انسان

قدرت کا عجیب یہ ستم ہے
انسان کو راز جو بنایا
راز اس کی نگاہ سے چھپایا
بے تاب ہے ذوق آگہی کا
کھلتا نہیں بھید زندگی کا
حیرت آغاز و انتہا ہے
آئینے کے گھر میں اور کیا ہے

ہے گرم خرام موج دریا
دریا سوئے بحر جادہ پیما
بادل کو ہوا اڑا رہی ہے
شانوں پہ اٹھائے لا رہی ہے
تارے مست شراب تقدیر
زندان فلک میں پا بہ زنجیر
خورشید وہ عابد سحر خیز
لانے والا پیام برخیز
مغرب کی پہاڑیوں میں چھپ کر
پیتا ہے مئے شفق کا ساغر
لذت گیر وجود ہر شے
سر مست مئے نمود ہر شے
کوئی نہیں غم گسار انساں
کیا تلخ ہے روزگار انساں
علامہ محمد اقبال
مارچ ۲۰۱۹
بانگ درا برصغیر کے عظیم شاعر و فلسفی محمد اقبال کی شاعری پر مشتمل پہلا مجموعہ کلام ہے جو 1924ء میں شائع ہوئی۔ بانگ درا کی شاعری علامہ محمد اقبال نے 20 سال کے عرصے میں لکھی تھی اور اس مجموعے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