ایمانِ حقیقی کے عملی مظاہر

ایمانِ حقیقی کے اِن عملی مظاہر کا ایک رُخ وہ ہے جس کی ایک جھلک درس ششم کے ضمن میں سورۂ آل عمران کی آیت ۱۹۵ میں دکھائی جا چکی ہے‘ یعنی ایثار و قربانی‘ صبرو مصابرت‘ ثبات و استقلال‘ ہجرت و شہادت اور جہاد و قتال فی سبیل اللہ اور دوسرا رُخ وہ ہے جو سورۃ النور کی آیات ۳۶ تا ۳۸میں سامنے آتا ہے اور ذکرو مناجات ‘ تضرع و اِخبات‘ خوف و خشیت اوراقامت ِ صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ پر مشتمل ہے. ان آیات ِ مبارکہ کا ترجمہ حسب ِ ذیل ہے:

’’(نورِایمان کی جلوہ گاہیں) اُن گھروں میں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کو بلند کیا جائے اور ان میں اس کے نام کی مالا جپی جائے. ان میں ایسے جواں مردصبح کے وقت بھی اورشام کے اوقات میں بھی اللہ کی تسبیح کرتے ہیں‘ جنہیں کوئی کاروبار اور خرید وفروخت اللہ کی یاد اور نماز کے قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے غافل نہیں کر پاتی. (اور اس سب کے باوجود) وہ ایک ایسے دن (کے تصور) سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں جس میں دل اورنگاہیں سب الٹ جائیں گے. نتیجتاً اللہ انہیں ان کے اعمال کابہترین بدلہ دے گا اور انہیں اپنے فضل سے مزید نوازے گا. اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے!‘‘

ان آیات میں پہلی بات تو یہ سامنے آئی کہ اس روئے ارضی پر خارجی اعتبار سے اس نورِ ایمانی کے سب سے بڑے مراکز مسجدیں ہیں. یہ اللہ کے وہ گھر ہیں جن میں اہل ِایمان 
ہر روز پانچ مرتبہ جمع ہوتے ہیں. نورِ ایمان کا یہ ارتکاز اُن گھروںمیں ہوتا ہے جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ انہیں بلند کیا جائے‘ یعنی ان کا ادب اورتعظیم کی جائے اور ان میں اُس کا نام لیا جائے‘ یعنی اس کے نام کی مالاجپی جائے. آیت کے اس حصے کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک بہت ہی عمدہ اورپیارا قول ہمیں ملتا ہے‘ وہ فرماتے ہیں: المَساجدُ بیوتُ اللّٰہِ فی الارض‘ وہی تضیئُ لاہلِ السماءِ کما تضیئُ النّجومُ لاہلِ الارضِ ’’مسجدیں زمین پر اللہ کے گھر ہیں اور وہ آسمان والوں کو اسی طرح چمکتی نظر آتی ہیں جیسے زمین والوں کو ستارے چمکتے نظر آتے ہیں‘‘. حضرت ابن عباسؓ کے اس قول سے یہ بھی ظاہر ہے کہ اس نورِایمان کے‘ جس کا ذکر پہلی آیت میں ہوا تھا‘ سب سے بڑے مراکز اللہ کے یہ گھرہیں‘ اور جن لوگوں کے دلوں میں وہ نورِ ایمان پیدا ہو جاتا ہے بلاشبہ ان کے قلبی اطمینان اور دلچسپیوں کا سب سے بڑا مرکز یہ مسجدیں ہی ہوتی ہیں. چنانچہ ایک حدیث میں نبی اکرم نے ارشاد فرمایا کہ سات قسم کے اشخاص وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ حشر کے میدان میں خاص اپنے عرش کے سائے تلے جگہ دے گا‘ جبکہ کسی کو بھی کہیں سایہ میسر نہیں ہوگا. ان میں ایک قسم کے لوگ وہ بھی ہوں گے جن کے متعلق حضور نے فرمایا: وَرَجُلٌ قَلْبُــہٗ مُعَلَّـقٌ فِی الْمَسَاجِدِ (۱’’اوروہ شخص جس کا دل مسجدوںمیں اٹکا ہوا ہوتا ہے‘‘. ایسا شخص مسجد سے مجبوراً باہر نکلتا ہے ‘کیونکہ اس کے گھربارکی مصروفیات بھی ہیں‘ کاروبارکی ضروریات بھی ہیں اوردیگر حوائج ِضروریہ بھی ہیں‘ لیکن مسجد کے باہر اس کی کیفیت ایسی ہوتی ہے جیسے مچھلی کو پانی سے نکال لیا گیا ہو.گویا وہ ایک ضرورت اور مجبوری کے تحت مسجد سے نکلتاہے ‘ورنہ اس کا دل مسجد میں اٹکا رہتا ہے‘اور وہ منتظر رہتا ہے کہ جیسے ہی پھر اَذان کی آواز آئے وہ فوراً لپک کر مسجد کی طرف روانہ ہو جائے.

