اسلام میں مِلک یمین کی حیثیت

ان آیات میں ضمنی طور پر ایک مسئلہ ایسا بھی سامنے آیا ہے جس کے بارے میں بہت سے سوالات ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں. ایک یہ کہ جنسی جذبہ کی تسکین کے لیے جو قانونی راہ ہے اس کو بیان کرتے ہوئے قرآن مجید دونوں مقامات پر اِلَّا عَلٰۤی اَزۡوَاجِہِمۡ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ کے الفاظ استعمال کر رہا ہے. یعنی بیویوں کا ذکر بھی ہے اور باندیوں یا لونڈیوں کا بھی. یہ معاملہ بہت پیچیدہ بھی ہے اور بڑا تفصیل طلب بھی.میں چاہتا ہوں کہ اس ضمن میں چند باتیں اچھی طرح ذہن نشین کر لی جائیں تو اِن شاء اللہ تمام اشکالات رفع ہو جائیں گے.
پہلی بات یہ ہے کہ لونڈیوں یا غلاموں کا ادارہ 
(institution) اسلام کے اپنے نظام کا کوئی جزوِ لازم نہیں ہے. لونڈی یا غلام رکھنا فرائض میں سے ہے نہ واجبات میں سے.

دوسری بات یہ کہ جس وقت قرآن مجید نازل ہوا اور محمدٌ رسول اللہ کی بعثتِ مبارکہ ہوئی تو معاشرے میں یہ ادارہ بالفعل موجود تھا‘ اور جیسے بہت سی دوسری چیزیں ایسی تھیں جو اصلاح طلب تھیں ویسے ہی یہ ادارہ بھی اصلاح طلب ادارہ کی حیثیت سے موجود تھا. جس طرح اسلام نے دوسری چیزوں میں اپنے اصلاحی پروگرام کو تدریجی طور پر آگے بڑھایا ایسے ہی اس معاملہ میں بھی اسلام نے بہت سی اصلاحات نافذ کیں اور نبی اکرم نے ان کا اجراء فرمایا. سب سے پہلی اصلاح یہ ہوئی کہ یہ بات بار بار فرمائی گئی کہ یہ لونڈی غلام تمہارے ہی بھائی بند ہیں. یہ صرف ایک relationship ہے جو دنیا میں تمہارے اور اِن کے مابین قائم ہو گئی ہے‘ جیسے ایک آجر (employer) ہے اور ایک مستاجر (employee) ہے لیکن بحیثیت انسان دونوں برابر ہیں. پس اگر یہ اونچ نیچ کہیں چلی آرہی ہے کہ کوئی آقا ہے اور کوئی غلام ہے تو بحیثیت انسان وہ مساوی ہیں. لہذا آنحضور نے فرمایا کہ جو کچھ تم خود کھاتے ہو اپنے غلاموں کو وہی کچھ کھلاؤ‘ اور جو کچھ تم خود پہنتے ہو وہی ان کو پہناؤ. ان کے ساتھ محبت‘ شفقت اور حسنِ سلوک رکھو. ایک طرف تو یہ اخلاقی تعلیم ہے جس کے ذریعہ سے ان کی تألیف قلبی کی گئی. یعنی وہ انسان جو گرے ہوئے تھے‘ دبے ہوئے تھے‘ پسے ہوئے تھے‘ نبی اکرم نے ان کو اس حالت سے اٹھا کر آزاد انسانوں کے برابر لانے کی کوشش فرمائی. اس کی دشمن بھی گواہی دیتے ہیں . ایچ جی ویلز‘ جو رسول اللہ سے بہت دشمنی رکھتا ہے‘ وہ بھی گواہی دیتا ہے کہ محمد ( ) نے یہ پروگرام واقعتا روبعمل لا کر دکھایا. تیسری بات یہ کہ اسلام نے ان کی آزادی کا ایک راستہ کھول دیا. چنانچہ قرآن مجید میں مکاتبت کا حکم آیا .یعنی اگر کوئی غلام اپنے آقا سے یہ معاہدہ کر لے کہ میں اتنی رقم (اپنی آزادی کی قیمت کے طور پر) تمہیں ادا کر دوں گا تو اس آقا کو ازروئے شریعت پابند کیا گیا ہے کہ وہ اس غلام کے ساتھ معاہدہ کرلے. اب وہ غلام محنت کرے‘ کمائی کرے اور طے شدہ رقم اپنے آقا کو دے دے تو وہ آزاد ہو جائے گا. اس معاملے میں کوئی آقا انکار نہیں کر سکتا کہ میں تمہارے ساتھ یہ معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں. ان کی آزادی کے لیے پہلی شکل یہ اختیار کی گئی. چنانچہ فرمایا گیا: وَ الَّذِیۡنَ یَبۡتَغُوۡنَ الۡکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ فَکَاتِبُوۡہُمۡ .... (النور:۳۳’’اور تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتبت کی درخواست کریں تو اُن سے مکاتبت کر لو…‘‘ فَکَاتِبُوۡہُمۡ فعل امر ہے اور امر وجوب کے لیے بھی آتا ہے. پھر تمام مسلمانوں حتیٰ کہ ان کے آقاؤں کو بھی تلقین کی گئی کہ تم اس معاملے میں ان کے ساتھ تعاون کرو اور صدقہ و خیرات سے ان کی مدد کرو. چنانچہ اسی آیت میں جس میں مکاتبت کے لیے حکم آیا ہے‘ آگے چل کر فرمایا: وَّ اٰتُوۡہُمۡ مِّنۡ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیۡۤ اٰتٰىکُمۡ ؕ ’’اور دو اُن کو اللہ کے مال میں سے جو اُس نے تم کو دیا ہے‘‘. یہاں یہ نکتہ بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ انسان کے پاس جو مال ہے اس کی ملکیتِ حقیقی کی نسبت اللہ تعالیٰ اپنی طرف فرما رہا ہے. یہ دوسری شکل ہے جو قرآن مجید نے اختیار کی. اس طرح ان کی تألیفِ قلبی‘ ان کے رتبہ کی بلندی اور اُن کی آزادی کی راہ نکلی.

