درس ۷: نور ایمان کے اجزاء ترکیبی

نورِ ایمان کے اجزائے ترکیبی
نورِ فطرت اور نورِ وحی
سورۂ نور کے پانچویں رکوع کی روشنی میں



نحمدہٗ ونصلی علٰی رَسولہِ الکریم … امَّا بَعد:
فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ . بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 

اَللّٰہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ مَثَلُ نُوۡرِہٖ کَمِشۡکٰوۃٍ فِیۡہَا مِصۡبَاحٌ ؕ اَلۡمِصۡبَاحُ فِیۡ زُجَاجَۃٍ ؕ اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوۡکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوۡقَدُ مِنۡ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیۡتُوۡنَۃٍ لَّا شَرۡقِیَّۃٍ وَّ لَا غَرۡبِیَّۃٍ ۙ یَّکَادُ زَیۡتُہَا یُضِیۡٓءُ وَ لَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡہُ نَارٌ ؕ نُوۡرٌ عَلٰی نُوۡرٍ ؕ یَہۡدِی اللّٰہُ لِنُوۡرِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۳۵﴾فِیۡ بُیُوۡتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنۡ تُرۡفَعَ وَ یُذۡکَرَ فِیۡہَا اسۡمُہٗ ۙ یُسَبِّحُ لَہٗ فِیۡہَا بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ ﴿ۙ۳۶﴾رِجَالٌ ۙ لَّا تُلۡہِیۡہِمۡ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءِ الزَّکٰوۃِ ۪ۙ یَخَافُوۡنَ یَوۡمًا تَتَقَلَّبُ فِیۡہِ الۡقُلُوۡبُ وَ الۡاَبۡصَارُ ﴿٭ۙ۳۷﴾لِیَجۡزِیَہُمُ اللّٰہُ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَ یَزِیۡدَہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۸﴾وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَعۡمَالُہُمۡ کَسَرَابٍۭ بِقِیۡعَۃٍ یَّحۡسَبُہُ الظَّمۡاٰنُ مَآءً ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَہٗ لَمۡ یَجِدۡہُ شَیۡئًا وَّ وَجَدَ اللّٰہَ عِنۡدَہٗ فَوَفّٰىہُ حِسَابَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿ۙ۳۹﴾اَوۡ کَظُلُمٰتٍ فِیۡ بَحۡرٍ لُّجِّیٍّ یَّغۡشٰہُ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِہٖ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِہٖ سَحَابٌ ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعۡضُہَا فَوۡقَ بَعۡضٍ ؕ اِذَاۤ اَخۡرَجَ یَدَہٗ لَمۡ یَکَدۡ یَرٰىہَا ؕ وَ مَنۡ لَّمۡ یَجۡعَلِ اللّٰہُ لَہٗ نُوۡرًا فَمَا لَہٗ مِنۡ نُّوۡرٍ ﴿٪۴۰﴾ ......صدق اللّٰہ العظیم! 
آج ہم قرآن حکیم کے منتخب نصاب کے ساتویں درس کا آغاز کر رہے ہیں جومباحث ِ ایمان کے ضمن میں تیسرا سبق ہے اور سورۃ النور کے پانچویں رکوع پر مشتمل ہے.

سابقہ درس میں اولوالالباب یا صدّیقین کے شعوری اور اکتسابی ایمان کی وضاحت ایمانِ عقلی 
اور ایمانِ سمعی کے تدریجی مراحل کے حوالے سے ہوئی تھی. سورۃ النور کی مشہور ’’آیت ِ نور‘‘ (آیت ۳۵) میں اس ایمان کو ایک نور قرار دے کر اس کی اصل حقیقت کو اس کے دو اجزائے ترکیبی یعنی ’’نورِ فطرت‘‘ اور ’’نورِ وحی‘‘ کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے. اس آیۂ مبارکہ کا ترجمہ حسب ِ ذیل ہے:

’’اللہ ہی آسمانوں اور زمین کی روشنی ہے . اس کے نور کی مثال ایسے ہے جیسے ایک طاق ہو‘ اس میں ایک چراغ ہو‘ چراغ ایک شیشے (فانوس) میں ہو اور وہ شیشہ ایک چمک دار ستارے کی مانند روشن ہو‘ وہ چراغ جلتا ہو ایک ایسے مبارک زیتون کے درخت (کے تیل) سے جو نہ شرقی ہو نہ غربی. اس کا روغن بھڑک اٹھنے کو بے تاب ہو‘ خواہ اسے آگ نے چھوا تک نہ ہو. یہ روشنی ہے روشنی پر . اللہ ہدایت دیتا ہے اپنے نور کی جانب جس کو چاہتا ہے. اور اللہ مثالیں بیان فرماتا ہے لوگوں کے لیے ‘اور اللہ تو سب کچھ جاننے والا ہے. (یعنی وہ ہر شے کی حقیقت سے کماحقہٗ واقف ہے!)‘‘
یہ آیۂ مبارکہ پورے قرآن مجید میں بھی ایک منفرد اہمیت کی حامل ہے. بالخصوص سورۃ النور میں تو اس کی حیثیت بالکل ایسے ہے جیسے ایک نہایت قیمتی اور خوبصورت انگوٹھی ہو‘جس کے درمیان میں نہایت قیمتی نگینہ جڑا ہوا ہو. اس لیے کہ یہ سورۃ النور کے پانچویں رکوع کی پہلی آیت ہے اور سورۃ النور کُل نو ‘رکوعوں پر مشتمل ہے. گویا پانچواں رکوع اس کے عین وسط میں واقع ہے‘ چار رکوع اس سے قبل ہیں اور چار اس کے بعد. اس رکوع میں ایمان اور اس کی اصل حقیقت کو تمثیلات کے پیرائے میں سمجھایا گیا ہے. چنانچہ پہلی آیت میں’’ایمان کی حقیقت‘‘ اور اس کی ’’ماہیت‘‘ کے لیے تمثیل لائی گئی ہے کہ وہ ایک نور ہے‘ ایک روشنی ہے جس سے انسان کا قلب‘ اس کا سینہ اور نتیجتاً اس کا پورا وجود اور اس کی پوری شخصیت منور ہو جاتی ہے. پھر یہ کہ اس نور کے اجزائے ترکیبی دو ہیں. ایک وہ نورِ فطرت جو ہر انسان کی فطرت میں ودیعت شدہ ہے اور دوسرا نورِ وحی جس سے نورِ فطرت کی تکمیل ہوتی ہے.