اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ

نوٹ کیجیے کہ یہ سورۂ مبارکہ قرآن مجید کی افتتاحی سورت ہے اور اس کا ابتدائی کلمہ ہے : اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ. یہ کلمہ طیبہ نہایت عظیم اور بہت بلند مرتبت ہے. اس کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے لفظ ’’حمد‘‘ کو اچھی طرح جان لینا ضروری ہے. عام طور پر اس کا ترجمہ صرف ایک لفظ ’’تعریف‘‘ سے کر دیا جاتا ہے‘حالانکہ تعریف بھی عربی کا لفظ ہے اور حمد بھی عربی کا لفظ ہے. اور یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ کسی زبان کے دو الفاظ بالکل ہم معنی نہیں ہوتے‘ ان کے معنی و مفہوم میں لازماً کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہوتاہے. اگر گہرائی میں اتر کر دیکھا جائے تو لفظ ’’حمد‘‘ میں دو مفہوم شامل ہیں‘ ایک شکر اور دوسرا ثناء. شکر کا لفظ سورۂ لقمان کے دوسرے رکوع کے ضمن میں تفصیلاً زیر بحث آچکا ہے. وہاں واضح کیا جا چکا ہے کہ اگر فطرت اپنی صحت پر برقرار ہو تو ا س کا تقاضا جذبۂ تشکر ہے اور اگر عقل صحیح نہج پر کام کر رہی ہو تو اس کاحاصل اپنے منعمِ حقیقی اور اپنے اصل مربی و محسن یعنی اللہ کو پہچان لینا ہے. فطرتِ سلیمہ اور عقلِ صحیحہ دونوں کے امتزاج سے جو چیز حاصل ہوتی ہے اس کا نام ’’حکمت‘‘ ہے. لہذا حکمت کا لازمی تقاضا اللہ کا شکر ہے. یہی بات اس سورۂ مبارکہ کے ابتدائی کلمات میں آئی ہے کہ ’’اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ‘‘. لیکن حمد کا لفظ شکر سے زیادہ وسیع تر مفہوم کا حامل ہے. کسی کا شکر ایسی چیز پر ادا کیا جاتا ہے جس کا کوئی فائدہ شکر کرنے والے کی ذات کو پہنچ رہا ہو. لیکن ثناء اور تعریف کی جاتی ہے کسی بھی حسن و جمال یا کمال کی خواہ اس کا ہمیں کوئی فائدہ پہنچا ہو یا نہ پہنچا ہو. حمد کے لفظ میں یہ دونوں چیزیں جمع ہیں‘یعنی شکر بھی اور ثناء بھی. لہذا ہم نے ترجمہ میں ان دونوں کو جمع کر دیا ہے کہ ’’کُل شکر اورکُل ثناء اللہ کے لیے ہے‘‘.

ایک دوسرے پہلو سے غور کیجیے تو آپ اس نتیجے سے اتفاق کریں گے کہ یہ کلمۂ توحید ہے. ہم یہ بات جانتے ہیں کہ اس کائنات میں جہاں کہیں بھی کوئی مظہرِ حسن ہے‘ مظہرِ کمال ہے‘ مظہرِ جمال ہے اُن کے متعلق ہماری عقل صحیحہ یہ رہنمائی کرتی ہے کہ ان تمام محاسن و کمالات کا منبع اور سرچشمہ صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذاتِ اقدس ہے. لہذا اصل تعریف اور ثناء ان اشیاء کی نہیں ہوتی بلکہ اللہ کی ہوتی ہے. کلمۂ توحید کا اقتضاء یہی ہے کہ موحّدکے شعور اور تحت الشعور سب میں یہ بات مستحضر رہے کہ کائنات کی ہر نعمت‘ ہر چیز‘ ہر حسن‘ ہر جمال اور ہر کمال ‘الغرض کوئی بھی وصف کسی کا ذاتی نہیں‘ بلکہ اللہ کا ودیعت کردہ ہے. جیسے تصویر میں اگر کوئی حسن ہے تو وہ درحقیقت مصو ّر کے کمالِ فن کی عکاسی ہے. تصویر کا اپنا کوئی حسن نہیں‘ نہ اس کا کوئی اپنا ذاتی کمال ہے. بالکل اسی طرح کسی مخلوق میں اگر کوئی حسن اور کمال ہے یا کوئی خوبی اور جمال ہے تو وہ حسن و کمال اور خوبی و جمال خالق کا ہے‘نہ کہ مخلوق کا. چنانچہ اس کُل سلسلۂ کون و مکان میں جہاں کوئی حسن‘ کوئی کمال‘ کوئی خیر‘ کوئی خوبی اور کوئی جمال ہے یا کسی شے میں کوئی نفع رسانی کا پہلوہے تو اس کا منبع و سرچشمہ ذاتِ باری تعالیٰ ہے . لہذا شکر کا سزاوارِ حقیقی اور تعریف و ثناء کا اصل مستحق اللہ تعالیٰ ہے.

