درس۳: مقامِ عزیمت

مقامِ عزیمت اور حکمتِ قرآنی کی اساسات
سورۂ لقمان کے دوسرے رکوع کی روشنی میں


نحمدہٗ ونصلی علٰی رَسولہِ الکریم … امَّا بَعد:
فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ . بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 


وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا لُقۡمٰنَ الۡحِکۡمَۃَ اَنِ اشۡکُرۡ لِلّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یَّشۡکُرۡ فَاِنَّمَا یَشۡکُرُ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ ﴿۱۲﴾وَ اِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِہٖ وَ ہُوَ یَعِظُہٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشۡرِکۡ بِاللّٰہِ ؕؔ اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۳﴾وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ ۚ حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ وَہۡنًا عَلٰی وَہۡنٍ وَّ فِصٰلُہٗ فِیۡ عَامَیۡنِ اَنِ اشۡکُرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیۡکَ ؕ اِلَیَّ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۴﴾وَ اِنۡ جَاہَدٰکَ عَلٰۤی اَنۡ تُشۡرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ۙ فَلَا تُطِعۡہُمَا وَ صَاحِبۡہُمَا فِی الدُّنۡیَا مَعۡرُوۡفًا ۫ وَّ اتَّبِعۡ سَبِیۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَیَّ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۵﴾یٰبُنَیَّ اِنَّہَاۤ اِنۡ تَکُ مِثۡقَالَ حَبَّۃٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ فَتَکُنۡ فِیۡ صَخۡرَۃٍ اَوۡ فِی السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِی الۡاَرۡضِ یَاۡتِ بِہَا اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَطِیۡفٌ خَبِیۡرٌ ﴿۱۶﴾یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَ اۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ انۡہَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ اصۡبِرۡ عَلٰی مَاۤ اَصَابَکَ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴿ۚ۱۷﴾وَ لَا تُصَعِّرۡ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ ﴿ۚ۱۸﴾وَ اقۡصِدۡ فِیۡ مَشۡیِکَ وَ اغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِکَ ؕ اِنَّ اَنۡکَرَ الۡاَصۡوَاتِ لَصَوۡتُ الۡحَمِیۡرِ ﴿٪۱۹﴾ ( لقمٰن) ……… صدق اللّٰہ العظیم 
مطالعہ قرآن حکیم کے جس منتخب نصاب کی تشریح اِن صفحات میں قسط وار شائع ہورہی ہے اس کا پہلا درس سورۃ العصر پر اور دوسرا آیۃ البِرّ پر مشتمل تھا. اب ہم اللہ کے نام سے اس سلسلے کے تیسرے درس کا آغاز کر رہے ہیں جو سورۂ لقمان کے دوسرے رکوع پر مشتمل ہے. سورۂ لقمان مصحف میں اکیسویں پارے میں شامل ہے اور اس کا دوسرا رکوع آٹھ آیات پر مشتمل ہے. تو آیئے اس کا ایک رواں ترجمہ سمجھ لیں‘ تاکہ رکوع کے مضامین بیک وقت ہماری نگاہوں کے سامنے آجائیں.

’’اور ہم نے لقمان کو دانائی عطا فرمائی کہ شکر کر اللہ کا‘ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ شکر کرتا ہے اپنے بھلے کو‘ اور جو کوئی کفرانِ نعمت کی روش اختیار کرتا ہے تو اللہ غنی ہے (بے نیاز ہے‘ اور وہ آپ ہی اپنی ذات میں محمود ہے)‘ ستودہ صفات ہے. اور یاد کرو جب کہ لقمان نے کہا اپنے بیٹے سے اور وہ اسے نصیحت کر رہے تھے کہ اے میرے بچے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کیجیو‘ یقینا شرک بہت بڑا ظلم (اور بہت بڑی ناانصافی) ہے. اور ہم نے انسان کو وصیت کی ہے اُس کے والدین کے بارے میں. اٹھائے رکھااسے اس کی والدہ نے کمزوری پر کمزوری جھیل کر‘ اور اس کا دودھ چھڑانا ہے دو سالوں میں‘ کہ کر شکر میرا اور اپنے والدین کا. میری ہی طرف لوٹنا ہے. اور اگر وہ تجھ سے جھگڑیں اس بات پر کہ تو میرے ساتھ شریک ٹھہرائے جس کے لیے تیرے پاس کوئی علم نہیں ہے تو اُن کا کہنا مت مان اور دنیا میں ان کے ساتھ رہ معروف طور پر‘ اور پیروی کر اُس کے راستے کی جس نے اپنا رُخ میری طرف کر لیا ہو. پھر تم سب کو میری ہی طرف لوٹنا ہے اور میں تمہیں بتلا دوں گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو. اے میرے بچے! خواہ وہ (یعنی نیکی یا بدی) رائی کے دانے کے ہم وزن ہو‘ اور خواہ وہ کسی چٹان میں ہو‘ خواہ آسمانوں میں ہو اور خواہ زمین میں ہو‘ اللہ اسے لے آئے گا. بے شک اللہ بہت باریک بین ہے‘ بہت باخبر ہے. اے میرے بچے! نماز قائم رکھ‘ نیکی اور بھلائی کا حکم دے‘ بدی اور برائی سے روک اور پھر صبر کر اُس پر کہ جو تجھ پر بیتے. یقینا یہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے. اور اپنی گردن کو ٹیڑھا نہ کر (کج رُخی اختیار نہ کر) لوگوں کے لیے اور زمین میں اکڑ کر مت چل . اللہ کو مغرور لوگ اور شیخی خورے بالکل پسند نہیں. اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو پست رکھ‘ اس لیے کہ تمام آوازوں میں سب سے بڑھ کر ناپسندیدہ آواز گدھے کی آواز ہے‘‘.

اس ترجمہ سے جو باتیں بادنیٰ تأمل سامنے آتی ہیں اور خاص طور پر اس منتخب نصاب کے اسباق کی ترتیب میں جن بنیادی امور کے پیش نظر اسے درسِ سوم کی حیثیت دی گئی ہے‘ مناسب ہے کہ سب سے پہلے انہیں سمجھنے کی کوشش کی جائے. اس طرح ہم اِن شاء اللہ اِن آیات کے اصل سبق اور اُن کے لبِّ لباب کا جائزہ لے لیں گے.

ترجمہ سے آپ نے محسوس کر لیا ہو گا کہ اِن آیات میں بھی وہی چار باتیں ایک نئے اسلوب اور ترتیب سے بیان ہو رہی ہیں جو اِس سے پہلے سورۃ العصر اور آیۂ بِر میں آ چکی ہیں. اس لیے کہ اصل 
ہدایت اور صراطِ مستقیم تو ایک ہی ہے اور اس کے سنگ ہائے میل تو وہی ہیں. فرق بقول شاعر صرف یہ ہے کہ ؏ ’’اِک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں‘‘.گویا مختلف اسالیب اور متنوع انداز سے ’’راہِ ہدایت‘‘ کو واضح کرنا ہی قرآن کا اصل مقصد ہے. البتہ یہ ضرور ہے کہ ہر جگہ وہ بنیادی مضامین نہ صرف ایک نئے رنگ کے ساتھ آئے ہیں‘ بلکہ موضوع اور سیاق و سباق بھی بدلا ہوا ہے اور بحث بھی نئی ہے.