نظریۂ پاکستان سے ہمارا انحراف

اب آیئے میری گفتگو کے ذرا تلخ حصے کی طرف . لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ع ’’پھر اس کے بعدچراغوں میں روشنی نہ رہی‘‘ کے مصداق اسلام کا وہ کھیل ختم ہو گیا. اس کے کیا اسباب تھے اور کون ا س کا ذمہ دار تھا‘ یہ ایک الگ بحث ہے‘ لیکن بحیثیت مجموعی پوری قوم تمام مسلمانانِ پاکستان اس کے ذمہ دار اور مجرم ہیں کہ اس کے بعد اسلام کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی. اسلام کا سوشل جسٹس کا نظام‘ عدلِ اجتماعی‘ اخو ت و بھائی چارہ ‘ مساوات اور آزادی‘ یہ سب کہاں ہیں؟ پاکستان کی سیاست اور حکومت پر سیکولرزم کا رنگ چھایا ہوا ہے‘ جس میں اب روشن خیالی کے نام سے نئے اَبعاد (dimensions) کا اضافہ کیا جا رہا ہے اور بات آگے سے آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے. 

ہماری معیشت سود پر مبنی ہے‘ حالانکہ اسلام کی رو سے سود سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں ہے. کسی گناہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے چیلنج نہیں آیا ‘لیکن سود کے گناہ پر اللہ کی طرف سے چیلنج آیا ہے کہ اگر باز نہیں آتے : 
فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (البقرۃ:۲۷۹’’تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ ہے‘‘. سود کی شناعت اور شدت کے بارے میں نبی اکرم کی یہ حدیث مبارکہ بھی ہے کہ : اَلرِّبَا سَبْعُوْنَ حُوْبًا‘ اَیْسَرُھَا اَنْ یَّنْکِحَ الرَّجُل اُمَّہٗ (ابن ماجہ) ’’سود کے گناہ کے ّستر حصے ہیں (کچھ چھوٹے ہیں اور کچھ بڑے ہیں) اور سب سے ہلکا گناہ اس کے مساوی ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ زنا کرے‘‘. اور مفکر پاکستان علامہ اقبال سود کے بارے میں کہتے ہیں کہ : ؎

از ربا آخر چہ می زاید فتن!
کس نہ داند لذتِ قرضِ حسن

کہ یہ سود تو اُمّ الخبائث ہے اور اس کے بطن سے تو خبائث ہی وجود میں آئیں گے. جبکہ قرضِ حسنہ ایک نعمت ہے اور اس کے اندر لذت ہے‘ جس سے آج کوئی واقف ہی نہیں.اور : ؎

از ربا جاں تیرہ دل چوں خشت و سنگ
آدمی درّندہ بے دندان و چنگ

یعنی اس سود کے ذریعے سے انسان کا باطن تاریک ہو جاتا ہے اور دل اینٹ اور پتھر کی مانند سخت ہو جاتا ہے. اب وہ انسان نما بھیڑیا ہے‘ اگرچہ بھیڑیے کی طرح اس کے دانت اور پنجے نہیں ہیں مگر وہ ایک طرح کا درندہ ہے. خود معمارِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کاافتتاح کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اب آپ کو اسلام کا نظامِ معیشت تیار کرنا ہے‘ اس مغربی نظام معیشت نے انسان کو کوئی خیر اور بھلائی عطا نہیں کی. 

بینکنگ کے نظام کی جو تلخ ترین حقیقت ہے اس تک علامہ اقبال کی نگاہِ تیز پہنچ گئی تھی اور انہوں نے کہہ دیا تھا : ؎

ایں بنوک ایں فکرِ چالاکِ یہود
نورِ حق از سینۂ آدم ربود

کہ یہ بینکاری یہودیوں کے چالاک اور عیار ذہن کی پیداوار ہے اور اس نے انسان کے سینے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نور کونکال باہر کیا ہے. یہودیوں نے انگلینڈ میں پہلابینک ’’بینک آف انگلینڈ‘‘ قائم کیا. اس سے پہلے یورپ میں بھی سود کی ممانعت تھی. جب تک پوپ کا اقتدار قائم تھا سود وہاں جائز نہیں تھا اور کمرشل اور مہاجنی (usury) دونوں طرح کے سود کی وہاں ممانعت تھی. لیکن یہودیوں نے عیسائیت کے ٹکڑے کیے اور پروٹسٹنٹ مذہب پیدا کیا ‘جس کا مرکز انگلستان بنا اور وہاں پہلا پروٹسٹنٹ چرچ ’’چرچ آف انگلینڈ‘‘ قائم ہوا. پروٹسٹنٹس نے پوپ کے خلاف بغاوت کی اور اس طرح یہودیوں نے پورے یورپ کو اپنے تسلط میں لے لیا. علامہ اقبال نے ۱۹۰۵ء سے ۱۹۰۸ء کے دوران اپنی نگاہِ حقیقت بین سے یورپ کا مشاہدہ کیا اور اس حقیقت تک پہنچ گئے کہ : ع ’’فرنگ کی رگِ جاں پنجہ ٔیہود میں ہے!‘‘
بینکنگ کے اس نظام کے بارے میں اقبال مزید فرماتے ہیں: ؎

