عرضِ مرتب

قرآنِ حکیم ربِّ کائنات کا نہایت بابرکت اور پُر عظمت کلام ہے جو نبی آخر الزماں محمد رسول اللہ  کے ذریعے نوعِ انسانی کو عطا ہوا. یہ دراصل نوعِ انسانی کے نام اللہ جل شانہٗ کے آخری اور کامل ترین پیغامِ ہدایت کا درجہ رکھتا ہے. بقول علامہ اقبال ؎

نوعِ انساں را پیامِ آخریں
حاملِ اُو رحمۃٌ للعالمیں

یوں تو قرآنِ حکیم پوری نوعِ انسانی کے لیے ہدایت کا خورشید تاباں بن کر نازل ہوا ٗ اور اسی لیے اس کے بالکل آغاز ہی میں ٗ یعنی سورۃ البقرۃ کے تیسرے ہی رکوع میں نوعِ انسانی سے براہِ راست خطاب ’’یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ‘‘ کے الفاظ سے ہوا ٗ تاہم اس میں انسانوں کے مختلف طبقات سے علیحدہ علیحدہ بھی خطاب کیا گیا ہے . مکی سورتوں میں خطاب کا اصل رُخ مشرکینِ عرب اور سردارانِ قریش کی جانب ہے کہ قرآنِ حکیم کے اوّلین مخاطب وہی تھے. مشرکینِ عرب جو کہ قبل ازیں آسمانی ہدایت سے محروم تھے ٗ اور اسی بناء پر آخرت اور رسالت کے تصورات کے منکر تھے ٗلہذااُن سے قرآن کا خطاب کرنا گویا نوعِ انسانی کے اُن تمام طبقات سے خطاب کے مترادف ہے جو آسمانی ہدایت سے بے بہرہ ہونے کے باعث توحید، آخرت اور رسالت کے صریحاً منکر ہیں اور ’’ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا ‘‘ کے مصداق ہیں. نوعِ انسانی کا ایک قابلِ ذکر حصہ وہ بھی ہے جو سابقہ آسمانی کتابوں کا ماننے والا ہے یعنی یہود و نصاریٰ. اُن سے خطاب کا بھی خصوصی اہتمام قرآنِ حکیم میں جابجا نظر آتا ہے. ’’ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ ‘‘ کا پیرایۂ خطاب قرآن نے انہی کے لیے اختیار کیا ہے، اور نوعِ انسانی کا وہ طبقہ جو قرآنِ حکیم کو اﷲ کی طرف سے کتابِ ہدایت اور نبی آخر الزماں  کو اﷲ کا آخری نبی تسلیم کرتا ہے ٗ یعنی اُمت مسلمہ ٗ اُن سے بھی خصوصی خطاب بکثرت و باہتمام ملتا ہے. سب جانتے ہیں کہ ’’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا‘‘ کے مخاطبین اُمت مسلمہ کے افراد ہیں ٗ اور مدنی سورتوں میں خطاب کا اصل رخ مسلمانوں ہی کی جانب ہے. وہ تمام آیات جن میں خطاب براہِ راست مسلمانوں سے ہے ٗ مسلمانوں کی دینی ذمہ داریوں ٗ اخلاق و معاملات سمیت صراطِ مستقیم کے تمام عملی پہلوؤں کی تفصیلی وضاحت اور نبی اکرم  کے مشن یعنی ’’شہادت علی الناس‘‘ اور ’’غلبۂ دینِ حق‘‘ کے حوالے سے مسلمانوں کے فرائضِ منصبی اور اُس سے متعلق عملی معاملات کی وضاحت و رہنمائی پر مشتمل ہیں. انہی اُمور کی مزید تفصیل و وضاحت ہمیں نبی اکرم  کے اقوال و اعمال میں ملتی ہے جو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں. آج مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ اُن کی عظیم اکثریت قرآن کو محض ایک مقدس کتاب کی حیثیت سے جانتی ہے ٗ جس کو کسی معطر ریشمی جُزدان میں لپیٹ کر کسی طاق میں سجا دینے کو ہی منتہائے مقصود کا درجہ دے دیا گیا ہے. قرآن کی تعلیمات ٗ نوعِ انسانی کے نام اس کے ابدی پیغام اور خود مسلمانوں کے لیے وہ تفصیلی پیغامِ ہدایت جو قرآن میں مذکور ہے ٗ اُس سے آج کا انسان قطعی نابلد اور بے بہرہ ہے ٗ اور ستم بالائے ستم یہ کہ اسے اس کی اہمیت کا سرے سے کوئی احساس نہیں ؎ 