پھر آپ کو یاد ہو گا کہ مطالعۂ قرآن حکیم کے اس منتخب نصاب کے دوسرے سبق میں ہم نے حقیقی نیکی کو سمجھنے کے لیے سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۷۷ کا مطالعہ کیا تھا‘ جسے میں ’’آیت البر‘‘سے تعبیر کیا کرتا ہوں. وہاں گردن چھڑانے یعنی غلاموں کی آزادی کے عمل کو اعلیٰ ترین نیکی کے کاموں میں شمار کیا گیاہے. پھر سورۃ التوبہ کی آیت ۶۰ میں صدقاتِ واجبہ یعنی زکوٰۃ کے مستحقین کی جو آٹھ مدّات مقرر فرمائی گئی ہیں ان میں بھی گردن چھڑانے یعنی غلاموں کی آزادی کے لیے زکوٰۃ سے رقم ادا کرنے کی مدّ بھی شامل ہے. مزید یہ کہ سورۃ البلد میں بڑے پیارے انداز میں غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب دی گئی ہے. فرمایا : فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَۃَ ﴿۫ۖ۱۱﴾وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡعَقَبَۃُ ﴿ؕ۱۲﴾ ’’انسان گھاٹی کو عبور نہیں کرپایا اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ گھاٹی کون سی ہے!‘‘ اس گھاٹی کی جب تفصیل بیان کی گئی تو سب سے پہلے ذکر ہوا : فَکُّ رَقَبَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾ ’’کسی گردن کو آزاد کرا دینا‘‘. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دفتر فضائل کا ایک درخشاں باب یہ بھی ہے کہ آپؓ نے غلاموں اور کنیزوں کے طبقے میں سے اسلام قبول کرنے والے چھ مسلمانوں کو‘ جن میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں‘ ایک خطیر رقم دے کر خریدا اور اُن کو آزاد کیا.حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ میں جس روز سے ایمان لایا ہوں (اور اندازہ کیجیے کہ آپؓ سابقون الاوّلون میں سے ہیں‘ ایمان لانے والوں میں آپؓ کا چھٹا نمبر ہے) اس روز کے بعد سے کوئی جمعہ مجھ پر ایسا نہیں گذرا کہ میں نے ایک غلام آزاد نہ کیا ہو‘ اور اگر اتفاقاً کسی جمعہ کو میرے لیے یہ ممکن نہ ہوا تو اگلے جمعہ کو میں نے دو غلام آزاد کیے یا کرائے.پھرشریعت کے احکام کی بعض فروگزاشتوں کے کفارہ کے طور پر ایک غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا یا کرانا قرار دیاگیا.تو یہ ہیں وہ تدابیر جو اسلام نے اس مسئلہ کی اصلاح کے لیے اختیار کیں.