تا تہہ و بالا نہ گردد ایں نظام
دانش و تہذیب و دیں سودائے خام

کہ جب تک بینکنگ کا یہ نظام ملیامیٹ نہیں ہو جاتا تب تک کہاں کی دانش‘ کہاں کی تہذیب اور کہاں کا دین؟ آپ کے علم میں ہو گا کہ اقبال کی پہلی تصنیف اقتصادیات پر تھی. وہ فلسفی‘ حکیم اور دانا انسان اس معاشی مسئلے کوبھی خوب جانتا تھا. اسی طرح یہاں پر غیر حاضر زمینداری‘ (absentee landlordism) نظام قائم ہے . یہ دورِ ملوکیت کی پیداوار ہے. دورِ بنو اُمیہ میں جو جاگیریں دی گئی تھیں‘ اسلام کے مجددِ اوّل عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے ان کے سارے وثائق اور دستاویزات منگوا کر انہیں قینچی کے ساتھ کتر کر پھینک دیا تھااور سب زمینداریاں اور جاگیرداریاں ختم کر دی تھیں. یہ پہلا تجدیدی کارنامہ تھا جو حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے سرانجام دیا. اس کے علاوہ تو ابھی وہاں کوئی خرابیاں آئی ہی نہیں تھیں‘ نہ غلط عقائد آئے تھے اور نہ کوئی غلط قسم کے فلسفے. 

اس کے بعد ہمارے ائمۂ اربعہ میں سے چوٹی کے دو ائمہ‘ اصحابِ روایت کے گلِ سرسبد امام مالک رحمہ اللہ علیہ اور اصحابِ قیاس کے سربراہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ ‘دونوں کے نزدیک مزارعت حرامِ مطلق ہے. اس موضوع پر ہم نے مولانا محمد طاسین صاحب کی کتاب ’’مروّجہ نظامِ زمینداری اور اسلام‘‘ شائع کی تھی جس میں یہ حدیث کم از کم دس ُطرق سے نقل کی گئی ہے کہ جس کے پاس زمین ہے وہ یا تو خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو دے دے ‘ لیکن اس کی پیداوار میں سے وہ ایک دانہ بھی لینے کا روادار نہیں ہو گا. یہ مزارعت تو ظالمانہ نظام ہے. اسلام کے نام پر قائم ہونے والے پاکستان میں نظر دوڑا کر دیکھئے کہ کہاں ہے وہ سوشل جسٹس؟ کہاں ہے خلافت راشدہ کے سنہری دَور کا عکس؟ کہاں ہے کفالتِ عامہ کا وہ نظام کہ بچہ پیدا ہو تو اس کا وظیفہ مقرر کر دیا جائے؟ جاگیردار اور زمیندارہاری کے خون پسینے کی کمائی پر عیش کرتا ہے. ان کے اپنے بچے انگلستان اور امریکہ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ‘جبکہ ہاری کے بچے کو نہ دوا ملتی ہے اور نہ تعلیم کی کوئی سہولت میسر ہے. 

مغرب کے تعلیمی نظام کے ذریعے جو تہذیبی یلغار آئی تھی وہ ابھی تک تو صرف اونچے طبقات مثلاً سول اور ملٹری بیورو کریسی تک محدود تھی کہ ان کی نشست و برخاست اور وضع قطع وغیرہ مغربی تھی‘ مگر اب یہ یلغار وسیع پیمانے پر آ رہی ہے ‘ بلکہ اب تو ہمارے اوپر دو طرفہ یلغار ہو رہی ہے .ایک یلغار تو تہذیب کے اعتبار سے مغرب کی طرف سے 
آ رہی ہے اور اب کھل کر مسلمانوں کی تہذیب کو برباد کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں. اس لیے کہ اب امریکہ زمین پر واحد سپریم طاقت ہے اور اسے کسی کا کوئی خوف نہیں ہے. جبکہ دوسری یلغار ہندوستان کی طرف سے آ رہی ہے.ان کی طرف سے تعلقات معمول پر لانے (normalization) کی باتیں ہو رہی ہیں اور ہم ان کا خیر مقدم کر رہے ہیں. ان کے ساتھ محبت اور دوستی کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں. ہماری تہذیب کے بارے میں سونیا گاندھی نے تو بہت پہلے یہ بات کہی تھی

"We have already conquered Pakistan culturally. Go and see the video shops of Karachi, they are full of the videos of Indian films."


پچھلے دنوں اخبار میں ایک کالم چھپا تھا. کالم نگار لکھتا ہے کہ میرے ایک دوست اپنے دوست کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کے لیے گئے. وہ دوست بہت رو رہے تھے اور وہ انہیں دلاسہ دے رہے تھے کہ اب صبر کرو. اُس نے کہا کہ میں صرف اپنی والدہ کے انتقال پر نہیں رورہا ہوں ‘بلکہ میں تو اس بات پر رو رہا ہوں کہ میری آٹھ سال کی بچی نے مجھ سے یہ کہا کہ ابا جان ہم اپنی دادی اماں کی ارتھی کو آگ کب لگائیں گے؟ یہ ہے آپ کی نئی نسل جو ہندوستانی فلمیں دیکھ کر ان کی تہذیب اور تمدن سے آشنا ہو رہی ہے.