معیشت کے نام پر اِنسان کو بیوقوف بنانے والے

کسی بھی معاشرے میں بد اِخلاقی، بدحالی یا جرائم اس وجہ سے نہیں پھلتے پھولتے کہ معاشرے میں وعظ و نصیحت یا اِخلاقی و مذہبی تلقین و تبلیغ کی کمی ہو جاتی ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ملکی قانون میں سقم اور بگاڑ رکھا گیا ہوتا ہے۔ اہل اقتدار آئین و قانون کو اِس طرح تشکیل دیتے ہیں کہ اُسے موم کی ناک کی طرح جب چاہے اپنے حق میں موڑ سکیں اور عدالتیں حکام کے سامنے دست بستہ رہیں۔ اِس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ رعایا کو بے بس کر کے اُن کی محنتوں کا ثمر اُن سے چھینا جائے اور عام محنت کش آدمی کے پاس صرف اُسی قدر چھوڑا جائے جس سے اُس کے سانس کی ڈوری چلتی رہے اور وہ مزید محنت کرنے کے قابل رہ سکے۔ ایسے ممالک حقیقت میں بیگار کیمپ ہوتے ہیں اور اِنہیں عرف عام میں ترقی پذیر یا تیسری دنیا کے ممالک کہا جاتا ہے۔ اِن کی سیدھی سادی پہچان یہ ہے کہ ان ممالک میں طبقاتی امتیاز بہت نمایاں ہوتا ہے اور عوام کو مفت اور فوری انصاف فراہم نہیں ہوتا۔

آج اِنسانیت کو غلام بنانے اور اُس کا اِستحصال کرنے کیلئے جو ہتھیار سب سے زیادہ اِستعمال ہوتا ہے اُس کا نام سود ہے۔ یہ سود غیر ملکی قرضوں پر روز افزوں ہو یا اِنٹرنیشنل بینکوں کی مقروض ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے منافع میں سے ان بینکوں کو ادا کرتی ہوں، بہر صورت اِس کا بوجھ عام شہری پر ہی پڑتا ہے۔ عالمی بینک وغیرہ کے قرضوں کے سود کی ادائیگی کیلئے لگائے جانے والے نت نئے ٹیکس اور کرنسی کی قدر میں کمی یعنی ڈی ویلیویشن اور افراط زر Inflation تو کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے البتہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے اِستحصال کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ مقامی چھوٹی صنعتوں کو باقاعدہ ملکی پالیسی Law of the Land کے تحت کچلا جاتا ہے تاکہ ملٹی نیشنل کی مہنگی مصنوعات جن کی قیمت بینکوں سے لیے گئے قرض کے سود کے بوجھ کی وجہ سے بڑھائی گئی ہوتی ہے، اِن مہنگی مصنوعات کے مقابلے میں ارزاں اشیاء بازار میں دستیاب ہی نہ ہوں اور شہری اِنہی مہنگی مصنوعات کو خریدنے پر مجبور ہوں جس سے اِس سود کی شکل میں عوام کی محنتوں کا پھل اُن بینکاروں کو پہنچتا رہے۔

اِس سارے عمل کے عقب میں وہ سب سے بڑا مفاد پرست شیطانی گروہ جسے مذاہب میں فرعون قارون اور ہامان کا نام دیا گیا ہے، کون ہے اور اِس عمل کا جواز کیا بنایا جاتا ہے؟ اِس پر گفتگو سے پہلے ہم پر لازم ہے کہ پراپیگنڈے سے متاثرہ اپنے اذہان میں موجود اُس تصور کی بیخ کنی کریں جو سود کو جنم دیتا ہے۔

اردو جرنلزم اکادمی
اپریل ۲۰۱۹
تالیف از اردو جرنلزم اکادمی