دوسرا تقاضا غرور اور تکبر سے اجتناب

وَّ قَالَ اِنَّنِیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۳۳﴾ ’’اور وہ کہے کہ میں بھی مسلمانوں ہی میں سے ہوں.‘‘ یعنی اس کے ذاتی تقویٰ و تدیّن اور دین پر عمل پیرا ہونے کے باوجود اس میں کوئی غرور اور تکبر نہ ہو.وہ یہ نہ سمجھے کہ میں کوئی شئے دگر ہوں. وہ یہ کہے کہ میں کسی پہلو سے بھی تم سے جدا‘ علیحدہ‘ بلندتر اور اعلیٰ نہیں ہوں‘ بلکہ میں بھی اللہ کے حضور گردن جھکانے والوں میں سے ہی ہوں. یہ درحقیقت ایک کلمۂ تواضع بھی ہے جو دعوت الی اللہ کی کامیابی کے لیے شرطِ لازم ہے. حقیقت یہ ہے کہ انسان کی طبیعت ہی کچھ ایسی ہے کہ تکبر سے اسے نفرت ہے اور وہ تکبر کرنے والوں سے دُور بھاگتا ہے. چنانچہ جیسے بجلی کا کرنٹ لگنے سے انسان دھکاکھا کر پیچھے کی طرف گر جاتا ہے اسی طرح جہاں کہیں بھی انسان کو دوسروں میں خود پسندی‘ عُجب‘ تکبر اور غرور کے آثار محسوس ہوں گے وہاں انسانوں میں بُعد اور دُوری ہو گی . اس کے برعکس جہاں کہیں تواضع اور انکسار ہوگا وہاں کشش ہو گی. یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم کو بھی حکم دیا گیا کہ: وَ اخۡفِضۡ جَنَاحَکَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۸﴾ (الحجر) ’’اور (اے نبیؐ !) اہل ایمان کے لیے اپنے بازوؤں کو (اپنے شانوں کو) جھکا کر رکھئے‘‘.مطلب یہ ہے کہ جب اہل ایمان آپؐ کے پاس آئیں تو یہ محسوس کریں کہ رسولِ رحمت کے دل میں ان کے لیے محبت‘ شفقت‘ مودّت اور رحمت موجود ہے. یہ دلوں کو موہ لینے والا انداز ہے‘ اور ظاہر بات ہے کہ اس میں تواضع کو بڑا دخل حاصل ہے. حدیث میں ہے کہ نبی اکرم جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مابین بیٹھے ہوتے تو آپؐ کی کوئی امتیازی نشست نہیں ہوتی تھی‘ اور بسااوقات آنے والوں کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہوتا تھا کہ ان میں محمدٌ رسول اللہ کون ہیں.اگر آپؐ کہیں تشریف لے جاتے اور صحابہ کرام ؓ تعظیماً کھڑے ہوتے تھے تو آپؐ اس سے بھی منع فرماتے.آپؐ کبھی بھی اپنے لیے کوئی نمایاں حیثیت اور نمایاں مقام کے خواہاں نہیں ہوئے. بعض لوگوں نے اس سے بڑا عمدہ نکتہ نکالا ہے کہ آنحضور کو دنیا میں جو عظیم کامیابی حاصل ہوئی اس کا ایک بڑا واضح‘ محسوس اور عقل میں آنے والا سبب یہ ہے کہ آپؐ کا ’’نزول‘‘بہت کامل ہے. آپؐ نے خالص انسانی سطح پر زندگی بسر کی‘ انسانوں میں گھل مل کر‘ ان کے اندر مل جل کر رہنا پسند فرمایا. اپنے لیے کوئی ایسا مقام کہ جہاں سے اترنے کے لیے انسان آمادہ نہ ہو‘ اور اس بلند مقام سے لوگوں کو بنظرِ استحقار دیکھ رہا ہو اور لوگوں تک رسائی میں تکلف ہو‘ (نعوذ باللّٰہ من ذٰلک) اس قسم کا کوئی نقشہ محمد عربی کی شخصیتِ مطہرہ میں نظر نہیں آتا.