جنسی جذبہ پر قابو رکھنا

اب ہم سورۃ المؤمنون کی آیات ۵ تا ۷ پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں. یہ تینوں آیات بعینہ انہی الفاظ میں سورۃ المعارج (آیات ۲۹ تا ۳۱) میں بھی وارد ہوئی ہیں. 

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِفُرُوۡجِہِمۡ حٰفِظُوۡنَ ۙ﴿۵﴾اِلَّا عَلٰۤی اَزۡوَاجِہِمۡ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَاِنَّہُمۡ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿۶﴾فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡعٰدُوۡنَ ۚ﴿۷﴾ 
’’اور وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں. سوائے اپنی بیویوں اور باندیوں کے‘ پس (ان کے معاملہ میں) ان پر کوئی ملامت نہیں. پھر جو کوئی اس سے تجاوز کرے گا تو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے‘‘. 

تعمیر سیرت کے جس قرآنی پروگرام کا ہم سورۃ المؤمنون کی ابتدائی گیارہ آیات اور سورۃ المعارج کی آیات ۱۹ تا ۳۵ کے حوالہ سے مطالعہ کر رہے ہیں اس میں چوتھا وصف یا اس کا چوتھا جزو جنسی جذبہ پر قابو رکھنا ہے. یہ بات اپنی جگہ اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ انسان میں جو مختلف قسم کے حیوانی میلانات اور داعیات ہیں ان میں سے ایک اہم میلان جنسی جذبہ بھی ہے. انسان کا پیٹ کھانے کو مانگتا ہے‘ اس سے اس کی اپنی زندگی کا تسلسل وابستہ ہے. اسی طرح تمام حیوانات میں اپنے نسلی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے فاطر فطرت نے جنسی جذبہ ودیعت کیا ہے. اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دورِجدید کے ایک بہت بڑے ماہر نفسیات فرائڈ نے جنسی جذبہ کو انسان کے محرکاتِ عمل میں سب سے زیادہ قوی جذبہ قرار دیا ہے. ہم اگرچہ اس کو تسلیم نہیں کرتے‘ ہمارے نزدیک یہ اس کا مغالطہ ہے‘ اس کی نگاہ میں ایک چیز بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے. اور انسانی فکر کا یہ خاصہ ہے کہ بسا اوقات کوئی ایک چیز انسان کے ذہن پر اس طرح مسلط ہو جاتی ہے کہ باقی تمام چیزیں اسے اس کے تابع نظرآنے لگتی ہیں. یہی معاملہ فرائڈ کے ساتھ بھی ہوا ہے. لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی جگہ پر جنسی داعیہ ایک بہت بڑا محرک اور نہایت قوی جذبہ ہے.

اس ضمن میں اگر ہم تاریخ انسانی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں انسانوں میں افراط و تفریط کی دو انتہائیں نظر آتی ہیں. ایک طرف انسان نے اس جذبہ کو فی نفسہٖ شر قرار دیا کہ یہ ہے ہی سرتاسر برائی‘ یہ برائیوں کی ماں ہے. اسی لیے ہمیں ایک بہت بڑے طبقہ میں یہ خیال ملے گا کہ جنسی جذبہ فی نفسہٖ شر ہے. یہی وجہ ہے کہ کئی مذاہب میں روحانی ترقی کا راستہ تجرد کی زندگی کے ذریعے سے اختیار کیا گیا کہ ساری عمر شادی بیاہ نہ کیا جائے‘ گھر گرہستی کا کھکھیڑ نہ پالا جائے‘ اس لیے کہ یہ راستہ ہے ہی برائی کا‘ اس میں کوئی خیر ہے ہی نہیں. یہ رہبانیت کا نظریہ ہے جو دنیا میں مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے رائج رہا ہے. 

اس ضمن میں دوسری انتہا یہ ہوئی کہ اپنے اس جنسی جذبہ کی آزاد اور بے قید طریق سے تسکین کرنا‘ اس میں حلال و حرام کی کوئی تمیز نہ کرنا اور صحیح و غلط کے فرق و امتیاز کو ملحوظ نہ رکھنا جیسے خیالات کو روا رکھا گیا. بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر نوعِ انسانی جن بہت بڑی بڑی گمراہیوں میں مبتلا ہوئی ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ جذبہ pervert ہو کر‘ یعنی کج رو ہو کر فطرت کی جو ایک معین راہ ہے اس کی بجائے دوسرے راستے اختیار کرتا ہے .تو تاریخ انسانی میں یہ دو انتہائیں ہمیشہ موجود رہی ہیں.

ان آیات میں قرآن مجید کا جو متوازن بیان ہمارے سامنے آتا ہے اس کے متعلق یہ بات اہم ہے کہ تین تین آیات دونوں مقامات پر (سورۃ المؤمنون اور سورۃ المعارج میں) اس شان سے وارد ہوئی ہیں کہ ایک شوشے تک کا فرق نہیں ہے‘ اور جیسا کہ ہم آخر میں دیکھیں گے کہ یہاں سات اوصاف زیربحث آئے ہیں جن میں سے تین پہلے ہیں‘ تین بعد میں ہیں‘ مرکزی 
بحث یہی ہے. پھر اس مسئلہ پر دونوں مقامات پر تین تین آیات وقف کی گئی ہیں. تو اس سے اس مسئلہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے.

ان آیات میں ہمارے سامنے جو متوازن بات آتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر قانونِ شریعت کے دائرہ میں رہ کر حلال پر اکتفا کرتے ہوئے ایک انسان اپنے فطری جذبہ کی تسکین حاصل کرتا ہے تو فرمایا گیا: فَاِنَّہُمۡ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ کہ اس میں کوئی ملامت کی بات نہیں ہے‘ اس میں فی نفسہٖ کوئی برائی نہیں ہے. بلکہ رسول اللہ نے تو صاف طورپر فرمایا: لاَ رَہْبَانِیَّۃَ فِی الْاِسْلَامِ ’’اسلام میں رہبانیت بالکل نہیں ہے‘‘. اس کے برعکس آپ نے فرمایا: اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِیْ نکاح کرنا(شادی بیاہ کرنا‘ گھر گرہستی کی زندگی اختیار کرنا )میرا طریقہ ہے‘‘. یہ میری سنتوں میں سے ایک سنت ہے. لہذا تعمیر سیرت اور اخلاقی ترفع حاصل کرنے کے لیے ترکِ دنیا والی روش اسلام کی روش نہیں ہے‘ وہ محمدٌ رسول اللہ کی سنت نہیں ہے. وہ آپ کا طریقہ نہیں ہے.

لیکن دوسری طرف اس کے لیے حد بندیاں کر دی گئیں. دوسرے ناجائز راستے بند کر کے نکاح کا جائز راستہ کھول دیا گیا کہ اس راستہ سے انسان اپنے جذبہ کی تسکین حاصل کرے. اس کے لیے حدیث میں یہاں تک فرمایا گیا کہ ایک بندۂ مؤمن کے لیے یہ عمل بھی عبادت کا ایک جزو بن جاتا ہے‘ جبکہ یہ فعل اس قاعدہ‘ اس ضابطہ اور قانون کے تابع رہ کر ہو رہا ہو جو اللہ نے اس کے لیے معین فرما دیا ہے.