’’صلوٰۃ‘‘ کا مفہوم

آیئے پہلے ہم یہ سمجھیں کہ ’’صلوٰۃ‘‘ جو قرآن مجید کا اصل لفظ ہے اور ’’نماز‘‘ جو فارسی کا لفظ ہے‘ ان دونوں کے مفاہیم میں بڑا بنیادی فرق ہے. اب یہ ہماری مجبوری ہے کہ چونکہ ہمارے یہاں اسلام جب پہنچا ہے تو فارسی زبان کے حوالے سے پہنچا ہے‘ لہذا اکثر اصطلاحاتِ قرآنیہ کا ترجمہ جو اردو میں مستعمل ہے وہ فارسی الاصل ہے. فارسی زبان میں ان الفاظ کا ایک اپنا مفہوم پہلے سے تھا. وہ مفہوم کہیں غیر شعوری طور پر ان اصطلاحات کے اصل مفہوم میں شامل نہیں ہو جانا چاہیے جو قرآن کریم اور ہمارے دین سے مراد ہے. عربی زبان میں ’’ص ل ی‘‘ کا مادہ (root) جس سے یہ لفظ صلوٰۃ بنا ہے‘ اپنے اندر دو بنیادی مفہوم رکھتا ہے. ایک ہے : ’’قُدوم الی الشی ء‘‘ کہ کسی کی طرف بڑھنا‘ کسی چیز کی طرف متوجہ ہونا. گویا کہ صلوٰۃ اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنے اور متوجہ ہونے کا نام ہے. صلوٰۃ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا نام ہے.اسی وجہ سے نبی اکرم نے فرمایا کہ یہ چونکہ مکالمہ و مخاطبۂ الٰہی سے مشرف کرنے والی چیز ہے لہذا یہ حقیقی ایمان کے لیے بمنزلہ ’’معراج‘‘ ہے : اَلصَّلٰوۃُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِیْنَ

یہی لفظ ’’صلوٰۃ‘‘ دعا کے مفہوم میں بھی آتا ہے. جب کوئی شخص کسی سے دعا کرتا ہے تو وہ اس کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوتا ہے.یہی لفظ عنایت و شفقت کے مفہوم میں بھی آتا ہے‘جیسے سورۃ الاحزاب میں وارد ہوا ہے : اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ (آیت : ۵۶’’بے شک اللہ صلوٰۃ بھیجتا ہے اپنے نبی ( ) پر اور اس کے فرشتے بھی‘‘. اسی سورت میں ایک اورجگہ آیا ہے : ہُوَ الَّذِیۡ یُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمۡ وَ مَلٰٓئِکَتُہٗ (آیت ۴۳’’( اے اہل ایمان !اپنے نصیب پر فخر کرو کہ ’’وہ (اللہ) تم پر صلوٰۃ بھیجتا ہے اور اُس کے فرشتے بھی‘‘.اس سے مراد کیا ہے؟ اللہ کی طرف منسوب ہو تو اس کا مفہوم ہو گا اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے عنایت‘ شفقت‘ رحمت ‘ توجہ. فرشتوں کی طرف منسوب ہو کر اس کا مفہوم ہو جائے گا اُن کی طرف سے نبی اکرم اور مؤمنین صادقین کے لیے اللہ کی شفقت‘ عنایت‘ رحمت اور توجہ کے لیے اس کے حضور میں دعا. تو یہ سب باتیں اس لفظ صلوٰۃ کے پہلے بنیادی مفہوم میں شامل ہیں.

آپ میں سے اکثر حضرات کو معلوم ہوگا کہ صلوٰۃ کے آغاز کے لیے حدیث میں سورۃ الانعام کی آیت ۷۹ کے یہ الفاظِ مبارکہ بھی آتے ہیں: اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجۡہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ حَنِیۡفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾ ’’میں نے اپنی توجہ کو مرتکز کر لیا ہے اُس ذات کی طرف( اُس ہستی کی طرف) جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا (اور میں ہر شے سے اپنی توجہ کو ہٹا کراور) یکسو ہو کر (اللہ تعالیٰ کی جناب میں متوجہ ہو رہا ہوں )اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں‘‘. یہ صلوٰۃ کا نقطۂ آغاز ہے.

صلوٰۃ کا یہ جو مفہوم ہے اس کے اعتبار سے یہ بات ذہن میں رکھیے کہ صلوٰۃ یا نماز کا مقصد ذکر الٰہی بنتا ہے. صلوٰۃ میں آپ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں‘ اللہ عزوجل آپ کو یاد آتا ہے. اسی لیے سورۂ طٰہٰ میں فرمایا: 
اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکۡرِیۡ ﴿۱۴﴾ ’’نماز کو قائم کرو‘ صلوٰۃ کو قائم رکھو میری یاد کے لیے‘‘.

