سی ہو گئی ہے جو انگریزی کے تناور درخت کے بنا پھل پھول نہیں سکتی۔

عالم کاری کے اس دور میں، انگریزی زبان اور مغربی تہذیب کے مقابلہ میں ہندی کی پسپائی، اس کی داخلی توانائی کی کمی کا نتیجہ ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں ہندی کے جوشیلے ہمنوا اور بعض سیاسی پارٹیوں کے کارکنان، اترپردیس میں انگریزی کے سائن بورڈ پر سیاہی پوت رہے تھے۔ آج ان کی جانشین پارٹیوں کے ایجنڈے سے ہندی خارج ہو چکی ہے ؛اس لیے کہ اب ان کی تیسری نسل، ہندی زبان اور اس کی روایات میں رچی بسی نہیں ہے، بلکہ خالص مغرب زدہ ہے۔ دیگرہندوستانی زبانوں کی طرح، ہندی میڈیم میں پڑھنے والے وہ لوگ بچے ہیں جو انگریزی میں تعلیم حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ہندی کے بعض کم ہمت اُدبا اور دانشور، مسئلہ کی جڑ تک پہنچنے اور اس کا تدارک کرنے کے بجائے مارکیٹ اکانومی اور ہنگلش کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔ اس لیے ہمیں اس پورے عمل کے طبقاتی کرد ار پر غور کرنا چاہیئے —لینن نے 1914میں ایک مضمون لکھا تھا جس کے انگریزی ترجمہ کا عنوان ہے Is a Compulsory Official Language Really needed۔ پھر1928-30سے انحراف کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس نے سویت یونین کے بکھراؤ میں اپنا کردار ادا کیا اور اسی انحراف کے نتیجہ میں چین کے سنکیانگ میں ایسی بیچینی ہے کہ "دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا۔" کیا اچھا ہو کہ ہندوستانی زبانوں کے مرکز میں ان تمام امور پر غور و فکر کا سلسلہ شروع ہو۔

جب غور و فکر کا سلسلہ شروع ہو گا اور ہندی، اردو اور بولیوں کی ترکیب سے ہندوستانی کا خمیر تیار کریں گے تو یہ طے کرنا ہو گا کہ اس کا خمیر تدبھو مائل ہو گا یا تدسم کی طرف۔ اردو اپنے مزاج کے اعتبار سے تدبھو کی طرف مائل ہے۔ اٹھارہویں صدی میں خان آرزو اور شیخ علی حزیں کے درمیان معارضہ کی بنیاد یہی تھا۔ خان آرزو کا استدلا ل یہ تھا کہ ایران کی فارسی میں کسی لفظ کا تلفظ خواہ کچھ بھی ہو اور آپ اس سے کوئی بھی معنی مراد لیتے ہوں اردو میں وہی درست ہے جس طرح سے ہندوستان میں اسے بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اردو کا مزاج آج بھی وہی ہے۔ اصل لفظ سوریہ ہو گا مگر اردو میں سورج اور سورج گرہن اور سورج درشن ہی درست ہے۔ پانی اردو میں پانی رہے گا خواہ اس کا اصل تلفظ کچھ بھی رہا ہو۔ یہ اور ایسی بہت سی باتیں ہیں جن کے بارے میں طے کرنا ضروری ہے کہ ہندوستانی کا لسانی مزاج کیا ہونا چاہئے —وہ جو عوام بولتے ہیں یا کچھ اور۔

سوالات تو بہت ہیں۔ مسائل و مشکلات بھی بے شمار۔ مگر جذب و قبول اور اخذ واستفادہ کی ایک روایت بھی موجود ہے۔ جو دھپور یونیورسٹی میں پروفیسر نامور سنگھ کے ساتھ جو ہوا اس سے ہم سب واقف ہیں، مگر این سی ای آر ٹی کی ہندی کتابوں پر وہ کافی حد تک اثر انداز ہوئے۔ ہندوستانی زبانوں کے مرکز میں ہندی اور اردو دونوں کو لازمی طور پر پڑھانے کی جوروایت ان کی کوششوں سے شروع ہوئی وہ گزشتہ 36سال میں خاصی مستحکم ہو چکی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہندوستان کی کسی اور یونیورسٹی نے اس کی تقلید کی ہے مگر ان کے شاگرد چمن لال نے روزنامہ ٹری بیون کے ذریعہ پنجابی کو فارسی اور گورمکھی دونوں رسم خط میں پڑھانے کی حمایت کی اور راقم نے اس پر تفصیل سے مضمون لکھا۔ اس مرکز سے نکلنے والے بیشتر طالب علم اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں اور شاید یہی مناسب راہِ عمل ہے۔

ہم اگر انصاف کے طالب ہیں تو اپنے مزاج میں بھی منصفی پیدا کرنا لازم ہے۔ اور جب مزاج میں منصفی پیدا ہو گی اور چھوٹی سے چھوٹی زبان اور بولی کو پھولنے پھلنے کا موقع ملے گا، تو پھر ہندی، اردو اور دیگر ہندوستانی زبانوں اور بولیوں کا مشترکہ محاذ تیار ہو گا جس کی کمان میں تہذیبی یلغار کا مقابلہ کیا جاسکے گا۔ جمہوریت کا مطلب اکثریت بازی (Majoritism) نہیں ہے۔ جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی اقلیت کے حقوق کی حفاظت کی جائے ؛ خواہ وہ مذہبی اقلیت ہ یا لسانی اقلیت۔

(ہندوستانی زبانوں کا مرکز کے یومِ تاسیس کے موقع پر 28اکتوبر2009 کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں دیا گیا کلیدی خطبہ۔ اس جلسہ میں ہندوستانی زبانوں کے مرکز کے چیرمین پروفیسر چمن لال نے اپنی تقریر میں کہا کہ دسویں جماعت تک ناگری اور اردو دونوں رسم خط کو لازمی طور پر پڑھایا جائے تو یہ مسئلہ اپنے آپ ہی حل ہو جائے گا۔)

اعجاز عبید
اپریل ۲۰۱۹
مجموعہ مضامین