علامہ اقبال اور وطنی قومیت

اب ذرا دوسری شخصیت کی طرف آیئے جو مسلمانانِ ہند میں سے ابھر کر سامنے آئی. یہ علامہ محمد اقبال تھے. جیسا کہ عرض کیا گیا‘ ان کی ابتدائی تعلیم اور خاندانی پس منظر کے اندر مذہبی اثرات بڑے گہرے تھے. لیکن ۱۸۹۹ء میں ایم اے کرنے کے بعد سے لے کر ۱۹۰۵ء تک کا اقبال اور تھا. اس دَور میں ایک طرف تو وہ ہندی نیشنلزم کے پرستار نظر آتے ہیں اور دوسری طرف ان کی شاعری میں گل و بلبل کے افسانے نظر آتے ہیں. چنانچہ’’ترانۂ ہندی‘‘ ان کا اُ سی دَور کا ترانہ ہے : ؎

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا 
ہم بلبلیں ہیں اس کی وہ گلستاں ہمارا!

آج بھی یہ ترانہ ہندوستان حکومت کی سرپرستی میں ریڈیو پر نشر کیا جاتا ہے.بلکہ اُس زمانے میں انہوں نے اپنی ایک نظم ’’نیا شوالہ‘‘ میں ایک شعر ایسا بھی لکھا جس کی ان کے بعد کے اشعار میں شدید ترین نفی ہوتی ہے: ؎ 

سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے
پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے
خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرّہ دیوتا ہے!

اس درجے گہری ہندی قوم پرستی اقبال کے اندر بھی موجود تھی. لیکن آپ ۱۹۰۵ء میں ۲۸ سال کی عمر میں انگلستان چلے گئے اور تین سال تک انگلستان اور جرمنی میں رہے. اس دوران انہوں نے بیرسٹری کی. چونکہ فلسفی تھے اور پی ایچ ڈی بھی کر چکے تھے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس عرصے میں اقبال کی قلب ماہیت ہو گئی. 

یہ بات میں اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ رہا ہوں. میں پہلی مرتبہ ۱۹۷۰ء میں انگلستان گیاجبکہ میرے چھوٹے بھائی ڈاکٹر ابصار احمد وہاں زیر تعلیم تھے تو میں نے مشاہدہ کیا کہ وہاں یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے اور ایک ایک دو دو پی ایچ ڈیز کیے ہوئے لوگ جمعہ کے روز اکٹھے ہوتے ہیں‘ قرآن پڑھتے ہیں‘ دروسِ قرآن کی محافل ہوتی ہیں. وہ ایک دوسرے کو قرآن مجید پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ تجوید کی غلطیوں کی اصلاح ہو سکے‘ جبکہ پاکستان میں میرے مشاہدے میں اس طرح کی بات نہیں آئی کہ یہاں اس سطح کے لوگ اس قسم کی مصروفیات میں مشغول ہوں. چنانچہ میرا تجزیہ یہ تھا کہ جن لوگوں کی بنیادی تربیت اور خاندانی اثرات میں مذہب کا عنصر موجود ہوتا ہے تو چاہے اپنے ملک میں رہتے ہوئے اس کے آثار زیادہ ظاہر اور نمایاں ہو کر سامنے نہ آئیں‘ لیکن جب وہ ایک مخالف ماحول میں پہنچتے ہیں تو اس ماحول میں ان کے اندر کی چنگاری شعلہ بن کر بھڑکتی ہے. امریکہ میں بھی میں نے یہی کچھ دیکھا ہے کہ یہی دو نتیجے نکلتے ہیں کہ جو لوگ وہاں جاتے ہیں اُن میں سے کچھ لوگ تو سیلاب کی رو میں بہہ جاتے ہیں ‘ وہاں کی تہذیب میں رنگے جاتے ہیں اور شراب و شباب اور رقص و سرود وغیرہ ساری چیزیں ان کی زندگیوں میں شامل ہو جاتی ہیں ‘ لیکن کچھ دوسرے لوگ جن میں دین کی حمیت کی کچھ چنگاری موجود ہوتی ہے وہ پھر دین کے معاملے میں فعال ہو جاتے ہیں اور وہ چنگاری ایک شعلہ بن کر بھڑک اٹھتی ہے .علامہ اقبال کے ساتھ بھی بعینہٖ یہی معاملہ پیش آیا. علامہ اقبال خود کہتے ہیں : ع ’’مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے‘‘. چنانچہ وہاں سے واپس آنے کے بعد ۱۹۰۸ء سے۱۹۳۰ء تک پورے ۲۲ برس علامہ اقبال نے یہی کچھ کیا کہ اسلام کے نظامِ فکر‘ فلسفہ اور حکمت کو اپنی شاعری اور نثر کے ذریعے بیان کیا اور قرآن کی ایک نہایت جدید اور بہت عمدہ تفسیر پیش کی.اگرچہ یہ تفسیرآپ کو ’’تفسیر ِاقبال‘‘ کے نام سے نہیں ملے گی‘ لیکن کلامِ اقبال خود تفسیر قرآن ہے. اقبال دعویٰ کرتا ہے کہ میرے پیغام میں سوائے قرآن کے اور کچھ نہیں ہے. اقبال سرورِ کائنات کے حضور مناجات کرتے ہوئے کہتے ہیں : ؎

