زورِ کلامتاکید کی انتہا

سب سے پہلی بات یہ کہ اس میں جو حقیقت بیان کی گئی ہے وہ انتہائی مؤکد پیرائے میں ہے.اس لیے کہ اوّلاً اس سورۂ مبارکہ کا آغاز ایک قَسم سے ہو رہا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ قَسم ہمیشہ تاکید کے لیے کھائی جاتی ہے. اگرچہ قرآن مجید کو اللہ کا کلام ماننے اور اس پر ایمان رکھنے والوں کے لیے محض اللہ کا فرمانا ہی انتہائی تاکید کا حامل ہے کہ ؏ : ’’مستند ہے ان کا فرمایا ہوا!‘‘ لیکن جہاں اللہ تعالیٰ کسی بات کو مزید مؤکد کرنا چاہتے ہیں وہاں اس کے آغاز میں مضمون کی نسبت سے کسی قَسم کا اضافہ فرما دیتے ہیں. ثانیاً آیت ۲ کا آغاز ایک حرفِ تاکید سے ہو رہا ہے. عربی زبان سے معمولی سی واقفیت رکھنے والے حضرات بھی جانتے ہیں کہ حرفِ ’’اِنَّ‘‘ تاکید کے لیے آتا ہے جس کا ترجمہ بالعموم ہوتا ہے تحقیق‘ یقینا‘ بلاشک و شبہ. پھر اسی آیت میں لامِ تاکید کا اضافہ بھی ہوا ہے. ’’ لَفِیۡ خُسۡرٍ ‘‘ میں ’’ل‘‘ تاکید کا فائدہ دے رہا ہے. تاکید کے مزید کئی اسالیب بھی اس سورۂ مبارکہ میں اختیار کیے گئے ہیں‘ لیکن اندیشہ ہے کہ یہاں اُن کا بیان کچھ ثقالت کا حامل ہو جائے گا. تاہم عربی دان حضرات جانتے ہیں کہ عربی زبان میں کسی کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے جتنے ممکن اسالیب ہیں وہ سب کے سب اس مختصر سی سورۃ میں جمع کر دیے گئے ہیں ‘جو نحوی اعتبار سے ایک سادہ جملے پر مشتمل ہے.