دُرّاج کی پرواز میں ہے شوکتِ شاہیں

دراج کی پرواز میں ہے شوکت شاہیں
حیرت میں ہے صیاد یہ شاہیں ہے کہ دراج
ہر قوم کے افکار میں پیدا ہے تلاطم
مشرق میں ہے فردائے قیامت کی نمود آج
فطرت کے تقاضوں سے ہوا حشر پہ مجبور
وہ مردہ کہ تھا بانگ سرافیل کا محتاج