قانون کے خط و خال

جیسا کہ ہم سمجھ چکے ہیں کہ ایک جامع قانون مرتب کرنے کیلئے اِنسان کی بنیادی ضرورتوں کی نوعیت کو سمجھنا لازم ہے۔ ہم یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ آج کی جدید تعلیمات کی روشنی میں اِنسانی حقوق اور جنس وغیرہ کے جو تصورات اِنسانی ذہن پر ثبت ہوتے ہیں انہیں بنیاد بنا کر ترتیب دیئے گئے معاشرتی نظاموں نے جرائم میں کمی کی بجائے اضافہ ہی کیا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں پہلے اِنسانی حقوق اور جنس کے ضمن میں اپنے ان خود ساختہ تصورات کا اپنڈکس نکالنا ہو گا جو ہم اِنسانی ضرورت کی نوعیت کے بارے میں سمجھے بیٹھے ہیں۔ ہمیں جرم کی نہیں بلکہ محرکات کی تفتیش سے ابتدا کرنی ہو گی۔

ہم دیکھ چکے ہیں کہ دنیا بھر میں ہونے والے تمام جرائم اور ہر قسم کی سماجی برائیوں کے محرکات صرف دو عوامل ہیں، برتری کی طلب اور جنسی تشنگی۔ کوئی بھی فرسٹریشن خواہ وہ اِنفرادی ہو یا اِجتماعی، انہی دو عوامل میں سے کسی کے ضمن میں آتی ہے۔ یہی دو اِنسانی ضروریات ایسی ہیں جو تعیش، نمود و نمائش، اِختیارات اور عہدہ، شہرت یا نفسیاتی یا جنسی بیماریوں اور جرائم کی صورت میں اپنا رد عمل ظاہر کرتی ہیں لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر انہی دو عوامل یعنی برتری کی طلب اور جنسی تشنگی کو تکمیل کا مثبت اور محفوظ راستہ مل جائے تو جسمانی تحفظ کی ضرورت خود بخود مسائل کے دائرے سے باہر ہو جائے گی۔

اب ہم ان دونوں عوامل کا باری باری گہرائی سے جائزہ لیں گے۔

اردو جرنلزم اکادمی
اپریل ۲۰۱۹
تالیف از اردو جرنلزم اکادمی