قرآن کا طرزِ استدلال

یاد رکھیے کہ قرآن مجید ایمان باللہ اور معرفت ِ خداوندی کے لیے اہلِ منطق کا راستہ اختیار نہیں کرتا. وہ اللہ کی ہستی کے اثبات کے لیے منطقی دلائل نہیں دیتا‘ بلکہ جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے‘ قرآن حکیم بدیہیاتِ فطرت پر اپنے استدلال کی بنیاد قائم کرتا ہے. اس کا موقف یہ ہے کہ جیسے کسی نشانی کو دیکھ کر بے اختیار اور بلا ارادہ کوئی یاد آجاتا ہے ‘ایسے ہی اس کائنات کا ذرّہ ذرّہ اللہ کی نشانی ہے. اس کو دیکھ کر ایک سلیم الفطرت انسان کو اللہ یاد آجاتا ہے اور مزید غور و فکر سے اس کی تفصیلی معرفت حاصل ہو سکتی ہے. لیکن اگر آپ اسے کسی درجہ میں منطق کا جامہ پہنانا چاہیں اور اس کی کوئی عقلی توجیہ کرنا چاہیں تو اس کا تجزیہ یوں ہوگا کہ یہ وجود‘ یہ سلسلۂ کون و مکان عقلاً مستلزم ہے ایک خالق کا. کوئی تو پیداکرنے والا اور بنانے والا ہونا چاہیے. آپ سے آپ تو کوئی چیز وجود میں نہیں آتی. کوئی ہستی ہے جس نے اس کائنات کو وجود بخشا ہے. گویا یہ کائنات کا وجود خود ہی خالق کے وجود کے لیے دلیل ہے. البتہ یہ قطعی و حتمی دلیل نہیں ہے‘ اس لیے کہ جیسے لوہا لوہے کو کاٹتا ہے اسی طرح منطق خود منطق کو کاٹتی ہے. خالص منطق اس کا تقاضا کرے گی کہ خالق کا وجود ثابت کرنے کے لیے پھر ایک خالق کا وجود ہونا چاہیے. اس طرح یہ سلسلہ لا متناہی ہوگا‘ کیونکہ ایک خالق کے وجود کو ثابت کرنے کے بعدبھی یہ سوال باقی رہے گا. لہذا ہمارے بہت سے متکلمین نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ محض منطق سے وجودِباری تعالیٰ کو ثابت نہیں کیا جا سکتا. یہی سبب ہے اس امرِ واقع کا کہ قرآن مجید وجودِ باری تعالیٰ کے اثبات کے لیے منطقی طرزِ استدلال اختیار نہیں کرتا‘ بلکہ اپنے استدلال کی بنیاد بدیہیاتِ فطرت پر رکھتا ہے. وجودِ باری تعالیٰ کا علم فطرتِ انسانی میں ودیعت شدہ ہے. ایک سلیم الفطرت اور صحیح العقل انسان فطرت کی بنیاد پر جس چیز کو جانتا اور مانتا ہے اس میں عقلی مسلّمات کے اضافے سے حکمت ِ قرآنی کا عمل مکمل ہو جاتا ہے. الغرض جہاں تک وجودِ باری تعالیٰ کا تعلق ہے‘ اس کا اِدراک تو ایک سلیم الفطرت انسان کے قلب کی گہرائیوں سے از خود ابھرتا ہے یا آفاقی و اَنفسی آیات کی تحریک سے اجاگر ہو کر شعور کی سطح پر جلوہ آرا ہوتاہے. تاہم آیاتِ الٰہی پر غور و فکر کے نتیجے میں ایک سلیم العقل انسان کو اس واجب الوجود ہستی کی بنیادی صفات کی معرفت حاصل ہوتی ہے.

چنانچہ اوّلاً جب وہ مظاہرِ فطرت میں کامل توافق اور حد درجہ ہم آہنگی دیکھتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ پورا نظام کسی ایک ہی خالق کی تخلیق ہے اور وہی اس کا واحد مدبّر و منتظم بھی ہے . اس لیے کہ اگر اس تخلیق و تدبیر کے عمل میں ایک سے زائد ذہن یا ارادے اور مشیّتیں یا اختیارات کار فرما ہوتے تو اس عظیم اور لا متناہی کائنات میں کبھی نظم و ضبط برقرار نہ رہ سکتا.