دعوتِ فکر


اب اس سب کا حل کیا ہے ؟ اس کا حل ہے ’’توبہ‘‘سب سے پہلے انفرادی اور اجتماعی توبہ. تاریخ میں دو مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کسی قوم نے اجتماعی توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے اُس کی حالت بدل دی. حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر عذاب کے آثار شروع ہو چکے تھے‘ لیکن انھوں نے توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی. حالانکہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ عذاب کے آثار شروع ہو جانے کے بعد کوئی قوم توبہ کرے اوراس کی توبہ قبول ہو جائے ‘لیکن قومِ یونس ؑکے بارے میں کہا گیا : 
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ ’’ سوائے قوم یونس کے‘‘. اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت یونس علیہ السلام سے خطا ہو گئی تھی کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت آئے بغیر اپنی قوم سے ناراض ہو کر اسے چھوڑ کر چلے گئے تھے. لہذا جب وہاں عذاب کے آثار ظاہر ہوئے اور پوری قوم نے توبہ کی تو عذاب کے آثار ٹل گئے. اسی طرح یہودیوں کی تاریخ میں بھی ایسا ہوا ہے. یہودی انتہائی پستی میں گر چکے تھے جب بخت نصر کی صورت میں ان پر اللہ کے عذاب کا کوڑا برسا.اُس نے چھ لاکھ یہودی بیت المقدس میں قتل کیے تھے اور چھ لاکھ کو وہ قیدی بنا کر لے گیا تھا .بیت المقدس میں ایک متنفس بھی باقی نہیں رہا تھا اور ہیکل سلیمانی کی دو اینٹیں بھی سلامت نہیں رہی تھیں.پھرحضرت عزیر علیہ السلام نے توبہ کی منادی کہ لوگو توبہ کرو‘ پلٹو اپنے ربّ کی طرف‘ مشرکانہ اوہام اور بدعات سے توبہ کرو‘ اللہ تعالیٰ کے فرائض کو ادا کرواور شریعت کو اپنے اوپر نافذ کرو. اس طرح سے ان کی زندگی کے اندر ایک انقلاب آیا اور ان کی ایک عظیم تر حکومت قائم ہوئی جو مکابی سلطنت کہلاتی ہے. تو اب بھی ایسا ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری توبہ کو قبول فرما لے. 

اب سب سے پہلے ہمیں دعا کرنی چاہیے اور دعا سب سے پہلے صدر مشرف صاحب کے لیے. وہ ہمیں پسند ہوں یا نہ ہوں لیکن اس وقت اس ملک کی تقدیر ان کے ہاتھ میں ہے. تمام انسانوں کے دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں‘ وہ انہیں جدھر چاہے پھیر دے. تو دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ صدر پرویز مشرف کے دل کو بدل دے 
اور اب امریکہ کی طرف سے کوئی بڑا امتحان آئے تو وہ اس کے سامنے ڈٹ جائیں کہ جو کرنا ہے کر لو ‘ہمیں تو پاکستان اور اسلام کی سلامتی عزیز ہے. بابر بادشاہ کی مثال موجود ہے کہ جب اس کا رانا سانگا سے مقابلہ ہوا اور اسے شکست کا خطرہ محسوس ہوا تو اس نے توبہ کی‘ شراب کے برتن توڑے‘اللہ کی مدد مانگی ‘ نصرت خداوندی کو پکارا تو اللہ نے فتح دے دی. لہٰذا دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ صدر مشرف کے دل کو بھی بدل دے. میں سمجھتا ہوں کہ وہ پاکستان کے مخلص ہیں‘ دشمن نہیں ہیں‘ لیکن اصل بات جو ان کے سامنے نہیں ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کی جڑ اور بنیاد اسلام کے سوا کوئی نہیں‘ اور اس کی بقاء اور اس کا استحکام سوائے اسلام کے کسی اور شے سے ممکن نہیں. کاش یہ بات اُن کی سمجھ میں آ جائے ‘ اور یہ کوئی ایسی انہونی بات نہیں ہے. انسانی شخصیتوں کے اندر بھی انقلاب آ جایا کرتے ہیں. 

