کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجے؟ ہم نے مدعا پایا

ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا

بے دماغِ خجلت ہوں رشکِ امتحاں تا کے
ایک بے کسی تجھ کو عالم آشنا پایا

سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاری
حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا

خاکبازیِ امید، کارخانۂ طفلی
یاس کو دو عالم سے لب بخندہ وا پایا

کیوں نہ وحشتِ غالبؔ باج خواہِ تسکیں ہو
کشتۂ تغافل کو خصمِ خوں بہا پایا