اس تیسری بات کے ضمن میں یہ بات بہت اہم ہے کہ اسلام نے اس بات کو سب سے بڑے گناہوں یعنی کبائر میں سے قرار دیا ہے کہ کسی آزاد انسان کو پکڑ کر غلام بنا لیا جائے.اسلام میں صرف اُن لوگوں کو غلام اور لونڈی بنایا گیا ہے جو خالص قتال فی سبیل اللہ کے نتیجہ میں محاذ جنگ پر گرفتار ہوتے تھے . ان کو کبھی فدیہ لے کر‘ کبھی بطورِ احسان اور کبھی مسلمان قیدیوں کے تبادلہ میں رہا کر دیا جاتا تھا. اگر اُن میں سے کوئی صورت مصالح دینی کے لحاظ سے مناسب نہ ہو تو ان کو مسلمان معاشرہ میں تقسیم کر دیا جاتا تھا اور اسلام نے ان کے لیے حسن سلوک کی اعلیٰ اخلاقی تعلیمات دی ہیں.

اِس وقت دنیا میں جو سب سے زیادہ متمدن اور مہذب ترین مملکت کہلاتی ہے‘ یعنی امریکہ‘ اس میں جو کالے ہیں وہ بھلا کون ہیں؟ انہیں افریقہ سے اس طرح پکڑ کر جس طرح شکاری گھات لگا کر شکار کو زندہ پکڑتے ہیں‘ جہازوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح لاد کر بطورِ غلام امریکہ لے جایا گیا. وہاں ان کی خرید و فروخت ہوتی تھی‘ حالانکہ وہ اپنے ملک کے آزاد باشندے تھے. اگرچہ یہ ماننا پڑے گا کہ بعد میں امریکی سوسائٹی نے کسی حد تک اپنے آباء و اَجداد کے اس جرم کی تلافی کرنے کی کوشش کی ہے. اس ضمن میں ابراہام لنکن کی عظمت تسلیم کی جانی چاہیے .لیکن امریکی ذہناً اب بھی کالوں کو اپنے برابر سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں. نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ تاریخ میں یہ کچھ بھی ہوا ہے‘ اور اُن لوگوں نے کیا ہے جو صدیوں سے بڑے متمدن اور مہذب ہونے کے مدعی چلے آ رہے ہیں‘ جبکہ اسلام نے اس کو ایک بہت بڑا گناہ قرار دیا ہے کہ آپ کسی آزاد کو پکڑ کر غلام بنا لیں.

اب میں چوتھی بات یہ عرض کروں گا کہ اپنی جگہ یہ حقیقت ہے کہ غلامی کی قطعی و حتمی منسوخی 
(final abolition) کی کوئی آیت قرآن مجید میں موجود نہیں ہے. جیسے کہ ہم شراب کے بارے میں دیکھتے ہیں کہ ابتدا میں حکم آیا کہ نشہ کی حالت میں نماز نہ پڑھو. تدریجاً اصلاح کا قدم اٹھایا گیا‘ اور بالآخر وہ وقت آ گیا کہ فرمایا گیا: فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ ﴿۹۱﴾ ’’پس کیا تم (اس سے)باز آتے ہو کہ نہیں؟‘‘ اور: فَاجۡتَنِبُوۡہُ ’’تواب اس سے باز آ جاؤ‘‘.اسی طرح کی سب سے پہلے سورۃ الروم میں اخلاقی سطح پر مذمت کی گئی. پھر سورۂ آل عمران میں سود در سود سے منع کیا گیا. پھر حرمت کی آخری آیت ۹ھ میں رسول اللہ کے انتقال سے کچھ عرصہ قبل نازل ہو گئی‘ جو سورۃ البقرۃ میں ہے اور جس میں ہر نوع کا سود حرامِ مطلق قرار دیا گیا. لیکن غلاموں اور لونڈیوں کے بارے میں اس نوعیت کا کوئی حکم قرآن مجید میں نہیں ہے. یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں یہ ادارہ کچھ عرصہ تک چلتا رہا ہے.