دوسری تو بہ ہے دستوری سطح پر توبہ. پاکستان کے دستور میں جو چور دروازے ہیں جن کی وجہ سے یہ دستور منافقت کا پلندا بنا ہوا ہے‘ وہ سارے چور دروازے بند کیے جائیں. اس کے لیے ہم نے ایک ترمیمی خاکہ بنایا ہے اور اسے بڑے پیمانے پر شائع کیا ہے. اس سلسلے میں ہم متحدہ مجلس عمل کے لوگوں سے بھی ملے ہیں. اس سے پہلے جب مسلم لیگ کو نواز شریف صاحب کی قیادت میں ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی تھی اور نواز شریف وزیر اعظم بن گئے تھے تو میں نے ان کے والد گرامی میاں محمد شریف صاحب کو ایک خط لکھا تھا ‘ جس کا کچھ اثر ہوا اور وہ اپنے تینوں بیٹوں نواز شریف‘ شہباز شریف اور عباس شریف کو لے کر میرے پاس تشریف لائے تھے اور وعدہ کیا تھا کہ ہم دستور میں یہ ترمیم کریں گے. اس کے بعد میاں شریف صاحب بیمار ہو گئے اور علاج کے لیے انگلینڈ چلے گئے. پھر جب شفایاب ہو کر واپس آئے تو میں نے اخبار میں اشتہار دے کر انہیں دوبارہ اس طرف متوجہ کیا کہ اپنے وعدے یاد کیجیے! اس کے بعد یہ چاروں حضرات دوبارہ میرے پاس تشریف لائے اوردستوری ترمیم کا وعدہ کیا. مزید برآں شہباز شریف نے سود کو ختم کرنے کے لیے تین سال کی مہلت مانگی ‘لیکن میں نے 
کہا یہ ایک سال کے اندر اندر ختم کیا جاسکتا ہے . اس پر میاں محمد شریف صاحب نے کہاکہ نہیں‘ یہ صرف چھ ماہ کے اندر ختم کیا جائے. لیکن وہ سارے وعدے ہوا ہوگئے. اس کے بعد پندرھویں ترمیم کا خاکہ آیا بھی تو وہ ایک انتہائی نامعقول چیز تھی.

بہرحال ہم اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ دستور میں وہ ترمیم ہو جائے جس کا ہم نے خاکہ بنایاتھی. اُس وقت جنرل حمید گل صاحب نے کہا تھا کہ اگر اس پر عمل ہو جائے توپاکستان میں ایک soft revolution آ جائے گا . پاکستان کے دستور میں خلافت کی جڑ بنیادموجود ہے‘ صرف کچھ دفعات نے اس کو غیر مؤثر کر دیا ہے‘ ان دفعات کا معاملہ اگردرست ہو جائے ‘ ان کی اصلاح ہو جائے تو یہ دستور خلافت کا بہترین دستور بن جائے گا. (۱)

تیسری بات یہ کہ اگر یہ soft revolution نہیں آتا تو ہمیں hard revolution کی تیاری کرنی ہے. اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں تبدیلی لائیں. معصیت کو ترک کریں‘ اپنی معاشرت اور معاش سے حرام چیزوں کو نکال باہر کریں. فرائض کی ادائیگی میں جو کوتاہی ہے اس کی تلافی کریں. اس انفرادی توبہ کے بعد مل جل کر ایک حزب اللہ بنائیں. یہ قرآن کی اصطلاح ہے .ارشادِ الٰہی ہے : اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۲۲﴾ (المجادلۃ) ’’ یہی لوگ اللہ کی جماعت ہیں‘ آگاہ رہو اللہ کی جماعت ہی کامیاب ہونے والی ہے‘‘. ہم نے اس حزب اللہ کے حوالے سے تنظیم اسلامی بنائی ہے اور یہ بیعت سمع و طاعت فی المعروف کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے. اگر کوئی شخص ہماری جماعت کے ساتھ متفق نہیں ہے تو کوئی بات نہیں‘ لیکن اللہ کے حضور میں توبہ تو ہر شخص کو کرنی چاہیے .اور انفرادی توبہ کے بعد ہر شخص طے کر لے کہ وہ کسی نہ کسی ایسی جماعت میں ضرور شامل ہو گا جو پاکستان میں اسلامی نظام قائم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے. کوئی شخص بھی اس جدوجہد سے خالی نہ رہے. (۱) دستور پاکستان میں ترمیم کا مجو زہ خاکہ اس کتابچے کے آخر میں ضمیمے کے طو رپر شامل کیا جا رہا ہے. اگر حزب اللہ طرز کی ایک جماعت معتدبہ تعداد میں تیار ہو جائے تو وہ ایک پرامن عوامی احتجاجی تحریک شروع کرے. یہ تحریک کسی کو نقصان نہ پہنچائے‘ کوئی توڑ پھوڑ نہ کرے‘ لیکن اپنی جانیں دینے کے لیے تیار ہو جائے. جیسے تہران کے اندر ایرانیوں پر فائرنگ ہوئی اور ہزاروں ایرانی جاں بحق ہوئے تو پھر بادشاہ کو وہاں سے بھاگنا پڑا.عوامی سیلاب کا ریلا جب آتا ہے تو نیشنل آرمی حکومت کا حکم مان کر فائرنگ تو کرتی ہے‘ لیکن پھر ایک وقت آتا ہے کہ ہاتھ اٹھا دیتی ہے. پاکستان میں جب قومی اتحاد کی بھٹو مخالف تحریک چل رہی تھی تواس میں بہت سے لوگوں نے جانیں دیں .لیکن پھر بریگیڈیئر محمد اشرف گوندل نے لاہور میں کہا کہ اب ہم مزید فائرنگ نہیں کریں گے. ایسے ہی دو بریگیڈیئر اور کھڑے ہو گئے تو بھٹو صاحب کے ہوش ٹھکانے آ گئے . چند دن پہلے جو انہوں نے کہا تھا کہ ’’میری کرسی بہت مضبوط ہے‘‘ تو انہیں معلوم ہو گیا کہ یہ کرسی تو مضبوط نہیں ہے‘ یہ تو محض فوج کے بل پر قائم تھی. 

