’’ایمان‘‘ کا مفہوم

جہاں تک ’’ایمان‘‘ کے تفصیلی مباحث کا تعلق ہے‘ یعنی یہ کہ اس کا لغوی مفہوم کیا ہے‘ اس کا اصطلاحی مفہوم کیا ہے‘ ایمان کن کن امور کو ماننے کا نام ہے‘ اس دولت کے حصول کے ذرائع کون کون سے ہیں وغیرہ‘ تو یہ ان شاء اللہ اس ’’منتخب نصاب‘‘ میں اپنے مناسب مقام پر آئیں گے. یہاں صرف یہ جان لینا ضروری ہے کہ ایمان درحقیقت نام ہے اس کائنات کے بارے میں اُن بنیادی حقائق کو تسلیم کرنے کا جن کی خبر دی ہے انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام نے. انبیاء ہمیں بتاتے ہیں کہ اس کائنات کے ان اصل اور اساسی حقائق تک ‘جو عام انسانوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں‘ ان کی رسائی ایک ایسے ذریعہ ٔ علم کے واسطہ سے ہوئی ہے جو عام انسانوں کو حاصل نہیں‘ یعنی ’’وحی‘‘. حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود‘ اس کی صفاتِ کمال‘ بعث بعد الموت‘ حساب کتاب‘ جزا و سزا اور جنت و دوزخ‘ یہ وہ امور ہیں کہ جن تک رسائی انسان اپنے حواس کے ذریعے سے حاصل نہیں کر سکتا. ان حقائق کے بارے میں حتمی خبر ہمیں انبیاء کرام علیہم السلام نے دی ہے. ان کی دی ہوئی خبروں کی تصدیق کرنے اور ان کو تسلیم کرلینے کا نام ایمان ہے.

ایمان کے دو درجے ہیں ایک درجہ یہ ہے کہ زبان سے ان باتوں کومان لیا جائے . اسی کو ’’اقرارٌ باللّسان‘‘ کہا جاتا ہے. یہ ایمان کا اوّلین یا یوں کہیے کہ قانونی درجہ ہے کہ جس نے زبان سے ان حقائق کو مان لیا گویا وہ ان لوگوں سے ممیز ہو گیا جو ان امور کو نہیں مان رہے.

ایمان کا دوسرا درجہ ’’تصدیقٌ بالقلب‘‘ ہے. یعنی وہ کیفیت کہ ان امور پر ایک پختہ یقین قلبِ انسانی میں پیدا ہو جائے. ایمان کی اصل روح یہی ہے . گویا ایمان فی الحقیقت اقرارٌ باللّسان اور تصدیقٌ بالقلب کے مجموعے کا نام ہے. قلبی یقین کے نتیجے میں انسان کا عمل لازماً متاثر ہو تا ہے. بالفاظِ دیگر اگر کسی بات پر انسان کو یقین ہو تو اس کا عمل اس کے خلاف نہیں ہو گا. ہمیں یقین ہے کہ آگ جلاتی ہے‘لہذا ہم آگ میں ہاتھ ڈالنے کے لیے تیار نہیں! بلکہ یقین تو دُور کی بات ہے ‘ بسا اوقات محض ظن بھی انسان کے عمل پر اثر انداز ہوتا ہے. ہم جانتے ہیں کہ تمام سانپ زہریلے نہیں ہوتے‘ لیکن محض اس ظن کی بنیاد پر کہ شاید یہ سانپ جس سے ہمیں سابقہ پیش آیا ہے‘ زہریلا ہو ‘ ہم ہر سانپ سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں. معلوم ہوا کہ اگر دل میں اللہ کا یقین ہو‘ آخرت کا یقین ہو‘ جزاو سزا اور محاسبۂ اُخروی کا یقین ہو تو اس کا ایک نتیجہ لازماً مترتب ہوتا ہے. اور وہ نتیجہ ہے کہ جسے قرآن ’’عمل صالح‘‘ کے الفاظ سے تعبیر کرتا ہے. اس کا عمل درست ہو جائے گا‘ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل پیرا ہو گا‘ حلال پر اکتفا کرے گا‘ حرام سے اجتناب کرے گا‘ معصیت کے قریب نہیں پھٹکے گا. یہ تمام کیفیات حقیقی ایمان کے نتیجے میں لازماً پیدا ہوں گی.