عورت کا رُوحانی و اَخلاقی تشخص

ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّ امۡرَاَتَ لُوۡطٍ ؕ کَانَتَا تَحۡتَ عَبۡدَیۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَیۡنِ فَخَانَتٰہُمَا فَلَمۡ یُغۡنِیَا عَنۡہُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا وَّ قِیۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیۡنَ ﴿۱۰﴾وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ ۘ اِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ابۡنِ لِیۡ عِنۡدَکَ بَیۡتًا فِی الۡجَنَّۃِ وَ نَجِّنِیۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَ عَمَلِہٖ وَ نَجِّنِیۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾وَ مَرۡیَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِیۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَہَا فَنَفَخۡنَا فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِنَا وَ صَدَّقَتۡ بِکَلِمٰتِ رَبِّہَا وَ کُتُبِہٖ وَ کَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِیۡنَ ﴿٪۱۲﴾ 
’’اللہ تعالیٰ نے مثال بیان فرمائی ہے کافروں کے لیے نوح اور لوط ( علیہما السلام) کی بیویوں کی. وہ دونوں ہمارے دو نہایت نیک بندوں کے عقد میں تھیں‘ تو انہوں نے ان سے خیانت کی روش اختیار کی‘ تو وہ دونوں ان (اپنی بیویوں) کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے‘ اور یہ کہہ دیا گیا (ان بیویوں سے) کہ تم دونوں داخل ہو جاؤ آگ میں دوسرے داخل ہونے والوں کے ساتھ. اور اللہ تعالیٰ نے مثال بیان فرمائی ہے اہل ایمان کے لیے فرعون کی بیوی کی. جبکہ اس نے کہا اے میرے ربّ! میرے لیے اپنے پاس ایک گھر جنت میں بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے نجات بخش ظالموں کی قوم سے.اور عمران کی بیٹی مریم کی مثال بیان فرمائی ہے جس نے اپنی عصمت کی پوری حفاظت کی توہم نے اس میں اپنی روح میں سے پھونکا اور اس نے تصدیق کی اپنے ربّ کی تمام باتوں کی اور اس کی کتابوں کی اور وہ ہمارے بہت ہی فرمانبردار بندوںمیں سے تھی‘‘.

یہ بات عرض کی جا چکی ہے کہ سورۃ التحریم میں مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی پہلی منزل یعنی مرد اور عورت کے مابین رشتۂ ازدواج کہ جس سے خاندان کے ادارہ کی بنیاد پڑتی ہے‘ کے ضمن میں نہایت اہم اور بنیادی ہدایات ہمارے سامنے آتی ہیں. عائلی زندگی کے بارے میں ایک نہایت اہم مسئلہ یہ ہے کہ عورت کا مقام کیا ہے ! آپ کو معلوم ہے کہ اس ضمن میں اس دنیا میں بہت افراط و تفریط رہی ہے. عورت کو یا تو بالکل بھیڑ بکری کی طرح ایک ملکیت قرار دیا گیا‘ ہمارے ہاں بول چال کے عام محاورے میں اسے جوتی کی نوک سے تعبیر کیا گیا‘ یا پھر اسے بازار میں لا بٹھایا گیا اور کبھی اسے قلوپطرہ کا روپ دھار کر قوموں کی قسمتوں سے کھیلنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا گیا. یہ افراط و 
تفریط ہے جس میں نوع انسانی بالعموم مبتلا رہی ہے. اسلام نے عورت کو ایک مکمل قانونی اور اخلاقی تشخص عطا کیا‘ پھر اس کے دائرۂ عمل اور میدانِ کار کا تعین کیا. اسلام کی رو سے عورت کا ایک علیحدہ قانونی وجود ہے. چنانچہ اس کے قانونی حقوق ہیں. عورت کی اپنی ذاتی ملکیت ہو سکتی ہے اور وہ اپنی اس ملکیت میں تصرف کا کامل اختیار رکھتی ہے. لہذا عام انسانی حقوق کے اعتبار سے مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے.