اسی لفظ کا دوسرا بنیادی مفہوم ہے : ’’آگ سے حرارت حاصل کرنا‘ تاپنا‘‘. حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے اہل خانہ سے فرمایا تھا : 
اِنِّیۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ؕ سَاٰتِیۡکُمۡ مِّنۡہَا بِخَبَرٍ اَوۡ اٰتِیۡکُمۡ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّکُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴿۷﴾ (النمل) ’’میں نے آگ دیکھی ہے‘ میں اس سے عنقریب کوئی خبر لاؤں گا یا کوئی انگارا لاؤں گا تاکہ تم (سردی سے بچنے کے لیے )تاپ سکو‘‘. اس مفہوم کو بھی مدنظر رکھیے. اس کے حوالے سے حقیقت ِ صلوٰۃ کا یہ پہلو سامنے آنا چاہیے کہ انسان کی روح میں اگر ضعف و اضمحلال پیدا ہو گیا ہو‘ اس پر افسردگی طاری ہو گئی ہو‘ تو اس میں حرارتِ تازہ پیدا کرنے کا ذریعہ صلوٰۃ ہے. جذباتِ ایمانی کے متعلق اگر محسوس ہو کہ ان پر کچھ ٹھنڈ طاری ہے یا اَوس پڑ گئی ہے تو ان جذبات کے اندر از سر نو ایک حرارتِ ایمانی کا پیدا کرنا صلوٰۃ کا مقصد ہے. ان دونوں بنیادی مفاہیم اور ان کے ذیلی مفاہیم کو ذہن میں رکھیے تو صلوٰۃ کا جو اصل مطلوب و مقصود ہے‘ اس کی جو اصل حکمت اور اصل غرض و غایت ہے‘ وہ سامنے آئے گی. یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال نے بڑی خوبصورتی سے توجہ دلائی ہے کہ اگر یہ باطنی کیفیات موجود نہ ہوں تو پھر نماز محض ایک رسم بن کر رہ جاتی ہے‘ اس میں رکوع و سجود تو ہوتا ہے لیکن توجہ اللہ کی طرف ہوتی ہی نہیں. وہ ایک جسمانی مشقت تو ہو جاتی ہے لیکن اس کا جو اصل حاصل ہے اس تک انسان کی رسائی نہیں ہوتی. علامہ کہتے ہیں: ؎ 

شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب! میرا سجود بھی حجاب!

اور: ؎ 
عقل و دل و نگاہ کا مرشدِ اوّلیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بت کدۂ تصورات

توجہ اور انابت الی اللہ کے بغیر فرض عبادات محض رسومات بن کر رہ جاتی ہیں. ان کی ادائیگی کی حیثیت رسم پرستی کی رہ جاتی ہے اور جو اصل حقائق و مقاصد ہیں وہ نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں. جیسے علامہ نے کہا ہے : ؎

رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی

البتہ یہ بات ذہن میں رکھیے کہ اس کیفیت میں بھی یہ نماز فائدے سے بالکل خالی نہیں ہے. ایک شخص نے اگر وقت صرف کیا ہے‘ وہ اپنے کاروبار اور مشغولیات سے نکلا ہے‘ اس نے وضو کیا ہے‘ پھر وہ نیت باندھ کر اللہ کے سامنے کھڑا ہو گیا ہے‘ تو اس نے جو جسمانی مشقت جھیلی ہے آخر اس کا اجر و ثواب تو اسے ملنا چاہیے. یہی وقت وہ کاروبار میں لگاتا‘ یا زندگی کی کسی اور مصروفیت و مشغولیت میں صرف کرتا تو اس سے وہ کوئی منفعت حاصل کرتا. لہذا یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کا کوئی اجر و ثواب نہ ہو. اجر و ثواب تو ملے گا. فرض کی ادائیگی فی نفسہٖ بہت بڑی بات ہے کہ اس نے اللہ کے ایک حکم پر عمل کیا ہے‘ امتثال امر بجا لایا ہے‘ لیکن نماز کے جو اصل مقاصد ہیں وہ اُس وقت تک حاصل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ توجہ‘ انابت‘ خشوع و خضوع اور وہ حضوری ٔقلب کی کیفیت نہ ہو جو مطلوب ہے. علامہ اقبال اس کے متعلق جذبات سے مغلوب ہو کر کہتے ہیں : ؎

تیرا امام بے حضور ‘ تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گذر ‘ ایسے امام سے گذر