بندۂ مؤمن کے مطلوبہ اوصاف

اب آپ نوٹ کیجیے کہ سورۃ المؤمنون کی ابتدائی گیارہ آیات میں چند اوصاف سلسلہ وار بیان ہوئے ہیں. ان میں اہم ترین وصف ہے صلوٰۃ‘ جس کا ترجمہ ہم عام طور پر ’’نماز‘‘ کرتے ہیں. اس ضمن میں خاص طور پر نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ اوصاف کی اس فہرست میں آغاز بھی نماز سے ہوا ہے اور اختتام بھی. آغاز میں فرمایا گیا: قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ﴿۱﴾الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ صَلَاتِہِمۡ خٰشِعُوۡنَ ۙ﴿۲﴾ ’’کامیاب ہو گئے وہ اہل ایمان جو اپنی نمازوں میں خشوع سے کام لیتے ہیں‘‘. پھر چند اوصاف بیان کرنے کے بعد آخری وصف بیان ہوا: وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَوٰتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ۘ﴿۹﴾ ’’اور (کامیاب ہو گئے) وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں‘‘ انہیں ضائع نہیں ہونے دیتے. معلوم ہوا کہ اس فہرست میں اوّل بھی نماز ہے‘ آخر بھی نماز ہے. اس سے یہ خصوصی رہنمائی حاصل ہوئی کہ تعمیر سیرت کا جو قرآنی پروگرام اور جو لائحۂ عمل ہے‘ اس میں نماز کا نظام نہایت اہمیت کا حامل ہے. 
دوسرا وصف آتا ہے: 
وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ ﴿ۙ۳﴾ ’’اور جو بے کار اور بے مقصد باتوں سے احتراز کرتے ہیں.‘ ‘یعنی بے کار باتوں سے احتراز کرنا‘ بچنا‘ دامن بچائے رکھنا. یعنی انسان اپنے وقت کی قدر و قیمت کا احساس کرے اور اپنے ہر ہر لمحہ کو مفید‘ بامقصد اور نتیجہ خیز بنائے. انسان کا وقت یا تو اِس حیاتِ دُنیوی کی کسی حقیقی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے صرف ہو رہا ہو‘ یا اپنی حیاتِ معنوی کی تطہیر اور اس کے تزکیہ کے لیے صرف ہو رہا ہو‘ یا حیاتِ اُخروی کے لیے کچھ کمانے اور بنانے میں صرف ہو رہا ہو. ان کاموں کے سوا وقت کا صرف ضیاع بھی ہے اور زیاں بھی.

تیسرا وصف آتا ہے: 
وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ ۙ﴿۴﴾ ’’اوروہ لوگ جو زکوٰۃ پر عمل کرتے رہتے ہیں‘‘. یہاں نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں عموماً زکوٰۃ کے ساتھ لفظ ’’اِیۡتَآءَ ‘‘ آتا ہے. جیسے اٰتَی الزَّکٰوۃَ ‘یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ ‘ لیکن یہاں آپ نے دیکھا کہ بالکل مختلف فعل استعمال ہواہے: وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ ۙ﴿۴﴾ یہاں فَاعِلُوْنَ یہ مفہوم ادا کر رہا ہے کہ مسلسل کوشاں رہتے ہیں‘ مسلسل کاربند رہتے ہیں. اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ تزکیۂ نفس کے لیے ان کی جدوجہد مسلسل جاری رہتی ہے.

چوتھا وصف ہے اپنے جنسی جذبہ یعنی اپنی شہوت پر کنٹرول 
(sex discipline) کہ اس کی تسکین کے لیے قرآن مجید نے جو جائز راہ معین کر دی ہے‘ اس پر اکتفا کیا جائے. اس کے بارے میں یہ بھی صراحت کر دی گئی کہ ان جائز راہوں سے اگر کوئی اپنے اس جنسی جذبہ کی تسکین کرتا ہے تو اس میں ہرگز کوئی ملامت والی بات نہیں ہے. جنسی جذبہ (sexual Instinct) فی نفسہٖ شر نہیں ہے‘ برائی نہیں ہے‘ evil نہیں ہے. اس کا غلط استعمال درحقیقت برائی ہے.اگراس میں انضباط (Discipline) ہو اور اِس میں بے راہ روی اور کجروی (perversion) نہ ہو‘ یعنی اس میں نہ تو بے قابو ہونے کی کیفیت پیدا ہو اور نہ جائز راہوں سے انحراف ہو‘ تو فی نفسہٖ یہ کوئی ملامت والی بات نہیں. چنانچہ فرمایا گیا: وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِفُرُوۡجِہِمۡ حٰفِظُوۡنَ ۙ﴿۵﴾اِلَّا عَلٰۤی اَزۡوَاجِہِمۡ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَاِنَّہُمۡ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿۶﴾ 

غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں جائز راستوں کی اجازت کے لیے ’’غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ‘‘ کا اسلوب کیوں اختیار کیا گیا!اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے سوا دوسرے مذاہب میں تجرد کی زندگی بسر کرنا اور اپنے جنسی جذبہ کو‘ جو فطرت اور جبلت میں ایک نہایت قوی جذبہ ہے‘ کچلنا ایک اعلیٰ ترین روحانی قدر قرار دیا جاتا ہے. جبکہ اسلام دینِ فطرت ہے‘ چنانچہ وہ اس فطری و جبلی جذبہ کو بالکلیہ کچلنے اور دبانے کو قطعاً پسند نہیں کرتا. اس کا منشا و مدعا یہ ہے کہ اس جذبہ کی تسکین کے لیے جائز اور حلال راہیں اختیار کی جائیں. نکاح کو اسی لیے نبی اکرم نے اپنی سنتوں میں سے ایک سنت قرار دیا ہے. آپ میں سے اکثر حضرات نے یہ حدیث سنی ہو گی جو ہر خطبۂ نکاح میں پڑھی جاتی ہے کہ : اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِیْ (۱’’نکاح میری سنت میں سے ہے‘‘.اسی حدیث کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ جو عام طو رپر نہیں پڑھا جاتا کہ: فَمَنْ لَّمْ یَعْمَلْ بِسُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ ’’پس جس نے میری سنت پر عمل نہ کیا وہ مجھ سے نہیں ہے‘‘. البتہ اس کے ساتھ ایک دوسری طویل حدیث کا یہ آخری حصہ پڑھا جاتا ہے کہ : فَمَنْ رَّغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ (۲’’تو جس نے میری سنت سے اعراض کیا (جس کو میری سنت پسند نہیں) اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں‘‘.

اس مقام پر جہاں جنسی تسکین کے لیے جائز راہوں کی طرف رہنمائی کی گئی وہاں اس کے ساتھ ہی فرما دیا گیا: 
فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡعٰدُوۡنَ ۚ﴿۷﴾ ’’تو جو کوئی ڈھونڈے (اختیار کرے‘ پسند کرے) اس کے سوا کوئی اور راہ تو وہی لوگ ہیں حد سے بڑھنے والے (یعنی طاغی اور باغی)‘‘.

اگلی آیت میں دو اوصاف آئے . گویا پانچواں وصف امانتوں کی پاس داری اور چھٹا وصف ایفائے عہد. فرمایا: 
وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِاَمٰنٰتِہِمۡ وَ عَہۡدِہِمۡ رٰعُوۡنَ ۙ﴿۸﴾ ’’اور وہ لوگ (فلاح پا گئے) جو (۱) سنن ابن ماجہ‘ کتاب النکاح‘ باب ما جاء فی فضل النکاح.
(۲) صحیح البخاری‘ کتاب النکاح‘ باب الترغیب فی النکاح. وصحیح مسلم‘ کتاب النکاح‘ باب استحباب النکاح لمن تاقت نفسہ الیہ ووجدمونہ. 
اپنی امانتوں اور عہد و پیمان کی پاس داری کرتے ہیں‘‘. امانت داری اور ایفائے عہد کے معاملات میں چوکس رہتے ہیں.

یہ چھ اوصاف گویا 
corner stones ہیں. یہ وہ اساسات اور بنیادیں ہیں جن پر انسانی شخصیت کی اُس رخ پر تعمیر کا عمل مبنی ہو سکتا ہے جس رُخ پر اللہ کو انسان کی شخصیت کی تعمیر پسند ہے. تعمیر ذات‘ تعمیر سیرت‘ تعمیر کردار کے بھی مختلف معیارات ہو سکتے ہیں. مختلف نظریات اور مختلف فلسفوں پر مبنی انسانی سیرت و کردار کے مختلف ہیولے لوگوں کے ذہنوں میں ہو سکتے ہیں‘ لیکن اللہ کے انسانِ مطلوب یا قرآن کے مردِ مؤمن کی جو سیرت و کردار اس کے خالق و مالک اور پروردگار کو مطلوب ہے اس کی تعمیر کے لیے یہ چھ ناگزیر‘ لابدی‘ اٹل (inevitable) اساسات ہیں ان چھ اوصاف کے بیان کے بعد پھر نماز کا ذکر فرمایا گیا ‘تاکہ دین میں نماز کی جو اہمیت ہے وہ مستحضر رہے اور ایک مردِ مؤمن جان لے کہ تعمیر سیرت کا اہم ترین عامل نماز کی حفاظت ہے. چنانچہ فرمایا: وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَوٰتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ۘ﴿۹﴾ 
آخر میں ان لوگوں کو جو اپنے اندر یہ اوصاف مستقل طور پر پیدا کر لیں اور ان اساسات پر اپنی سیرت و کردار کی تعمیر کر لیں‘ بشارت دی گئی ہے کہ یہی لوگ جنت الفردوس کے وارث ہوں گے‘ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے: اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾الَّذِیۡنَ یَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ ؕ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۱﴾