گر دلم آئینۂ بے جوہر است
ور بحرفم غیر قرآں مضمر است
پردۂ ناموسِ فکرم چاک کن
ایں خیاباں را ز خارم پاک کن
روزِ محشر خوار و رسوا کن مرا!
بے نصیب از بوسۂ پا کن مرا!

’’اے اللہ کے رسولؐ ! اگر میرے دل کی مثال اس آئینے کی سی ہے جس میں کوئی جوہر ہی نہ ہو‘ اور اگر میری شاعری میں قرآن کے سوا کسی اور چیز کی ترجمانی ہے تو آپ میرے فکر کا پردہ چاک کر دیجیے اور اس چمن کو مجھ جیسے کانٹے سے پاک کر دیجیے. مزید برآں قیامت کے دن مجھے ذلیل و خوار کیجیے گااور مجھے اپنی قدم بوسی سے محروم کر دیجیے گا!‘‘ 

یہ اقبال کا دعویٰ ہے کہ اس نے جو کچھ کہا ہے قرآن سے کہا ہے.

مجھے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کا جو تھوڑا بہت فہم اور فکر دیا ہے اس کے ذرائع (sources) میں آٹھ اشخاص بہت نمایاں ہیں. ان میں سے دو ’’اَبوین‘‘ ہیں‘ یعنی ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور ابوالکلام آزادؒ . دو ’’دکتورَین‘‘ ہیں‘ یعنی ڈاکٹر محمد اقبال اور ڈاکٹر رفیع الدین. دو ’’شیخین‘‘ ہیں‘ یعنی شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدعثمانی ؒ . قرآن فہمی میں مَیں نے شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کا ترجمہ ٔقرآن مجید بہت مفید پایا ہے ‘ جس پر شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کے حواشی ہیں. ان کے علاوہ دو ’’حی این‘‘ ہیں ‘ یعنی مولانا حمید الدین فراہیؒ اور مولانا امین احسن اصلاحی ؒ ‘جنہوں نے قرآن مجید کے مضامین کے اندر موجود نظم کو واضح کیا ہے. اس طرح علامہ اقبال بھی میرے لیے قرآن مجید کے فہم اور فکر کا بہت بڑا ذریعہ ہیں. بلکہ بچپن میں ہی مجھ پر علامہ اقبال کا بہت زیادہ گہرا اثر ہے. میں پانچویں جماعت کا طالب علم تھا جب ان کی نظم ’’جوابِ شکوہ‘‘ کا یہ شعر میرے ذہن میں چپک کر رہ گیا: ؎

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر!

علامہ اقبال نے مغربی فکر پر شدید تنقید کی اور خاص طورپر مغربی تہذیب کی نفی کی.اس سب سے بڑھ کر وہ تجدیدِ ملت اسلامی اور احیائے فکر اسلامی کے علمبردار بن کر سامنے آئے. سب جانتے ہیں کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد ملت اسلامیہ کی کیا حالت ہو گئی تھی! سلطنت ِ عثمانیہ کی دھجیاں بکھر گئیں. نوآبادیاتی استعمار پورے عالم اسلام پر حکمران تھا اور عالم ِاسلام محکوم تھا.اقبال نے خوشخبری دی کہ اگرچہ اس وقت ملت اسلامیہ پسی اور دبی ہوئی ہے ‘لیکن اس کا دوبارہ غلبہ ہو گا‘ ملت اسلامیہ کی تجدید ہو گی‘ اسلام کی نشأۃ ثانیہ ہو گی. اس طرح اقبال اسلام کے روشن مستقبل کے مبشر بن کر سامنے آئے. اقبال نے ایک اور بہت بڑا کام جو کیا وہ ان کی طرف سے وطنی قومیت کی شدید ترین نفی ہے. اس لیے کہ اُس وقت وطنی قومیت مسلمانوںکو اپنے اندر ہڑپ کرنے کے لیے پوری قوت کے ساتھ زور لگا رہی تھی.ہندوؤں میں اُس دور میں مذہبی تجدید کا عمل بڑی شدت کے ساتھ شروع ہو چکا تھا. بنکم چیٹر جی ہندو احیاء کا بہت بڑا علم بردار تھا. اس نے ’’بندے ماترم‘‘ کا ترانہ پیش کیا جس میں زمین کی بندگی کا تصور ہے کہ بھارت ماتا! ہم تیرے بندے ہیں. بھارت میں آج بھی مسلمانوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ بھی سکولوں کے اندر یہ ترانہ پڑھیں اور مسلمان ابھی تک اس کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں. 

