قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جُدائی

قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی
ہو صاحب مرکز تو خودی کیا ہے خدائی
جو فقر ہوا تلخی دوراں کا گلہ مند
اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
اس دور میں بھی مرد خدا کو ہے میسر
جو معجزہ پربت کو بنا سکتا ہے رائی
در معرکہ بے سوز تو ذوقے نتواں یافت
اے بندہ مومن تو کجائی تو کجائی
خورشید سرا پردہ مشرق سے نکل کر
پہنا مرے کہسار کو ملبوس حنائی
علامہ محمد اقبال
مارچ ۲۰۱۹
ضرب کلیم اردو زبان میں شاعری کی ایک کتاب ہے جو عظیم شاعر، فلسفی اور پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1936ء میں ان کی وفات سے صرف دو سال قبل شائع ہوئی۔