حسین احمد

عجم ہنوز نداند رموز دیں ورنہ
ز دیوبند حسین احمد ایں چہ بوالعجبی است
سرود بر سر منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبر ز مقام محمد عربی است
بمصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است