اس حوالے سے پھر دوسری شخصیت راجہ رام موہن رائے کی سامنے آئی . یہ شخص بہت بڑا عالم و فاضل اور دس کے قریب زبانوں کا ماہر تھا‘ جن میں مغربی زبانیں بھی تھیں اور مشرقی بھی.انگریز پادریوں نے جب یہاں پر تثلیث کی تلقین شروع کی تو یہ شخص مسلمانوں کا ہمدرد بن کر سامنے آیااورتثلیث کی نفی کے لیے ’’آئینہ توحید‘‘ کے نام سے کتابچہ لکھا. یہ کچھ ایسی شخصیت بننے کی کوشش کر رہا تھا کہ مسلمان بھی اس کو قبول کریں. اس کے بعد پھر اس نے ’’برہمو سماج‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا‘ اور وہی فلسفہ پیش کیا جو اس سے پہلے اکبر بادشاہ نے ’’دین الٰہی‘‘ کے نام سے پیش کیا تھا کہ اللہ کو تو سب مانتے ہیں‘ بس اس کے نام مختلف ہیں‘ کسی نے اس کا نام مہادیو رکھ دیا ‘ کسی نے اللہ اور کسی نے 
God .جبکہ شریعت اور رسالت (نعوذباللہ) فساد کی جڑ ہے‘ رسالت کی بنیاد پر شریعتیں مختلف ہو جاتی ہیں‘ عبادتیں مختلف ہو جاتی ہیں ‘لہذا اس کو پس پشت ڈالو. دین ِالٰہی یا بالفاظِ دیگر دینِ اکبری میں درحقیقت کوشش یہ تھی کہ تمام مذاہب کو ایک ہاون دستے میں کوٹ کر‘ چھان پیس کر اور ایک سفوف بنا کر پورے ہندوستان کا ایک ہی مشترک مذہب وجود میں لایا جائے. اُس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سر ہندی رحمہ اللہ علیہ کو کھڑا کیا جنہوں نے اس فتنے کی سرکوبی کی. رام موہن رائے نے بھی ’’مجلس ِایزدی‘‘ کے نام سے اسی قسم کے ایک ادارے کی داغ بیل ڈالی. یہ فلسفہ مسلمانوں کے حق میں میٹھی چھری کی مانند تھا. اس لیے کہ اسلام اور شریعت کا سارا دار و مدار تو رسالت اور نبوت پر ہے. بقول اقبال : ؎

بمصطفیٰ ؐ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است!

اگر قرآن کو حدیث و سنت اور رسالت سے کاٹ دیجیے تو پھر تو اسے موم کی ناک بنا کر جدھر چاہیں موڑ لیں‘ اس کی جو بھی تعبیر اور تشریح چاہیں کر لیں.