اس ضمن میں نہایت قابل غور پہلو یہ ہے کہ اسلام نے عورت کو قانونی تشخص دینے کے ساتھ ساتھ اخلاقی تشخص بھی عطا کیا ہے. عورت اگر کوئی نیک کام کرتی ہے تو اس کا اجر و ثواب اُس کے لیے ہے. وہ اس معاملے میں مَردوں کے تابع نہیں ہے. چنانچہ شوہر اپنی بیوی کے نان و نفقہ کا کفیل اور ذمہ دار تو ہے‘ لیکن اس کے دین و اخلاق کا کفیل اور ذمہ دار نہیں ہے. اگر عورت میں نیکی اور بھلائی ہو گی تو وہ اس کے لیے ہے‘ عورت کوئی خیر کمائے گی تو اُس کا صلہ اور اجر و ثواب اسی کو ملے گا. اسی طرح اگر مَرد کوئی نیکی کماتا ہے تو اُس کا اجر و ثواب اسی کے لیے ہے. اس ضمن میں قرآن مجید نے یہ اصل الاصول بیان کیا ہے کہ 
وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾ (النجم) ’’کسی انسان کے لیے نہیں ہے مگر وہی کچھ جس کے لیے اس نے محنت کی ہے‘‘. جس کے لیے اس نے مشقت اور بھاگ دوڑ کی ہے.

پھر یہ کہ انسان ہونے کے ناطے سے مَرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے. چنانچہ سورۂ آل عمران کی آیت ۱۹۵ میں فرمایا گیا: 
اَنِّیۡ لَاۤ اُضِیۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی ۚ بَعۡضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۚ ’’میں تم میں سے کسی بھی عمل کرنے والے کے کسی بھی عمل کو ضائع کرنے والا نہیں ہوں ‘خواہ وہ (عمل کرنے والا) مَرد ہو یا عورت ہو‘ تم ایک دوسرے ہی سے ہو ‘‘. یعنی مرد و عورت کا فرق و تفاوت خواہ جسمانی ہو‘ خواہ نفسیاتی ساخت کے اعتبار سے ہو‘ یہ فرق تو ہم نے تمدنی ضروریات کے تحت رکھا ہے‘ باقی انسان ہونے کے اعتبار سے تم ایک دوسرے ہی سے ہو.

یہی اصول قرآن مجید میں سورۃ النساء کی آیت ۳۲ میں نہایت واضح شکل میں سامنے آتاہے : 
لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبُوۡا ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبۡنَ ؕ ’’مَردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو کمائی انہوں نے کی اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو کمائی انہوں نے کی‘‘.یعنی جو بھلائیاں‘ نیکیاں‘ خیرات اور حسنات مَردوں نے اپنی محنت اور مشقت سے کمائی ہیں‘ ان کا اجر و ثواب ان کے لیے ہے اور جو بھلائیاں اور نیکیاں عورتوں نے کمائی ہیں‘ ان کا اجر و ثواب ان کے لیے ہے. اسی طرح جو برائی اور بدی مَرد کمائے گا اس کا وبال اس پر ہو گا اور جو بدی اور برائی عورت کمائے گی اس کی پاداش اس کو بھگتنی ہو گی.

اس اصول کو سورۃ التحریم کی آخری تین آیات میں تین مثالوں سے واضح کیا گیا ہے کہ خواتین کہیں اس مغالطہ میں نہ رہیں کہ اُن کے شوہر اُن کے دین و اخلاق کے بھی کفیل ہیں اور وہ دین و اخلاق کے معاملہ میں مَردوں کے تابع ہیں. چنانچہ پہلی مثال دو ایسی عورتوں کی پیش کی گئی جن کے شوہر اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر رسول تھے‘ ایک حضرت نوح اور دوسرے حضرت لوط علیہما السلام.ان دونوں کی بیویوں کا ذکر کیا گیا کہ دین کے اعتبار سے ان کا معاملہ درست نہ تھا. انہوں نے اپنے شوہروں کے ساتھ بے وفائی کی تھی. لیکن اس سے یہ ہرگز نہ سمجھ لیا جائے کہ اُن سے لازمی طور پر کوئی اخلاقی لغزش سرزد ہوئی ہو. اپنے شوہروں کے رازوں کا افشا بھی ایک خیانت اور بے وفائی کا عمل ہے. اس لیے کہ سورۃ النساء کی آیت ۳۴ میں جہاں یہ اصل الاصول بیان کیا گیا کہ 
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآء یعنی مرد عورتوں پر نگران اور حاکم ہیں‘ وہاں ایک مثالی (ideal) بیوی کے یہ اوصاف بھی بیان فرمائے گئے ہیں کہ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَیۡبِ ’’پس نیک بیویاں وہ ہیں جو فرمانبرداری کی روش اختیار کریں (اپنے شوہروں کا کہنا مانیں اور ان کے) رازوں کی پوری حفاظت کریں‘‘. ظاہر بات ہے کہ بیوی سے زیادہ مرد کا رازدار اور کون ہو گا! مَرد میں اگر کوئی خامی ہے‘ اگر کسی پہلو سے اس میں کوئی پوشیدہ جسمانی عیب ہے تو اسے اس کی بیوی سے بڑھ کر جاننے والا اور کوئی نہیں. گویا مَرد کی پوری شخصیت عورت کے پاس بطور امانت ہے. راز کوبھی امانت کہا گیا ہے. لہذا اگر شوہر نے کوئی راز کی بات بیوی کو بتائی ہو اور بیوی اس راز کو افشا کر دے تو یہ بھی خیانت ہے. چنانچہ ’’فَخَانَتٰہُمَا‘‘ کے لفظ سے یہ لازمی نتیجہ نکالنا درست نہیں ہے کہ ان دونوں جلیل القدر رسولوں کی بیویاں بدچلن اور بدکار تھیں (معاذ اللہ).قرآن مجید کے اصول کو اگر پیشِ نظر رکھیں تو یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی کہ کسی رسول کے حبالۂ عقد میں کوئی بدچلن اور بدکار عورت ہو. لہذا ان خواتین کا یہ طرزِ عمل کہ وہ درپردہ اپنی کافر قوموں کے ساتھ تھیں اور ان کی ہمدردیاں کفار کے ساتھ تھیں‘ اسے یہاں خیانت سے تعبیر کیا گیاہے.