اب آپ یہ ہدایات پیشِ نظر رکھیے کہ جو خود کھاؤ وہی انہیں کھلاؤ‘ جو خود پہنو وہی ان کو پہناؤ اور اُن کے ساتھ حسن سلوک کرو. پھر یہ کہ ان کی گردنوں کو چھڑانے کے لیے اخلاقی تعلیمات بھی موجود ہوں‘ جیسے 
فَکُّ رَقَبَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾ (البلد) اور صدقاتِ واجبہ اور صدقاتِ نافلہ میں گردنیں چھڑانے کی مستقل مدّ رکھ دی گئی ہو تو ان اسلامی تدابیر کا نتیجہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ عالمِ اسلام میں وہ دَور بھی آیا کہ مشرق و مغرب میں عظیم ترین مملکتیں ان کی تھیں جن کو ممالیک اور غلام کہتے ہیں. ہندوستان میں جو خاندانِ غلاماں حکمران تھا اور مصر میں جو ممالیک کی حکومت تھی تو یہ اُس اصلاحی عمل (reform) کا نتیجہ ہے جس کا آغاز رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ غلاموں کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا. غلامی سے اٹھا کر شہنشاہی تک پہنچا دیا. دنیا نے دیکھ لیا کہ غلام تخت ہند پر متمکن ہے. وہ چاہے قطب الدین ایبک ہو یا شمس الدین التمش جیسا درویش صفت اور ولی اللہ بادشاہ ہو. اسی طرح آپ کو دَورِ خلفائے راشدینؓ ‘ دَورِ بنو اُمیہ اور دَورِ بنو عباس میں علومِ دین کی مسندوں پر بہت سے ایسے اکابر جلوہ افروز نظر آئیں گے جو آزاد کردہ غلاموں کے طبقہ سے تعلق رکھتے تھے‘ اور جن کی جوتیاں سیدھی کرنا اور اٹھانا بنواُمیہ اور بنوعباس کے باجبروت بادشاہوں کے شہزادگان اپنے لیے بہت بڑی سعادت خیال کرتے تھے.

لیکن بہرحال اگر حکمتِ خداوندی نے اس کی آخری تنسیخ نہیں کی اور کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ قرآن مجید میں کوئی آیت ایسی ہے جو اس ادارہ کو حتمی و قطعی طور پر منسوخ قرار دیتی ہو تو ہمیں بحیثیت مسلمان اللہ تعالیٰ کی حکمت ِ بالغہ پر قطعی طور پر ایمان و اعتماد رکھنا چاہیے.اللہ تعالیٰ بھولنے والا نہیں ہے کہ کہیں معاذ اللہ‘ ثم معاذ اللہ نسیان سے یہ بات رہ گئی ہو. ارشادِ الٰہی ہے: 
وَ مَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا ﴿ۚ۶۴﴾ (مریم) ’’اور تمہارا ربّ بھولنے والا نہیں ہے‘‘. یہ معاذ اللہ کسی بھول چوک سے نہیں ہوا. ہمیں بہرحال اپنے علم سے اللہ کے علم کو مقدم رکھنا ہے. کہاں ہماری عقل اور ہماری منطق! کہاں ہمارے فلسفے! جو انتہائی کوتاہ اور محدود ہیں اور کہاں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں!! تو وہ جو اللہ تعالیٰ کی حکمت ِ بالغہ اور حکمت ِ کاملہ ہے یقینا یہ اسی کا ظہور ہے کہ قرآن مجید میں اس کی آخری درجہ میں تنسیخ نہیں آئی !!