اسی طرح یوکرائن‘ جارجیا‘ کرغیزستان اور لاطینی امریکہ میں جو کچھ ہوا وہ اس کی مثالیں ہیں. یہ یک طرفہ مسلح بغاوت نہیں بلکہ ایک پرامن منظم اور مضبوط جماعت کے زیرقیادت مطالبہ ہے کہ یہ چیزیں ختم کرو. تو اس طرح کی ایک عوامی تحریک کے ذریعے سے تبدیلی لانا گویا ایک hard revolution ہو گا. اس کے لیے ہماری تنظیم اسلامی بھی ہے اور تحریک خلافت بھی .اس مقصد کے لیے اور جماعتیں بھی کام کر رہی ہیں. میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ اس مقصد کے لیے قائم کی گئی جماعتوں کا تقابلی مطالعہ کریں اور جس جماعت پر آپ کا دل مطمئن ہو جائے کہ یہ اسلام کے لیے اور اسلامی انقلاب کے لیے صحیح کام کر رہی ہے تو اس میں شامل ہو جائیں. لیکن اس جدوجہد سے محروم کوئی شخص نہ رہے. 

ہماری ایک تنظیم اسلامی ہے اور ایک تحریک خلافت ہے. بعض لوگ اس میں ذرا اُلجھ جاتے ہیں کہ یہ دو تنظیمیں کیوں ہیں. تو مثال کے طور پر دیکھئے کہ ایک تحریک پاکستان تھی‘ لیکن جو جماعت اس کی علمبردار تھی اس کا نام مسلم لیگ تھا. اسی طرح ہماری ایک تحریک خلافت ہے اور جو جماعت اس کی علمبردار ہے اُس کا نام تنظیم اسلامی ہے. خلافت کے قیام کی خوشخبری دی ہے محمد رسول اللہ نے کہ قیامت سے پہلے پوری دنیا میں نظامِ ’’خلافت علیٰ منہاج النبوۃ‘‘قائم ہوگا‘ اور ہمیں پختہ یقین ہے کہ ایسا ہو کر رہے گا. اس میں کسی کو بھی شک و شبہ نہیں ہوناچاہیے‘ یہ خوشخبری صحیح اور پختہ احادیث کے اندر موجود ہے. ظاہر بات ہے کہ یہ نظامِ خلافت کسی ایک ملک سے شروع ہو گا. ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مشیت خداوندی بہت عرصے سے اس خطے کے لیے کوئی فیصلہ کر چکی ہے. اس لیے کہ تحریک خلافت چلی تو یہاں ہندوستان میں‘ اور کہیں بھی نہیں چلی. آزادی کی تحریکیں چلیں تو دوسرے ملکوں میں تو اپنے لوکل نیشنلزم کی بنیاد پر چلیں‘ لیکن یہاں پراسلام کے نام پر تحریک چلی. پاکستان معجزے کے طو رپر قائم ہوا اور رمضان المبارک کی ۲۷ ویں شب کو گویا اللہ کی طرف سے نازل ہوا. اسی طرح مجددین کا سلسلہ جو ایک ہزار برس تک عالم ِعرب میں رہا تھا‘ وہ ہندوستان میں منتقل ہوا. یہ وہ آیات اور کرامات ہیں جو پاکستان کے ساتھ وابستہ ہیں. 

اس کے بعد بھی اگر خدانخواستہ پاکستان ناکام ہو جاتا ہے تو جا ن لیجیے کہ ارشادِالٰہی ہے : وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَـبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ (محمد:۲۸’’اور اگر تم نے پیٹھ موڑ لی تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا‘‘. یعنی جو مشن ہم نے تمہارے حوالے کیا ہے تم نے اگر اس سے روگردانی کی تو ہم تمہیں ہٹائیں گے اور یہی مشن کسی اور کے حوالے کر دیں گے . اللہ تعالیٰ اس وقت سے ہمیں بچائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اسلام کے سپاہی بنیں اور یہاں اسلام کوقائم کرنے کی جدوجہد میں اپنا تن من دھن لگانے کے لیے تیار ہوجائیں! ورنہ ہمارا حشر وہ ہو گا جس کی مثال سورۃ الاعراف کی آیات ۱۷۵تا ۱۷۷میں بلعم بن باعورہ کی دی گئی ہے اور پھر صورت یہ ہوگی کہ ع : ’’تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں!‘‘ 

اعاذنا اللّٰہ من ذلک!!
اقول قولی ھذا واستغفر اللّٰہ لی ولکم ولسائر المسلمین والمسلماتoo
(ترتیب و تسوید : حافظ خالد محمود خضر‘ طارق اسماعیل ملک)