لیکن یہاں جو اصل بات واضح کرنا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ اگرچہ یہ دونوں عورتیں ہمارے رسولوں کے حبالۂ عقد میں تھیں لیکن چونکہ ان دونوں کے اپنے اعمال درست نہ تھے لہذا ان کا انجام 
کافروں کے ساتھ ہو گا اور رسول کی زوجیت میں ہونا انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے گا. چنانچہ فرمایا گیا : وَّ قِیۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیۡنَ ﴿۱۰﴾ ’’اور ان سے کہہ دیا گیا دوزخ میں داخل ہو جاؤ دوسرے داخل ہونے والوں کے ساتھ‘‘. یہاں ’’قِیْلَ‘‘ فعل ماضی مجہول ہے. قرآن مجید میں جہاں بھی قیامت کے حالات کا ذکر ہوتا ہے وہاں عام طور پر فعل ماضی استعمال ہوتا ہے. اس لیے کہ فعل ماضی میں قطعیت و حتمیت ہوتی ہے کہ کوئی کام ہو چکا. اس کا مطلب یہ ہوا کہ جتنی یقینی بات وہ ہوتی ہے جو وقوع پذیر ہو چکی ہو اتنی ہی یقینی بات قیامت و آخرت کی ہے . لہذا آخرت کے احوال بیان کرتے ہوئے قرآن مجید عام طو رپر ماضی کا صیغہ استعمال کرتا ہے. یہاں جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے‘ ہو سکتا ہے کہ اس میں عالمِ برزخ میں یہ بات کہی جانے کی طرف اشارہ ہو‘ واللہ اعلم بالصواب‘ لیکن یہاں جس حقیقت کی طرف نشاندہی مقصود ہے وہ نبی اکرم کی اس حدیث کے حوالے سے بھی ہمارے سامنے آ چکی ہے کہ آپ  نے اپنی لخت جگر‘ نورِ نظر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا تھا کہ اے فاطمہ! محمد ( ) کی بیٹی! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ‘ اس لیے کہ مجھے تمہارے بارے میں اللہ کے یہاں کوئی اختیار حاصل نہیں ہو گا یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ حضرت نوح اور حضرت لوط ( علیہما السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر آخرت میں اپنی بیویوں کے کام نہ آ سکیں گے. یہ مثال بیان ہوئی ان دو عورتوں کی جو دو بہترین شوہروں کے حبالۂ عقد میں تھیں‘ لیکن چونکہ وہ خود اہل ایمان میں سے نہ تھیں لہذا اُن کے شوہروں کی نیکی اور بزرگی انہیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گی.