یہ کلمہ 
’’اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ‘‘ اتنا عظیم اور اعلیٰ مرتبت ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا کہ یہ کلمہ آسمان و زمین کو اپنی برکات سے بھر دیتا ہے.حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی فرمانِ نبویؐ ہے : 

اَلطُّھُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَانِ والْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَأُ الْمِیْزَانَ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَآنِ [اَوْ تَمْلَأُ] مَا بَیْنَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ (۱(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الطھارۃ‘ باب فضل الوضوء. ’’صفائی نصف ایمان ہے اور کلمہ ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ میزان کو بھر دیتا ہے اور کلمات ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ‘‘ اور ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ نہ صرف میزان کو پُر کر دیتے ہیں بلکہ آسمان و زمین کے مابین جو کچھ ہے (خلا‘ فضا) اس سب کو پُر کر دیتے ہیں.‘‘

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام اور احسانات کے ضمن میں انبیاء و رُسل علیہم السلام اورصالحین کے جو کلماتِ شکر منقول ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں نبی ٔ اکرم  نے جن دعاؤں کی تعلیم و تلقین فرمائی ہے ان میں سے اکثر و بیشتر میں یہ کلمہ 
’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ استعمال ہوا ہے . طوالت سے بچنے کی خاطر دو مثالیں قرآن مجید اور دو مثالیں حدیث شریف سے پیش کرنے پر اکتفا کرنا ہو گا. سورۂ ابراہیم میں وارد ہے کہ جب بڑھاپے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسماعیل اور حضرت اسحق علیہما السلام جیسے صالح فرزند عطا فرمائے جو آگے چل کر منصبِ نبوت پر بھی سرفراز ہوئے تو اس احسان و انعام و نعمت اور کرم پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان پر ترانۂ شکر جاری ہوا کہ : 

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ وَہَبَ لِیۡ عَلَی الۡکِبَرِ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِسۡحٰقَ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَسَمِیۡعُ الدُّعَآءِ ﴿۳۹﴾ 
’’کُل شکر اور ثناء اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحق ( علیہما السلام)عطا فرمائے. یقینا میرا ربّ دعا کا سننے (اور قبول کرنے) والاہے‘‘. 
ایک اور مثال سورۃ الاعراف سے دیکھ لیجیے. جب مؤمنین صادقین کو حساب کتاب کے بعدجنت میں داخلے کا اِذن ملے گا تو اُن کی زبانوں پر کلمۂ شکر و سپاس اور تعریف و ثناء ان الفاظ میں جاری ہوگا کہ : 

وَ قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ ہَدٰىنَا لِہٰذَا ۟ وَ مَا کُنَّا لِنَہۡتَدِیَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ ۚ (آیت۴۳
’’اور وہ کہیں گے کُل شکر اور کُل ثناء اُس اللہ کی ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت فرمائی (بلکہ یہاں تک پہنچا دیا) اورہم خود ہدایت نہ پا سکتے (اور یہاںتک ہرگز نہ پہنچ پاتے)اگر اللہ ہی ہماری رہنمائی نہ فرماتا‘‘. 

رسول اللہ  نے سو کر اٹھنے کی یہ دعا تلقین فرمائی : 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ (۱)
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الدعوات‘ باب ما یقول اذا اصبح. وصحیح مسلم‘ کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار‘ باب ما یقول عند النوم واخذ المضجع.
’’کُل شکر و ثناء اللہ کی ہے جس نے ہمیں ز ندہ کیا اس کے بعد کہ ہم پر موت طاری کر دی تھی اور (ایک دن اسی طرح ) اس کی جانب لوٹ جانا ہے‘‘. 

اور آپؐ نے اکل و شُرب کے بعد کی دعا ان الفاظ میں تلقین فرمائی : 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (۱
’’کُل شکر اور ثناء اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا.‘‘