قرآن کا تصورِ فلاح

اب غور طلب اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی ان خامیوں‘ کمزوریوں اور اپنی خلقت کے ضعف کے حامل ان پہلوؤں سے کشمکش اور کشاکش کر کے‘ محنت و مشقت اور ریاضت کر کے اپنی جو اصل (۱) قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ کے لیے ایسے الفاظ بھی آئے ہیں جو جسم کے مختلف اعضاء کے لیے بولے جاتے ہیں. جیسے ہاتھ‘ چہرہ‘ پنڈلی‘ مٹھی‘ وغیرہ ان الفاظ سے ہم یہ مراد لیں گے کہ کوئی حقیقت معنوی ہے جس کو اِن الفاظ سے تعبیر کیا جارہا ہے. اپنے جسموں پر قیاس کر کے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ یا اپنی طرح کا اللہ تعالیٰ کا کوئی چہرہ یا اللہ تعالیٰ کی آنکھ ہم نہیں مان سکتے. اللہ تعالیٰ جسم اور جسمانیت سے پاک ہے‘ اعلیٰ ہے‘ ارفع ہے اور منزہ ہے! ’’سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ‘‘ البتہ اجمالاً جب یہ الفاظ آئے ہیں تو ہمارا ایمان رہے گا کہ کوئی حقیقت معنوی ہے جس کو اِن الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے. 

(۲) صحیح البخاری‘ کتاب الاستئذان‘ باب بدء الاسلام‘ وصحیح مسلم‘ کتاب البر والصلۃ والآداب‘ باب النھی عن ضرب الوجہ. بلندی اور رفعت ہے اسے attain کرنا ہے‘ اس کا جو اصل مرتبہ اور مقام ہے اس کو حاصل کرنا ہے. جیسے سورۃ التین میں فرمایا: لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾ثُمَّ رَدَدۡنٰہُ اَسۡفَلَ سٰفِلِیۡنَ ۙ﴿۵﴾اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ’’ہم نے انسان کو اعلیٰ ترین تخلیق پر پیدا فرمایا‘ پھر اسے نچلوں میں سب سے نیچے لوٹا دیا‘ سوائے ان کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے‘‘. پس اس جدوجہد کا عنوان ’’ایمان اور عملِ صالح‘‘ ہے جس کے ذریعے سے انسان اپنی پستی سے اُبھر کر اپنے اس مقامِ بلند تک پہنچتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بالقوۃ (potentially) تخلیق فرمایا ہے. اس محنت و مشقت اور اس ریاضت کا نام شریعت‘ طریقت اور سلوک ہے. پستی سے بلندیوں تک پہنچنے کے عمل کے لیے قرآن مجید جامع ترین لفظ استعمال کرتا ہے: ’’فَلَحَ‘‘. اب غور کیجیے کہ اس لفظ کا لغوی مفہوم کیا ہے! ہم عام طور پر اس کا ترجمہ کر دیتے ہیں کامیابی‘ بامراد ہونا. لیکن ’’ فَلَحَ‘‘ جو عربی زبان میں سہ حرفی مادہ (ف ل ح) ہے‘ اس کا بنیادی مفہوم ہے کسی چیز کو توڑنا‘ پھاڑنا‘ کسی چیز کو پھاڑ کر اُس میں سے کوئی اور چیز برآمد کرنا. چنانچہ جیسے ہمارے یہاں کہا جاتا ہے کہ ’’لوہے کو لوہا کاٹتا ہے‘‘ اس طرح عربی زبان کی ضرب المثل ہے : اِنَّ الْحَدِیْدَ بِالْحَدِیْدِ یُفْلَحُ ’’لوہا لوہے ہی سے کاٹا جاتا ہے‘‘.

اسی طرح جدید عربی میں فَلاَّح کسان کو کہتے ہیں‘ کیونکہ وہ اپنے ہل کی نوک سے دھرتی کے سینہ کو چیرتا ہے. ہل اس کا آلہ فلح ہے جس سے کسان‘ کاشت کار‘ فلاح زمین میں شگاف ڈالتا ہے. اب اس لفظ کو ذہن میں رکھیے اور غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ انسانی شخصیت کے اندر ایک معنوی حقیقت مضمر ہے‘ جو اس کی اصل شخصیت ہے‘ جو اس کی خودی ہے‘ جو اس کی انا ہے. کوئی شخص جب ’’مَیں‘‘ کہہ کر اپنی طرف اشارہ کرتا ہے تو کسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے! غور طلب بات ہے کہ یہ میرا ہاتھ ہے‘ یہ میرے پاؤں ہیں‘ یہ میری آنکھیں ہیں‘ یہ میرے کان ہیں‘ یہ میرا سر ہے‘ یہ میرا بدن ہے‘ تو میں کون ہوں جس کی یہ تمام چیزیں ہیں؟ یہ مَیں‘ انا‘ یا خودی انسان کی اصل حقیقت اور اس کی اصل معنوی شخصیت ہے.لیکن یہ مَیں‘ یا انا‘ یا خودی چند مادی اور شہوانی غلافوں میں لپٹی ہوئی ہے‘ جو انسان کے حیوانی وجود کے اندر ودیعت کیے گئے ہیں. وہ حیوانی وجود اسے پستیوں کی طرف کھینچتا ہے.

