شوکت تھانوی

ملک کے مقبول ترین مزاج نگار تھے۔ آل انڈیا ریڈیو لکھنؤ کے منشی جی اور ریڈیو پاکستان کے قاضی جی کے نام سے کافی شہرت حاصل کی۔ شوکت تھانوی نے 1938میں آل انڈیا ریڈیو لکھنؤ کے لئے اپنا پہلا ڈرامہ "خدا حافظ" لکھا۔ اس کے بعد لکھنؤ اسٹیشن کے عملے میں مصنف اور اداکار اور پروڈیوسر کی حیثیت سے شامل ہوئے۔ انہوں نے نشری ڈرامے میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ شوکت تھانوی چونکہ خود ایک چابک دست صناع و اداکار ہیں۔ اس لئے ان کی نشری تمثیل کی اہم خصوصیت کردار نگاری ہے اور ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے نشری دنیا کو کئی مستقبل کردار دئے ہیں جو ضرب المثل بن گئے ان میں آل انڈیا ریڈیو کے منشی جی اور ریڈیو پاکستان لاہور کے قاضی جی زندہ جاوید ہیں۔ ان کے نشری ڈراموں کے کئی مجموعے چھپ کر منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ان میں ایک مجموعہ کا نام "سنی سنائی" ہے۔ اس طرح ریڈیو ڈرامہ نگاروں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں راجندر سنگھ بیدی، پروفیسر اشتیاق حسین قریشی، شاہد احمد دہلوی، مجموعہ سحر ہونے تک۔ سید انصار ناصری کے ڈراموں کے مجموعے کا نام وحشی ہے۔ مرزا ادیب نے ریڈیو کے لئے کافی تعداد میں ڈرامے لکھے جن میں چند مشہور ڈرامے یہ ہیں:

آنندکمار، ماں شہنائی، دیوار، بیٹا، بہن، پہاڑ کے دامن میں، فرعون کی محبوبہ وغیرہ

ان کے علاوہ ملک حبیب احمد، حفیظ جاوید، اسلم ملک، احمد ندیم قاسمی، عصمت چغتائی، محمود نظامی، سلطان حسین، انتظار حسین، یوسف ظفر، مختار صدیقی، عمیق حنفی، رفعت جمالی، کرتار سنگھ دگل، حیات اللہ انصاری، مجاہد علی عابد، محمد حسن، شمیم حنفی، اظہر افسر، فضیل حسین، وارث احمد خاں، قمر جمالی، آفاق احمد، رفعت سروش اور اظہار اثر نے ریڈیو ڈرامے لکھے۔ لہٰذا اردو کے نشری ڈراموں کی ایک خاصی تعداد موجود ہے۔ جسے کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ آج اسٹیج پر سرعام اردو کے ڈرامے ہندی ڈرامے سے منسوب کر کے اسٹیج کئے جا رہے ہیں۔ اس بحرانی دور میں ریڈیو ہی وہ واحد ادارہ ہے جس نے خالص اردو طبع زاد اور اخذ کئے ہوئے ڈرامے نشر کریں ہیں۔ تاہم ہمارے ناقدین نے اس صنف کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے اس کی قدرو قیمت اور ادبی حیثیت کے تعین میں دشواری آئی ہے۔ ان ڈراموں نے اردو کے فروغ میں نمایاں کردار کیا ہے۔ اسٹیج کے ڈرامے تو اسٹیج تک محدود رہے ہیں لیکن نشری ڈرامے کی پہنچ معاشرے کی عمومی سطح تک ہے جس کی وجہ سے نشری ڈراموں نے اردو ادب کو ڈرامے کے حوالے سے دور دراز علاقوں تک پہنچایا ہے اور زبان کے حوالے سے بھی اہم کام کیا ہے کیونکہ ریڈیو کا ہر پروگرام بولنے والی زبان میں نشر کیا جاتا ہے۔

اعجاز عبید
اپریل ۲۰۱۹
مجموعہ مضامین