اب اس کے برعکس ایک مثال ایک بدترین شخص کے نکاح میں ایک نہایت نیک اور صالحہ خاتون کی آ رہی ہے. فرعون جیسے سرکش و متمرد‘ اللہ کے باغی اور خدائی کے مدعی شخص کے عقد میں حضرت آسیہ رضی اللہ عنہاتھیں. اغلباً یہ وہی خاتون ہیں جنہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو دریا میں بہتے ہوئے صندوق سے نکالا تھا اور فرعون کو آمادہ کر لیا تھا کہ ان کی پرورش وہ خود کریں گی. وہ یقینا بنی اسرائیل کی کوئی مؤمنہ و صالحہ خاتون تھیں جو فرعون کی بیوی تھیں. قرآن مجید کے الفاظ یہ بتا رہے ہیں کہ ان کی نیکی کا یہ عالم تھا کہ فرعون کامحل اور وہاں کی آسائشیں اور سہولتیں نیز وہاں کا آرام گویا ان کو کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا. شوہر کی ضلالت‘ اس کی گمراہی و بے راہ روی اور اس کی بداعمالیوں کی وجہ سے وہ عیش و آرام جو شاہی محل کا جزولاینفک ہوتا ہے‘ ان پر دوبھر تھا. چنانچہ ان کی دعا قرآن نے بایں الفاظ نقل کی ہے: 
رَبِّ ابۡنِ لِیۡ عِنۡدَکَ بَیۡتًا فِی الۡجَنَّۃِ وَ نَجِّنِیۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَ عَمَلِہٖ وَ نَجِّنِیۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾ یعنی پروردگار! مجھے جلد سے جلد فرعون سے‘ ا س کے عمل سے اور ظالم و مشرک قوم سے نجات دے کر اپنے پاس بلا اور اپنے جوارِ رحمت یعنی جنت میں میرے لیے گھر بنا. اس دوسری مثال سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کسی عورت کا شوہر خواہ کتنا ہی بدکردار یا کافر و مشرک ہو‘ اگر وہ عورت خودمؤمنہ اور صالحہ ہے تو اس کا اجر اللہ کے ہاں محفوظ ہے. شوہر کی برائی اسے کچھ نقصان نہ پہنچائے گی.

اب اس ضمن میں تیسری مثال ایک ایسی خاتون کی آ رہی ہے کہ جنہیں ماحول بھی بہترین ملا اور پھر جن کے اپنے اندر بھی نیکی ‘ بھلائی اور حسنات کے بہترین رجحانات اور میلانات بتمام و کمال موجود تھے. گویا وہ 
نُورٌ علٰی نور ٍ کی مثال ہیں پہلی مثال بہترین شوہروں کے گھروں میں بدترین بیویوں کی تھی. دوسری مثال اس کے برعکس ایک بدترین شوہر کے عقد میں ایک بہترین خاتون کی تھی اور اب تیسری مثال حضرت مریم سلامٌ علیہا کی آ رہی ہے‘ جو خود بھی نیک‘ صالحہ اور عبادت گذار تھیں‘ پھر اُن کی والدہ بھی اس قدر نیک تھیں کہ انہوں نے ان کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی ہونے والی اولاد کو اللہ کی نذر کر دیا تھا ‘جس کا ذکر سورۂ آل عمران کی آیت ۳۵ میں بایں الفاظ آیا ہے : رَبِّ اِنِّیۡ نَذَرۡتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطۡنِیۡ مُحَرَّرًا ’’اے میرے ربّ! میں نے تیرے لیے نذر کیا جو کچھ میرے پیٹ میں ہے‘ دنیا کے تمام بکھیڑوں سے اسے چھٹکارا دلاتے ہوئے‘‘.یعنی میں اس کو صرف تیرے دین کی خدمت کے لیے وقف کرنے کا عہد کرتی ہوں. تو یہ خاتون ہیں جن کی آغوش میں حضرت مریم نے پرورش پائی. پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو اُن کا مربی اور کفیل بنایا جو اللہ کے جلیل القدر نبی اور ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) کے مجاور اور نگران بھی تھے اور رشتے میں حضرت مریم کے خالو تھے. تو گویا یہ نُورٌ علٰی نورٍ کا معاملہ ہے.ایک طرف حضرت مریم سلامٌ علیہا کی سیرت اور ان کا کردار ہے جس کی اللہ تعالیٰ مدح فرما رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی عصمت و عفت کی کامل طور پر حفاظت کی. پھر امر واقع یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت بڑی آزمائش سے دوچار فرمایا. ایک نوجوان خاتون جو ناکتخدا ہو‘ جس کی شادی نہ ہوئی ہو اور وہ حاملہ ہو جائے‘ آپ خود سوچئے کہ معاشرہ میں کیسی رسوائی کا سامان ہے جو اُن کے لیے فراہم ہو گیا! اللہ تعالیٰ نے انہیں کس شدید آزمائش میں مبتلا کیا! لیکن اس اللہ کی بندی نے اپنے ربّ کے ہر حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیا وَ صَدَّقَتۡ بِکَلِمٰتِ رَبِّہَا وَ کُتُبِہٖ یہ ان کی زندگی کا نقشہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے تمام احکام کی تعمیل کی.پھر انہوں نے تمام آسمانی کتابوں کی بھی تصدیق کی. اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علومِ دینیہ سے انہیں خصوصئ دلچسپی تھی. آیت کے آخر میں اُن کی مدح ان الفاظ مبارکہ سے فرمائی گئی: وَ کَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِیۡنَ ﴿٪۱۲﴾ ’’اوروہ اللہ کے فرماں برداروں میں سے (ایک بندی) تھی‘‘.
غور کیجئے کہ یہاں تین مثالوں کے ذریعے تین ممکنہ صورتوں کو بیان کر دیا گیا‘ لیکن ایک امکان ابھی باقی ہے. گویا اس عمارت کا ایک کونہ ابھی خالی ہے. بہترین شوہروں کے ہاں بدترین عورتوں کی مثال حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام کی بیویاں ہیں‘ بدترین شوہر کے ہاں بہترین خاتون کی مثال حضرت آسیہ ہیں‘ جبکہ بہترین ماحول میں بہترین خاتون کی مثال حضرت مریم ہیں. اب ایک مثال رہ جاتی ہے کہ شوہر بھی بدترین ہو اور بیوی بھی. گویا 
ظُلُمٰتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ کا نقشہ ہو‘ جسے ہم اپنے محاورہ میں کہتے ہیں کہ کریلا اور پھر نیم چڑھا. اس کی مثال ہمیں قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر ملتی ہے اور وہ ہے سورۃ اللّہب. اس سورۂ مبارکہ میں ابولہب اور اس کی بیوی دونوں کا ذکر ہے:

تَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ وَّ تَبَّ ؕ﴿۱
مَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُ مَالُہٗ وَ مَا کَسَبَ ؕ﴿۲
سَیَصۡلٰی نَارًا ذَاتَ لَہَبٍ ۚ﴿ۖ۳
وَّ امۡرَاَتُہٗ ؕ حَمَّالَۃَ الۡحَطَبِ ۚ﴿۴
فِیۡ جِیۡدِہَا حَبۡلٌ مِّنۡ مَّسَدٍ ٪﴿۵﴾ 

اس سورۂ مبارکہ میں نبی اکرم کے چچا ابولہب اور آپ کی چچی (ابولہب کی بیوی) اُمِّ جمیل کی آنحضور سے عداوت کا بیان ہے اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ان دونوں میں سے کس کو نبی اکرم سے زیادہ عداوت‘ بغض اور دشمنی تھی‘ کیونکہ دونوں ہی ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر آنحضور کی دشمنی‘ عداوت اور ایذا رسانی میں پیش پیش تھے. تو سورۃ اللّہب میں بدترین شوہر اور بدترین بیوی کی مثال موجود ہے. اس طرح یہ کونہ اور گوشہ بھی پُر ہو جاتا ہے کہ شوہر بھی بدترین ہو اور بیوی بھی بدترین ہو تو اس کی صورت کیا ہو گی. چنانچہ ان کے بارے میں اسی دنیا میں جہنم کا فیصلہ سنا دیا گیا.

اب ان چاروں مثالوں کو سامنے رکھ کر جو نتیجہ نکلا وہ یہ ہے کہ عورت کا اپنا ایک ذاتی تشخص ہے. اس معاملہ میں عورت لازماً اپنے شوہر کے تابع نہیں ہے. وہ دینی و اخلاقی طور پر ایک آزادانہ تشخص کی مالک ہے. اس کے اندر اگر بھلائی ‘ نیکی اور خیر ہے تو وہ اسی کے لیے ہے‘ لیکن برائی‘ بدی اور سرکشی ہے تو اس کا وبال بھی اسی پر آئے گا. چونکہ اسلام کے عائلی نظام میں مالی اعتبار سے شوہر بیوی کا کفیل ہوتا ہے لہذا ہمارے ہاں بعض خواتین کو غیر شعوری طور پر یہ مغالطہ لاحق ہو گیا ہے کہ شاید نیک کام کرنا‘ بھلائیاں کمانا اور دین کی خدمت کرنا‘ یہ صرف مَردوں کے کرنے کا کام ہے‘ اور مَرد اگر یہ کام کر لیں تو 
عورتوں کے لیے کفایت کرے گا. اس مغالطہ کی ان آیاتِ مبارکہ کی روشنی میں مکمل اصلاح ہونی چاہیے. اس کے لیے میں پھر وہی الفاظ دہرا رہا ہوں جو سورۃ النساء کی آیت ۳۲ میں آئے کہ: لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبُوۡا ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبۡنَ ’’جو کچھ مَردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جوکچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے!‘‘

وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ ربّ العالمین