سارے حیوانی داعیات (animal instincts) اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں جو اس کو بلندیوں کی طرف نہیں جانے دیتے ‘بلکہ پستیوں کی طرف کھینچتے ہیں. اس سے رُستگاری حاصل کرنا اور اپنے مادی اور شہوانی غلافوں کو پھاڑ کر اس میں سے اپنی اصل معنوی شخصیت کو برآمد کرنا اور اس کو نشوونما دینا‘ یہ عمل فلح ہے. جیسے آم کی گٹھلی پھٹتی ہے تو اس میں سے آم کا پودا برآمد ہوتا ہے اور جیسے ایک بیج شق ہوتا ہے تو اس میں سے پتیاں نکلتی ہیں. عربی زبان میں فلح کے بہت ہی قریب کا لفظ ’’فَلَقَ‘‘ ہے. فَلَقَ (ف ل ق)کے معنی بھی پھاڑنا کے ہیں‘ جو قرآن میں صبح کے لیے آتا ہے. سورۃ الانعام کی آیت ۹۶ میں اللہ تعالیٰ کو فَالِقُ الۡاِصۡبَاحِ ۚ قرار دیا گیا ہے کہ وہ رات کی تاریکی کا پردہ چاک کرتا اور دن کی روشنی برآمد کرتا ہے. اور فرمایا: اِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الۡحَبِّ وَ النَّوٰی ؕ (الانعام:۹۵’’بالتحقیق اللہ دانوں( بیجوں) اور گٹھلیوں کا پھاڑنے والا ہے‘‘. وہ ان کو پھاڑتا ہے اور ان میں سے پودے برآمد کرتا ہے. تو فلاحِ انسانی کیا ہے؟ یہ کہ انسان کا اپنے مادی اور شہوانی میلانات ور جحانات‘ اپنے حیوانی تقاضوں اور جبلتوں کے خول کو پھاڑ کر اپنی معنوی شخصیت‘ اپنی خودی اور اپنی انا کو برآمد کرنا‘ اس کو پروان چڑھانا اور اس کی تعمیر کرنا. یہ ہے انسان کی فلاح ازروئے قرآن حکیم.

حکمت چونکہ انسان کی ایک مشترک متاع ہے اس لیے میں یہاں اپنشد کے ایک جملہ کا انگریزی ترجمہ پیش کر رہا ہوں: 

"Man in his ignorance identifies himself with the material sheats which encompass his real self." 
’’انسان اپنی نادانی اور جہالت میں اپنے آپ کو ان مادی غلافوں سے تعبیر کر بیٹھتا ہے جن کے اندر اس کی اصل حقیقت مضمر اور پنہاں ہے اور بایں وجوہ اس کی اصل حقیقت اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ہے‘‘.

قرآن حکیم میں سورۃ الحشر میں فرمایا گیا : 
وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنۡسٰہُمۡ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ (آیت:۱۹’’اور اُن لوگوں کے مانند نہ بن جانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں خود اپنے آپ سے (اپنی حقیقت اور اپنی عظمت سے) غافل کر دیا‘‘. 

یہ ہے انسان کی انفرادی شخصیت اور سیرت و کردار کی تعمیر کا قرآنی پروگرام اور لائحہ عمل جس کا اصل مقصد فلاحِ انسانی ہے. یعنی انسانی شخصیتوں کے خام مال سے ایک تعمیرشدہ اور مستحکم سیرت و کردار وجود میں آئے‘ جس کا حوالہ علامہ اقبال کے اس شعرمیں ہے: ؎

خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اِک انبار تو
پختہ ہو جائے تو ہے شمشیر بے زنہار تو

اور اس سے بھی زیادہ پیارے انداز میں اس بات کو علامہ اقبال نے فارسی میں بایں طور پر ادا کیا ہے: ؎

بانشۂ درویشی در ساز و دمادم زن
چوں پختہ شوی خود را بر سلطنت جم زن!

آپ کو معلوم ہے کہ اگر ریت کا ایک گولہ بنا کر اسے آپ کسی شیشہ پر دے ماریں تو شیشہ نہیں ٹوٹے گا‘ اس کا کچھ نہیں بگڑے گا ‘بلکہ وہ ریت خود ہی بکھر جائے گی. لیکن اسی ریت کو آپ پکا لیں‘ پختہ کر لیں اور وہ اینٹ کی شکل اختیار کر لے تو اب اس کی ضرب کاری اور نتیجہ خیز ہو گی. اکبر الٰہ آبادی مرحوم نے ‘ جن کو علامہ اقبال اپنا مرشد معنوی کہا کرتے تھے‘ اسی بات کو بڑے سادہ لیکن پُراثر انداز میں یوں ادا کیا ہے : ؎ 

تو خاک میں مل اور آگ میں جل ‘ جب خشت بنے تب کام چلے
اِن خام دلوں کے عنصر پر بنیاد نہ رکھ ‘ تعمیر نہ کر!