یہاں بلند کرنے کا مفہوم کیا ہے؟ اس کے متعلق ایک رائے تو یہ ہے کہ اس کامفہوم مجرد تعمیر کرنا ہے. تعمیر کے لیے بھی کنایتاً لفظ ’’رفع‘‘ قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے.جیسےسورۃ البقرۃ میں آیا ہے: 
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الاذان‘ باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلاۃ … وصحیح مسلم‘ کتاب الزکاۃ‘ باب فضل اخفاء الصدقۃ. وَ اِذۡ یَرۡفَعُ اِبۡرٰہٖمُ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَیۡتِ وَ اِسۡمٰعِیۡلُ ؕ (البقرۃ:۱۲۷

’’اور (یاد کرو) جب اٹھا رہے تھے ابراہیم ؑ خانہ کعبہ کی بنیادیں اور (ان کے ساتھ) اسمٰعیل ؑبھی.‘‘
ایک رائے یہ ہے کہ اس سے مراد مساجد کی تعظیم و احترام ہے‘ یعنی مسجد کو ہر نوع کی گندگی اور نجاست سے بھی پاک صاف رکھنا اور ہر قسم کے لغو کاموں اور لغو گفتگو سے بھی محفوظ رکھنا. یہ تو ہے ظاہری تعظیم و احترام .جیسا کہ بیت الحرام کے متعلق اسی سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

وَ عَہِدۡنَاۤ اِلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ اَنۡ طَہِّرَا بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الۡعٰکِفِیۡنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ ﴿۱۲۵﴾ 
’’اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل (علیہما السلام) سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ میرے گھرکو پاک صاف رکھیں گے طواف کرنے والوں کے لیے اور اعتکاف کرنے والوں کے لیے اور وہاں رکوع و سجود(نماز) کے لیے آنے والوں کے لیے.‘‘

اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ مسجدیں نجاست ِمعنوی یعنی شرک اور بدعت سے بھی پاک ہوں. ازروئے الفاظِ قرآنی:

وَّ اَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا ﴿ۙ۱۸﴾ (الجنّ) 
’’اور یقینا مساجد صرف اللہ ہی کے لیے ہیں‘ پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو.‘‘

مزید برآں الفاظ کے ظاہرسے یہ بھی متبادر اور مترشح ہوتا ہے کہ مسجد کی تعمیر بلند رکھی جائے تاکہ وہ دُور سے نظرآئے‘ اسے بستی میں نمایاں مقام حاصل ہو اوروہ اس بستی کا مرکز معلوم ہو. عربی بڑی فصیح و بلیغ زبان ہے. اس کے اکثر الفاظ معانی و مفاہیم کا گنجینہ ہوتے ہیں‘ لہذا میری رائے یہ ہے کہ یہاں 
’’تُرْفَع‘‘ میں یہ تینوںمفاہیم شامل ہیں.
آگے بڑھنے سے قبل ابھی اس آیۂ کریمہ (۳۶) کے پہلے حصہ پر ہی اپنی توجہات کو مرکوز کیجیے. فرمایا: 

فِیۡ بُیُوۡتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنۡ تُرۡفَعَ وَ یُذۡکَرَ فِیۡہَا اسۡمُہٗ… 
’’ان گھروںمیں کہ جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ انہیں بلند کیا جائے اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے…‘‘

یہاںہمارے دین کی ایک جامع اصطلاح ’’ذکر‘‘ کا بیان ہواہے. اس اصطلاح میں ہر نوع کا ذکر آ گیاہے. نماز خودایک ذکر ہے. سورۂ طٰہٰ میں ارشاد ہوتاہے: 
اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکۡرِیۡ ﴿۱۴﴾ ’’نماز قائم کرو میرے ذکر( میری یاد)کے لیے‘‘. جبکہ سورۃالحجر میں فرمایا: اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۹﴾ ’’یقینا ہم نے اتارا ہے یہ ’’الذکر‘‘ (یعنی قرآن مجید) اور بے شک ہم ہی اس کے محافظ (اور نگہبان) ہیں‘‘. سورۂ ھود میں فرمایا:

