دیوان غالب

شوق، ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلا
قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

زخم نے داد نہ دی تنگیِ دل کی یارب
تیر بھی سینۂ بسمل سے پَرافشاں نکلا

بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا، سو پریشاں نکلا

دلِ حسرت زدہ تھا مائدۂ لذتِ درد
کام یاروں کا بہ قدرِ لب و دنداں نکلا

[1] اے نو آموزِ فنا ہمتِ دشوار پسند!
سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا

شوخیِ رنگِ حنا خونِ وفا سے کب تک
آخر اے عہد شکن! تو بھی پشیماں نکلا [2]

دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالبؔ
آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سُو طوفاں نکلا

  1. بعض نسخوں میں "اے" کی جگہ "ہے" اور بعض میں اس کی جگہ "تھی" بھی چھپا ہے۔ حسرت موہانی اور طباطبائی کے نسخوں، نیز بعض دوسرے نسخوں میں "اے" ہی چھپا ہے۔ (حامد علی خاں)

  2. نسخۂ حمیدیہ میں مزید شعر (اعجاز عبید)