اس سلسلے کی تیسری تحریک دیانند سرسوتی کی ’’ آریہ سماج‘‘ تحریک تھی. یہ بہت ُپرتشدد اور جارحیت پسند (militant) تحریک تھی اور ہندو معاشرے میں اس کو بہت پذیرائی ملی. انہوں نے کھل کر یہ کہا کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک ہے‘ یہاں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ‘لہذا مسلمان یا ہندو ہو جائیں یا پھر یہاں سے ہجرت کر جائیں. اس آریہ سماج کے تحت پھر آر ایس ایس بنی جو ہندوؤں کی انتہائی جارحیت پسند تنظیم تھی. اسی طرح پھر شدھی کی تحریک شروع ہوئی کہ مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنایا جائے. ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے آباء و اجداد ہم ہی میں سے تھے جو مسلمان ہو گئے تھے‘ لہذا انہیں واپس لایا جائے . چنانچہ راجستھان کے علاقے میں یہ تحریک بڑی تیزی سے پھیل رہی تھی ‘جہاں مسلمانوں میں جہالت تھی‘ علم نہیں تھا. بس کسی صوفی اور بزرگ کے فیض سے وہ لوگ مسلمان تو ہو گئے تھے مگر ان کی تربیت کا کوئی انتظام نہیں ہو سکا تھا. مسلمان حکومتوں نے تو اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کا کوئی انتظام سرے سے کیا ہی نہیں تھا . اسی طرح میوات کے علاقے میں میو مسلمان بڑی تیزی کے ساتھ ہندو ہو رہے تھے. اسی شدھی کی تحریک کا مقابلہ کرنے کے لیے مولانا الیاسؒ نے تبلیغی جماعت کا نظام بنایا کہ بس چھ باتیں لے کر دیہاتوں میں جاؤ اور تبلیغ کرو ‘ کوئی تنخواہ نہیں ہو گی اور کھانے پینے کا انتظام بھی اپنا ہی کرنا ہو گا. پھر سنگھٹن کی تحریک شروع ہوئی کہ سب ہندوؤں کو جمع کر دیا جائے. ان حالات میں اقبال نے وطنیت کی شدید ترین نفی کی.ان کی نظم ’’وطنیت‘‘ ملاحظہ کیجیے: ؎

اِس دَور میں مے اور ہے ‘ جام اور ہے ‘ جم اور
ساقی نے بنا کی روشِ لطف و ستم اور
تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور
مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور 
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے!
یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیب نوی ہے
غارت گرِ کاشانۂ دین نبویؐ ہے
بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے تو مصطفویؐ ہے
نظارۂ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفویؐ خاک میں اِس ُبت کو ملا دے!

قلبِ ماہیت کا ذرا اندازہ کیجیے کہ وہی شخص جو کل کہہ رہا تھا کہ ع ’’خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرّہ دیوتا ہے!‘‘وہ آج اس وطن کو سب سے بڑا بت قرار دے کر اس کو پاش پاش کرنے کے لیے کس قدر زور دار الفاظ استعمال کر رہا ہے. قومی ریاست (Nation State) کا تصور اٹھارہویں صدی سے یورپ میں شروع ہوا کہ ایک ملک میں رہنے والے سب شہری برابر ہیں اور اُن کے اندر مذہب کا اختلاف کوئی حیثیت نہیں رکھتا‘ مذہب تو ہر شخص کا پرائیویٹ معاملہ ہے‘ سرکاری سطح کے اور اجتماعی معاملات کسی مذہب کے مطابق طے نہیں ہوں گے.
اس ضمن میں ان کا ایک قطعہ اس سے بھی بڑھ کر ہے : ؎

منزلِ راہرواں دور بھی ‘ دشوار بھی ہے
کوئی اس قافلہ میں قافلہ سالار بھی ہے؟
بڑھ کے خیبر سے ہے یہ معرکہ ٔدین و وطن
اس زمانے میں کوئی حیدرِ کرارؓ بھی ہے؟

واقعہ یہ ہے کہ علامہ اقبال نے اس سلسلے میں وہ کردار ادا کیا جو دین اکبری کا قلع قمع کرنے میں حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ نے ادا کیا تھا. اس اعتبار سے میں کہا کرتا ہوں کہ علامہ محمد اقبال حضرت مجدد الف ثانی کے بروز کی حیثیت رکھتے ہیں. اُن کوحضرت مجدد الف ثانی کے ساتھ گہری نسبت تھی. فرماتے ہیں : ؎

حاضر ہوا میں شیخ مجددؒ کی لحد پر
وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار
اِس خاک کے ذرّوں سے ہیں شرمندہ ستارے
اِس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحب ِاَسرار
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیٔ احرار
وہ ہند میں سرمایۂ ملت کا نگہباں
اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبردار

اقبال نے ان کو ’’سرمایۂ ملت کا نگہبان‘‘ کہا ہے اور سرمایۂ ملت کا تمام تر دارو مدار ایمان بالرسالت پر ہے. چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ علیہ کے مکاتیب میں سب سے زیادہ زور اطاعت رسول پر ہے. اکبر نے دین الٰہی کے ذریعے سے اطاعت رسول کی جڑ کاٹنے کی کوشش کی تھی لیکن مجدد الف ثانی ؒ نے اُس کو دوبارہ مستحکم کیا ہے.