حاجت نہیں اے خطّۂ گُل شرح و بیاں کی

حاجت نہیں اے خطہ گل شرح و بیاں کی
تصویر ہمارے دل پر خوں کی ہے لالہ
تقدیر ہے اک نام مکافات عمل کا
دیتے ہیں یہ پیغام خدایان ہمالہ
سرما کی ہواؤں میں ہے عریاں بدن اس کا
دیتا ہے ہنر جس کا امیروں کو دوشالہ
امید نہ رکھ دولت دنیا سے وفا کی
رم اس کی طبیعت میں ہے مانند غزالہ