وَ جَآءَکَ فِیۡ ہٰذِہِ الۡحَقُّ وَ مَوۡعِظَۃٌ وَّ ذِکۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۲۰
’’اور آیا (اے نبیؐ !) آپ کے پاس اس (قرآن ) میں بلاشبہ’’ الحق‘‘ اور نصیحت اور یاد دہانی اہل ایمان کے لیے ‘‘.

گویا خود قرآن حکیم ذکر ِکامل بھی ہے اور ذکر ِمجسم بھی. ایک بڑی پیاری حدیث ہے جس میں نبی اکرم نے ارشاد فرمایا: 

مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِیْ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتِ اللہِ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللہِ وَیَتَدَارَسُوْنَــہُ بَیْنَھُمْ اِلاَّ نَزَلَتْ عَلَـیْھِمُ السَّکِیْنَـۃُ وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ وَحَفَّتْھُمُ الْمَلَائِکَۃُ وَذَکَرَ ھُمُ اللہُ فِیْمَنْ عِنْدَہُ (۱)
’’جب بھی کبھی کچھ لوگ اللہ کے گھروںمیں سے کسی گھر میں جمع ہوتے ہیں ‘ اللہ کی کتاب کی تلاوت اور اس کے درس و تدریس (اور افہام و تفہیم) کے لیے تو اُن پر سکینت کا نزول ہوتا ہے‘ رحمت ِ الٰہی ان کو اپنے سائے میں لے لیتی ہے‘ فرشتے ان کے گرد گھیرا ڈال لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ملأ اعلیٰ (یعنی ملائکۃ المقربین ) کی محفل میں ذکر فرماتا ہے (کہ اِس وقت میرے کچھ بندے میرے گھر میں صرف میری کتاب کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے جمع ہوئے ہیں).‘‘

ان گھروں کے بارے میں جنہیں اللہ نے بلند کرنے اور ان میں اپنے نام کا ذکر کرنے کا حکم دیا ہے آگے ارشادہوتا ہے: 
یُسَبِّحُ لَہٗ فِیۡہَا بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ ﴿ۙ۳۶﴾ ’’ان گھروںمیں صبح کے وقت اور شام کے اوقات میں اُس کی تسبیح کرتے ہیں‘‘. (۱) صحیح مسلم‘ کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار‘ باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن والذکر. یہاں صبح کے وقت کے لیے لفظ ’’غُدُوِّ‘‘ آیا ہے. ’’غُدُوِّ‘‘ مصدر ہے ‘اس کی جمع نہیں ہوتی‘ قرآن مجید میں یہ لفظ ہمیشہ واحد آتا ہے. اٰصَالِ‘ اَصِیل کی جمع الجمع ہے‘ ’’اَصِیل‘‘ کی جمع ’’اُصُل‘‘ اور اس کی جمع ’’آصَال‘‘ ہے. ان دو الفاظ ’’غُدُوِّ ‘‘ اور ’’آصَال‘‘ میں اشارہ ہے اس طرف کہ صبح کے وقت تو فرض نماز ایک ہی ہے‘ لیکن شام کے اوقات میں یعنی سورج کے ذرا ڈھلنے کے بعد سے رات کے تاریک ہونے تک چار فرض نمازیں ہیں‘ جن کا سلسلہ ظہر کی نماز سے شروع ہو کر عشاء کی نماز پر ختم ہوتا ہے. اسی کی طرف سورۂ بنی اسراء یل کی اس آیت مبارکہ میں اشارہ ہے:

اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ وَ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ ؕ (آیت۷۸ ) 

’’نماز کو قائم رکھو سورج کے ذرا ڈھلنے کے بعد سے لے کر رات کے تاریک ہونے تک اور فجر کے وقت قرآن مجید کا پڑھنا.‘‘ 

’’ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ‘‘ میں ظہر سے عشاء تک کی چار فرض نمازیں آگئیں اور ’’ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ‘‘ سے مراد صلوٰۃ الفجر ہے. اس طرح پانچ فرض نمازوں کا ذکرہو گیا.