’’عصر‘‘کی حقیقت

لفظ ’’ الۡعَصۡر‘‘ پر بھی غور کیجیے! ’’عصر‘‘ کا ترجمہ بالعموم ’’زمانہ‘‘کیا جاتا ہے‘ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ ’’زَمَان‘‘ بھی عربی زبان کا لفظ ہے اور وقت بھی. عجیب بات یہ ہے کہ پورے قرآن مجید میں لفظ ’’زَمَان‘‘ کا استعمال کہیں نظر نہیں آتا. البتہ ’’وقت‘‘ کا استعمال ایک دو مقامات پر مل جاتا ہے. اس ضمن میں قرآن مجید میں ’’عصر‘‘ اور ’’دھر‘‘ کے الفاظ کا استعمال زیادہ نظر آتا ہے.

علم طبیعیات (Physics) سے دلچسپی رکھنے والے حضرات جانتے ہیں کہ آج انسان کی رسائی اس حقیقت تک ہوئی ہے کہ زمان و مکان دو متضاد حقیقتیں نہیں‘ بلکہ ایک وحدت ہیں اور باہم مربوط ہیں‘ بلکہ جیسا کہ آئن سٹائن (Einstein) نے کہا کہ زمان (time) دراصل مکان (space) ہی کی ایک جہت(dimension) ہے. واقعہ یہ ہے کہ لفظِ عصر اور لفظِ دہر دونوں میں زمان و مکان کی وحدت کی طرف اشارہ موجود ہے‘ اگرچہ ان دونوں الفاظ میں ایک باریک سا فرق بھی ہے. لفظِ دہر میں زمانے کا پھیلاؤ اور اس کی مکانیت زیادہ پیش نظر ہے جبکہ لفظِ عصرمیں اس کے مرور اور اس کی تیز رَوی کی جانب اشارہ ہے. عربی زبان میں تیز ہوا یعنی آندھی اور جھکڑ کو ’ ’اعصار‘ ‘ کہتے ہیں. اسی طرح دن کے اوقات میں عصر وہ وقت ہے جب دن تیزی سے ڈھل رہا ہوتا ہے‘ ختم ہوا چاہتا ہے.