دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا

[1] دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا
"عشقِ نبرد پیشہ" طلبگارِ مرد تھا

تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اڑنے سے پیشتر بھی، مرا رنگ زرد تھا

تالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا

دل تا جگر، کہ ساحلِ دریائے خوں ہے اب
اس رہ گزر میں جلوۂ گل، آگے گرد تھا

جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہِ عشق کی!
دل بھی اگر گیا، تو وُہی دل کا درد تھا

احباب چارہ سازیِ وحشت نہ کر سکے
زنداں میں بھی خیال، بیاباں نورد تھا

یہ لاشِ بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

  1. شارحینِ کلام کے نزدیک وقفہ "جو" کے بجاے "گیا" کے بعد ہے۔ (حامد علی خان) ۔ حامد علی خان کے نسخے میں یہ مصرع یوں ہے: دھمکی میں مر گیا جو، نہ بابِ نرجد تھا (جویریہ مسعود)