ہم اِس وقت سورۃ المؤمنون کی ابتدائی آیات کی ترتیب کے مطابق گفتگو کریں گے. اس میں مُفْلِحِین کا جو دوسرا وصف آیا ہے وہ ’’اِعراض عَنِ اللَّغو‘‘ ہے. لغو کا مفہوم معصیت یا گناہ نہیں ہے‘ بلکہ وہ کام مراد ہے جو خواہ فی نفسہٖ مباح ہو‘ اس کی شریعت میں ممانعت نہ ہو‘ لیکن انسان کو اس کا کوئی فائدہ نہ پہنچتا ہو.قرآن مجید انسان کے وقت کی قدر و قیمت کے معاملہ پر بہت زور دیتا ہے اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ یہی انسان کا اصل سرمایہ اور رأس المال ہے. اس ’’وقت‘‘ ہی سے انسان کو بنانا ہے جو کچھ بھی بنانا ہے اور اس ’’وقت‘‘ ہی میں بننا ہے جو کچھ بھی بننا ہے. لہذا اس وقت کی قدر و قیمت کا احساس ہونا چاہیے. یہ وقت یا تو کسی حقیقی دُنیوی ضرورت کو پورا کرنے میں صرف ہو‘ یا اس کے ذریعے سے آخرت کے لیے کوئی کمائی کی جائے. ہر وہ کام جس سے نہ تو کوئی دُنیوی ضرورت حاصل ہو رہی ہو اور نہ اس کے ذریعے انسان آخرت کے لیے کوئی کمائی کر رہا ہو تو ایسا کام ’’لغو‘‘ شمار ہو گا ‘ خواہ وہ ممنوعات کی فہرست میں شامل نہ ہو‘ وہ حرام و ناجائز نہ ہو‘ وہ معصیت اور گناہ نہ ہو. اس حقیقت کو نبی اکرم نے بایں الفاظ بیان فرمایا: مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہٗ مَا لَا یَعْنِیْہٖ 
یعنی انسان کے دین اور اسلام کے حسن و خوبی میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ وہ ہر اُس چیز کو ترک کر دے جو لایعنی ہو‘ جس کا اسے کوئی فائدہ نہ پہنچ رہا ہو. تو ہرلایعنی اور غیر مفید کام کو چھوڑ دینا ’’اعراض عن اللّغو‘‘ ہے.

اب آپ غور کیجیے کہ اصل میں اس کا گہرا تعلق ہمارے تصورِ حیات سے ہے. اگر کوئی شخص دنیا کی زندگی کے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ بس یہی کُل زندگی ہے‘ کوئی بعثِ بعد الموت اور آخرت نہیں‘ کوئی جزا و سزا نہیں‘ پھر تو ظاہر بات ہے کہ اپنی معاشی ضروریات سے جو وقت بھی بچ رہا ہو گا وہ اس کا کوئی مصرف تلاش کرے گا کہ کوئی 
hobby اور مشغلہ ہو‘کوئی amusement اور تفریح ہو‘ وقت گذاری (to pass time) کے لیے کوئی شغل ہو. لیکن اُس شخص کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے جسے اس بات کا یقین ہے کہ دراصل اس دنیا کی زندگی توایک دیباچہ اور مقدمہ ہے‘ اصل کتابِ زندگی تو موت کے بعد کھلے گی : وَ اِنَّ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ لَہِیَ الۡحَیَوَانُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۴﴾ (العنکبوت) ’’اصل گھر تو آخرت کا گھر ہے(زندگی تو آخرت کی زندگی ہے)‘ کاش انہیں معلوم ہوتا!‘‘ نبی اکرم کی بڑی پیاری حدیث ہے جس میں آپ نے وہ نتیجہ بیان فرما دیا جو اس حقیقت کے انکشاف سے برآمد ہوتا ہے. فرمایا الصادق والمصدوق  نے: اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ اْلآخِرَۃِ ’’دنیا آخرت کی کھیتی ہے‘‘. یہاں بوؤ گے تو وہاں کاٹو گے.ظاہر بات ہے کہ دنیا کے بارے میں یہ حقیقت منکشف ہونے کے بعد اب اس دنیا کی زندگی کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہو گیا. ہمیں اس میں بونا ہے تاکہ اسے ہم آخرت میں کاٹ سکیں. لہذا جس کے دل میں یہ ایمان بالآخرۃ ہو گا وہ اپنے وقت کی جس طرح قدر و قیمت کا احساس کرے گا ایسا اُس شخص کا معاملہ نہیں ہو سکتا جو آخرت پر یقین نہیں رکھتا. سورۃ العصر جہاں سے ہمارے اس سلسلۂ درس کا آغاز ہوا‘ اس میں ہم نے جو پہلے لفظ پڑھا وہ ہے : وَ الۡعَصۡرِ ۙ﴿۱﴾ ’’زمانہ کی قسم ہے‘‘. یہ زمانہ تیزی سے گذرا جا رہا ہے. یہی تمہارا رأس المال ہے. اس کے بارے میں ایک مفسر نے بڑی عبرت انگیز مثال پیش کی ہے کہ برف کا ایک تاجر چلّاتا ہے کہ لوگو! رحم کرو! اگر میرا یہ برف فروخت نہ ہوا تو میرا جو رأس المال ہے وہ پگھل جائے گا. میں یہ بات ہنری ورڈز ورتھ کی ایک نظم ’’ Psalm of life‘‘ کے حوالے سے بیان کیا کرتا ہوں جس میں شاعر نے اس حقیقت کی بڑی خوبصورتی سے عکاسی کی ہے :

Art is long and time is fleeting
And our hearts though stout and brave
Still, like muffled drums are beating
Funeral marches to the grave 

اس وقت کی قدر کرو‘ یہ بڑی تیزی سے گذر رہا ہے. اور جس طرح کسی اہم فوجی شخصیت کا جنازہ ڈھول کی ہر ضرب کے ساتھ قبر سے نزدیک تر ہوتا جاتا ہے اسی طرح ہمارے دل کی ہر دھڑکن گویا ہمیں ہماری قبر سے قریب تر کر رہی ہے.

یہ احساس اگر سامنے ہو تو معلوم ہوگا کہ وقت کی کیا قدر و قیمت ہے! لہٰذا یہاں تعمیر سیرت کے ذیل میں جو دوسرا وصف بیان ہوا وہ ہے 
’’اِعراض عن اللَّغو‘‘ اور اس پر سورۃ المعارج کے ان الفاظ سے روشنی پڑی : وَ الَّذِیۡنَ یُصَدِّقُوۡنَ بِیَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿۪ۙ۲۶﴾ ’’وہ لوگ جو روزِ جزا کی تصدیق کرتے ہیں‘‘.قیامت کے دن کو مانتے ہیں : وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّہِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ ﴿ۚ۲۷﴾ ’’اور وہ لوگ جو اپنے ربّ کے عذاب (کے خیال) سے لرزاں وترساں رہتے ہیں‘‘. اور واقعہ یہ ہے کہ : اِنَّ عَذَابَ رَبِّہِمۡ غَیۡرُ مَاۡمُوۡنٍ ﴿۲۸﴾ ’’بے شک ان کے ربّ کا عذاب چیز ہی ایسی ہے جس سے بے خوف (اور نچنت) ہوا ہی نہیں جا سکتا‘‘.