دل میرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا

دل میرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا
آتش خاموش کی مانند، گویا جل گیا

دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا

میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہا
میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا

عرض کیجیے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا، کہ صحرا جل گیا

دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ، داغوں کی بہار
اِس چراغاں کا کروں کیا، کارفرما جل گیا

دود میرا سنبلستاں سے کرے ہے ہمسری
بس کہ ذوقِ آتشِ گل سے سراپا جل گیا

شمع رویوں کی سر انگشتِ حنائی دیکھ کر
غنچۂ گل پر فشاں، پروانہ آسا، جل گیا

خانمانِ عاشقاں دکانِ آتش باز ہے
شعلہ رو جب ہو گئے گرمِ تماشا، جل گیا [1]

تا کجا افسوسِ گرمی ہائے صحبت، اے خیال
دل بسوزِ آتشِ داغِ تمنّا جل گیا [2]

میں ہوں اور افسردگی کی آرزو، غالبؔ! کہ دل
دیکھ کر طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا جل گیا

  1. نسخۂ حمیدیہ میں یہ مصرع یوں ہے: "شعلہ رویاں جب ہوئے گرمِ تماشا جل گیا" (جویریہ مسعود)
  2. نسخۂ حمیدیہ میں یہ مصرع یوں ہے: دل ز آتش خیزیِ داغِ تمنا جل گیا