(۳) قیام اللیل کا اہتمام

اس کے بعد فرمایا: وَ الَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمۡ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا ﴿۶۴﴾ ’’اور جو راتیں بسرکرتے ہیں اپنے ربّ کے حضور میں سجدہ کرتے ہوئے اور دست بستہ کھڑے رہ کر‘‘.اب یہاں ایک فوری تقابل (simultaneous contrast) آپ کے سامنے رہے. ہمارے سابقہ درس میں نماز کا ذکر بار بار آیا تھا: قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ﴿۱﴾الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ صَلَاتِہِمۡ خٰشِعُوۡنَ ۙ﴿۲﴾ اور پھر ان اوصاف کا اختتام ان الفاظِ مبارکہ پر ہوا: وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَوٰتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ۘ﴿۹﴾ یعنی ابتدا بھی صلوٰۃ کے ذکر سے اور اختتام بھی صلوٰۃ کے ذکر پر. پہلے صلوٰۃ میں خشوع کا ذکر ہے جو اِس کی باطنی روح ہے اور آخر میں صلوٰۃ کی محافظت اور مداومت کا ذکر ہے. لیکن یہاں رات کی نماز یعنی تہجد کا ذکر ہے. اس لیے کہ ایک مسلمان میں جو بنیادی اوصاف درکار ہیں ‘جن سے تعمیر سیرت کا وہ پروگرام وجود میں آتا ہے جو قرآن مجید دیتا ہے‘اس کی ابتدا و انتہا اقامت الصلوٰۃ یعنی نمازِ پنجگانہ کا اہتمام ہے جو فرض ہے. اس کی پابندی کرنا‘ اس کے تمام آداب اور جملہ شرائط کے ساتھ اس کی ادائیگی کا اہتمام کرنا ضروری ہے. لیکن یہاں بات بالکل دوسری ہے. یہاں تو اس سطح کی گفتگو ہورہی ہے جہاں ایک انسان اللہ تعالیٰ کی محبوبیت کا مقام اور درجہ حاصل کر لے. یہاں جس نماز کا ذکر ہے وہ رات کی تنہائی کی نماز ہے. ارشاد ہو رہا ہے: وَ الَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمۡ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا ﴿۶۴﴾ یعنی اُن کی راتوں کا نقشہ اُن لوگوں کی راتوں کی کیفیت سے بالکل مختلف ہے جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں‘ جو پوری رات پاؤں پھیلا کر سوتے ہیں. ان کو اس غفلت کا احساس تک نہیں ہوتا ‘کیونکہ ان کے دل میں کوئی لگن نہیں ہے‘ ان کے دل میں اللہ کی محبت کا جذبہ نہیں ہے لیکن جن لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت گھر کر چکی ہو اُن کو ان کا وہ جذبۂ محبت رات کے وقت سونے نہیں دیتا. وہ رات کو بار بار اٹھتے ہیں‘ اپنے ربّ کے حضور دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں یا اپنے ربّ کے سامنے سجدہ ریز رہتے ہیں. نبی اکرم کی رات کی نماز کی کیفیات کے متعلق ہمیں روایات میں یہ نقشہ ملتا ہے کہ آپؐ راتوں کو بار بار اٹھتے تھے‘ چونک چونک کر اٹھتے تھے اور آپؐ اپنے ربّ کے سامنے نماز میں دست بستہ کھڑے ہوتے تھے‘ سجدہ ریز ہوتے تھے. بندۂ مؤمن کی شخصیت کے تکمیلی اوصاف میں یہ رات کی نماز یعنی تہجد یا قیام اللیل عظیم ترین اہمیت کی حامل ہے اور اساسی و بنیادی اوصاف میں سب سے زیادہ اہم وصف اقامت الصلوٰۃ ‘ یعنی پنج وقتہ فرض نماز کی پابندی ہے. ظاہر بات ہے کہ جو لوگ رات کے وقت کی اس نماز کی پابندی کر رہے ہوں‘ کیسے ممکن ہے کہ وہ فرض نمازوں کے نظام میں کسی درجہ میں بھی کوتاہی یا غفلت سے کام لیں !!