نہ کر ذکرِ فراق و آشنائی

نہ کر ذکر فراق و آشنائی
کہ اصل زندگی ہے خود نمائی
نہ دریا کا زیاں ہے نے گہر کا
دل دریا سے گوہر کی جدائی