(۴) عذابِ جہنم سے بچاؤ کی دُعا

اس کے بعد فرمایا کہ اپنے ربّ کے سامنے اس قیام اللیل کے نتیجہ میں جو دعا ان کے دل سے نکل کر زبان پر آتی ہے وہ یہ ہے کہ : رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ ٭ۖ ’’اے ربّ ہمارے! جہنم کی سزا کو ہم سے دُور کر دے (ہمیں اس سے بچا)‘‘. اس میں درحقیقت اس طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ جہاںمخلوق کے سامنے ان کی روش تواضع اور فروتنی کی ہوتی ہے‘ وہاں وہ اپنے ربّ کے سامنے بھی نہایت عاجزی کا انداز اختیار کرتے ہیں. انہیں اپنی نیکی پر کوئی فخر یا غرور نہیں ہوتا. وہ کسی زعم یا گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوتے‘ بلکہ اُن کو ہمیشہ یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ نہ معلوم ہمارے اعمال اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول ہو رہے ہیں یا نہیں! لہذا اُن پر ایک لرزہ طاری رہتا ہے. یہ مضمون اس سے پہلے سورۃ النور کے پانچویں رکوع کی آیات میں آ چکا ہے کہ وہ لوگ اپنے ربّ کے عذاب سے خائف رہتے ہیں‘ لرزاں و ترساں رہتے ہیں چنانچہ ہم کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حالات میں یہ پڑھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک عجیب کیفیت کے عالَم میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ کاش میں گھاس کا ایک تنکا ہوتا جو جلا دیا جاتا ہے اور اس سے کوئی حساب کتاب نہیں ہوگا! کاش میں درختوں پر چہچہانے والی ایک چڑیا ہوتا جو چہچہاتی ہے‘ پھر ختم ہو جاتی ہے‘ لیکن اس سے کوئی محاسبہ نہیں ہوگا! حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ ویسے تو آپؓ کا جسم بہت گٹھا ہوا اور بڑا مضبوط تھا ‘لیکن جب آپؓ نماز میں کھڑے ہوتے تھے توجسم خشیت ِ الٰہی سے نرم پڑ جاتا تھا. ایک مرتبہ آپؓ کے جسم میں ایک تیر پیوست ہو گیا جو نکالے نکل نہیں رہا تھا. آپؓ نے فرمایا کہ مجھے نماز کی نیت باندھ لینے دو‘ اس حالت میں تیر نکال لینا. یہ ہے وہ کیفیت : وَ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ ٭ۖ . اس کے ساتھ ہی فرمایا: اِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا ﴿٭ۖ۶۵﴾ ’’یقینا اس کاعذاب تو چمٹ جانے والی چیز ہے‘‘. یہ عذاب تو جان کو لاگو ہو جانے والا ہے‘ اس سے انسان کو چھٹکارا نہیں ملے گا.

آگے جہنم کے بارے میں الفاظ آئے ہیں : 
اِنَّہَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ﴿۶۶﴾ ’’یقینا وہ مستقر بھی بہت بُرا ہے اور مقام بھی‘‘. عربی زبان میں ’’مستقر‘‘ جائے قرار کو کہتے ہیں جہاں انسان کا مستقل ٹھکانا ہو. اردو میں بھی مستقر اِسی معنی میں مستعمل ہے اور ’’مقام‘‘ کے معنی ہیں قیام کی جگہ. جہاں بھی تھوڑی دیر کے لیے انسان رکتا ہے وہ اُس کا مقام ہے. تو اِن الفاظ کے ذریعے یہ تأثر دیا جا رہا ہے کہ جہنم اتنی بُری جگہ ہے کہ اگر کسی کی مستقل جائے قرار بن جائے تو اس کی بربادی‘ رسوائی اور ہلاکت کا ذکر ہی کیا ہے! یہ تو اتنی بری جگہ ہے کہ اس میں اگر تھوڑی دیر کے لیے بھی قیام ہو تو یہ اپنی تمام ہولناکیاں اور سختیاں پورے طور پر ظاہر کر دے گی. عام طور پر ہمارا یہ تصور ہے کہ کسی اچھی سے اچھی جگہ پر بھی اگر مستقل رہنا پڑے تو اس میں دلچسپی اور رعنائی نہ رہے گی‘ انسان اُکتا جائے گا‘ اور بری سے بری جگہ پر بھی انسان اگر تھوڑی دیر کے لیے چلا جائے تو یہ تبدیلی اس کے لیے تفریح کا ذریعہ بن جائے گی. لیکن یہاں الفاظ ہیں : اِنَّہَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ﴿۶۶﴾ اور اس رکوع کے آخر میں جنت کے بارے میں آیا ہے: حَسُنَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ﴿۷۶﴾. یہ بھی ایک فوری تقابل کے لیے ہے کہ جنت اتنی اچھی جگہ ہے کہ انسان اس میں ہمیشہ کے لیے رہے گا تب بھی اس جنت کی رعنائیوں‘ دل آویزیوں‘ لطافتوں اور دلچسپیوں میں اسے کوئی کمی محسوس نہیں ہوگی‘ انسان اکتائے گا نہیں‘ اور جہنم اتنی بری جگہ ہے کہ ایک لمحہ کے لیے بھی اگر کسی کو اس میں داخل کر دیا جائے تو وہ اپنی ساری شدتیں‘ اپنی ساری غلظتیں ‘ اپنی ساری کلفتیں آنِ واحد میں ظاہر کر دے گی.