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا 
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

قرآن سے دوری ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج پوری امت زوال وانحطاط سے دوچار ہے اور ذلت ورسوائی ملتِ اسلامیہ کا مقدر بنی ہوئی ہے 
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر 
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہوکر 

والدِ محترم نے ٗ جو بفضل اﷲ تعالیٰ دورِ حاضر کے معروف داعی الی القرآن کے طور پر جانے جاتے ہیں ٗ اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے 1966ء میں شہر لاہور میں درسِ قرآن کے حلقوں کا آغاز کیا تھا اور مسلمانوں کو اُن کی دینی ذمہ داریاں یاد دلانے اور دین کے ہمہ گیر اور جامع تصور کو دوبارہ اُجاگر کرنے کی خاطر قرآنِ حکیم کے چند منتخب مقامات پر مشتمل ایک نصاب ترتیب دیا تھا. یہ قرآنی نصاب جس کا نقطۂ آغاز سورۃ العصر ہے ٗ بحمد اﷲ نہایت مؤثر اور مفید مطلب ثابت ہوا. اِس منتخب نصاب میں قرآنِ حکیم کے اُن مقامات کو باہتمام شامل کیا گیا ہے جن میں خطاب براہِ راست مسلمانوں سے ہے اور یوں مسلمانوں کی فکری و عملی رہنمائی پر مشتمل یہ جامع نصابِ قرآنی دروسِ قرآنی کی شکل میں بحمد اﷲ بہت وسیع حلقے تک پھیلا. بعد ازاں رفقاء و احباب کی طرف سے یہ مطالبہ زور پکڑنے لگا کہ اسے کتابی شکل میں بھی شائع کیا جائے. عرصہ ہوا ٗ اس منتخب نصابِ قرآنی کے دروس کی اسٹوڈیو ریکارڈنگ کراچی کے ایک صاحبِ ذوق شخصیت لطف اﷲ خان صاحب نے بڑے اہتمام سے کی تھی ٗ جو چوالیس کیسٹوں میں مکمل ہوئی. چنانچہ راقم السطور نے اﷲ کی نصرت و تائید کے بھروسے پر کیسٹ سے اُن دروسِ قرآنی کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کرکے اور ضروری Editing کے بعد ماہنامہ میثاق میں اُن کی سلسلہ وار اشاعت کے کام کا آغاز کیا. علومِ قرآنی کے طالبان کی سہولت کے لیے ہر کیسٹ پر مشتمل ایک الگ کتابچہ شائع کرنے کا بھی اہتمام کیا گیا اور اب ایک اور دیرینہ مطالبے کو پورا کرنے کی خاطر ان کو جمع کرکے کتابی صورت میں شائع کرنے کا اہتمام کیا جارہا ہے جس کے لیے میں اپنے بزرگ ساتھی محترم عبد الرزاق کوڈواوی صاحب اور اُن کے نوجوان معاون عزیزم اویس پاشا کا ممنونِ احسان ہوں جن کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں یہ مقدس اور بابرکت کام پایۂ تکمیل کو پہنچا. جزاہم اللّٰہ احسن الجزاء 

خاکسار عاکف سعید عفی عنہ
قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی
۲۶؍دسمبر ۲۰۰۹ء